عالمی طاقتوں کا کھیل اور پاکستان کا جغرافیہ

تصور کریں کہ ایک انتہائی پرسکون اور مدہم روشنی والے کمرے میں ایک بساط بچھی ہے۔ اس بساط پر رکھے مہرے لکڑی یا ہاتھی دانت کے نہیں، بلکہ ان پر ملکوں کے نام کندہ ہیں۔ ایک مہرے کو آگے بڑھانے کا مطلب ہے کسی خطے میں تیل کی قیمتوں کا آسمان سے باتیں کرنا، اور دوسرے کو پیچھے ہٹانے کا مطلب ہے لاکھوں انسانوں کا بے گھر ہو جانا۔ یہ کوئی فلمی منظر نہیں، بلکہ آج کی وہ تلخ حقیقت ہے جسے ہم اور آپ عالمی سیاست کہتے ہیں۔

جب بھی اس عالمی بساط پر طاقت کے کھیل کا ذکر آتا ہے، تو فوراً امریکہ کے مایہ ناز سٹریٹجسٹ زبیگنیو برزنسکی کا وہ شاہکار تجزیہ ابھرتا ہے جو انہوں نے سرد جنگ کے اختتام پر پیش کیا تھا۔ انہوں نے 1997 میں شائع ہونے والی اپنی شہرہ آفاق کتاب “دی گرینڈ چیس بورڈ” کے صفحہ 31 پر دنیا کے جغرافیائی قلب، یعنی یوریشیا کو اس بساط کا مرکز قرار دیتے ہوئے لکھا تھا کہ یوریشیا دنیا کا سب سے بڑا براعظم ہے اور جغرافیائی طور پر اس کا محور ہے۔ جو طاقت یوریشیا پر کنٹرول حاصل کرے گی، وہ لامحالہ دنیا کی معیشت اور سیاست پر غلبہ پا لے گی۔ عالمی سطح پر بالادستی برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ کوئی بھی حریف طاقت یوریشیا پر قابض نہ ہونے پائے۔

ذرا آج کے حالات پر غور کریں۔ مشرقِ وسطیٰ میں لگی آگ ہو، روس اور یوکرین کے میدانِ جنگ سے اٹھتا دھواں ہو، یا بحیرہ جنوبی چین کی لہروں میں چھپا امریکہ اور چین کا بڑھتا ہوا تصادم؛ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہو رہا۔ یہ اسی یوریشیا کی بساط پر غلبہ پانے کی وہ جنگ ہے جس کی پیشین گوئی دہائیوں پہلے کر دی گئی تھی۔ پاکستان کا جغرافیہ اسے اس بساط کے بالکل درمیان میں کھڑا کرتا ہے، جہاں سے ایک طرف وسطی ایشیا کے بے پناہ وسائل ہیں اور دوسری طرف بحیرہ عرب کا گرم پانی، جو دنیا کی تجارت کا اہم ترین راستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتوں کی نظریں ہمیشہ اس خطے پر مرکوز رہتی ہیں۔

لیکن پچھلے بیس پچیس سالوں میں اس کھیل کے اصول بڑی حد تک بدل چکے ہیں۔ اب دشمن براہ راست سرحدوں پر حملہ کرنے سے گریز کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہاں ہماری پاک فوج سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے اور روایتی جنگ میں اس مٹی کے محافظوں کو شکست دینا ناممکن ہے۔ جدید دور کے اس ابلیسی کھیل میں دشمن کا ہدف یہ ہے کہ سرحدوں کو عبور کیے بغیر ہی ریاست کو اندر سے کمزور کیا جائے۔ معیشت کو نشانہ بنانا، ریاستی اداروں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کرنا، اور فیک نیوز کی یلغار سے عوام کے ذہنوں میں اپنی ہی ریاست اور محافظوں کے خلاف زہر بھرنا آج کا سب سے مہلک ہتھیار ہے۔

اس نئی طرزِ جنگ کو سمجھنے کے لیے ہمیں چینی فوج کے دو سینیئر کرنلز، کیانگ لیانگ اور وانگ ژیانگ سوئی کی 1999 میں لکھی گئی مشہور کتاب “انرسٹکٹڈ وارفیئر” کو دیکھنا ہوگا۔ انہوں نے اس کتاب کے صفحہ 12 پر اس کا جو نقشہ کھینچا تھا، وہ آج کی صورتحال پر مکمل صادق آتا ہے۔ انہوں نے لکھا تھا کہ مستقبل کی جنگ کا پہلا اور بنیادی اصول یہ ہے کہ اس میں کوئی اصول نہیں ہوں گے۔ جنگ اب صرف فوجیوں اور میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ معاشی پابندیاں، ہیکنگ، دہشت گردی، اور میڈیا پروپیگنڈا وہ ہتھیار ہوں گے جو کسی بھی روایتی فوج سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوں گے۔

آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ جنگ کا یہ میدان ہمارے سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا سکرینز تک پھیل چکا ہے۔ اس بات کی مزید تصدیق معروف امریکی دفاعی ماہرین پیٹر ڈبلیو سنگر اور ایمرسن ٹی بروکنگ نے اپنی تہلکہ خیز کتاب “لائک وار: دی ویپنائزیشن آف سوشل میڈیا” میں کی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ کس طرح انٹرنیٹ اب محض معلومات کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ جنگ کا نیا میدان بن چکا ہے جہاں سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر ہونے والے ٹرینڈز، لائکس اور شیئرز بارود کا کام کرتے ہیں۔
دشمن اب ٹینکوں کی بجائے فیک اکاؤنٹس اور بوٹ آرمی کے ذریعے عوام کے ذہنوں کو ہائی جیک کرتا ہے تاکہ ریاست کے اندر بے یقینی اور انتشار پھیلایا جا سکے۔

ہمارے خطے میں یہ صورتحال اور بھی سنگین ہے کیونکہ ہمارا ازلی دشمن بھارت اس ہائبرڈ جنگ کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ اگر ہم قدیم ہندوستانی فلسفی چانکیہ کی مشہور کتاب “ارتھ شاستر” کا مطالعہ کریں، تو اس نے صدیوں پہلے یہ نظریہ دیا تھا کہ سب سے بہترین فتح وہ ہے جو دشمن کی فوج سے براہ راست لڑے بغیر، اس کے اندرونی نظام میں دراڑیں ڈال کر، جھوٹ پھیلا کر اور بغاوت پیدا کر کے حاصل کی جائے۔ آج بھارتی خفیہ ایجنسیاں چانکیہ کے اسی نظریے پر عمل پیرا ہو کر پاکستان کے خلاف ففتھ جنریشن وار لڑ رہی ہیں جس کا بنیادی مقصد پاک فوج اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کر کے قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنا ہے۔
ایسے کڑے وقت میں ہماری مسلح افواج تو ہر محاذ پر، چاہے وہ سیاچن کی برف پوش چوٹیاں ہوں، مغربی سرحدیں ہوں یا انٹیلی جنس کی خاموش جنگ، دشمن کی ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہیں، مگر اس ہائبرڈ اور نفسیاتی جنگ کو مکمل طور پر کچلنے کے لیے پوری قوم کا اپنی فوج کی پشت پر کھڑا ہونا ناگزیر ہے۔

اس عالمی بساط پر ابھر کر سامنے آنے کے لیے ہمیں ایک مضبوط معیشت، جدید ٹیکنالوجی پر دسترس، اور ملک کے اندر مکمل سیاسی استحکام درکار ہے۔ دشمن کا سب سے بڑا خوف ہی یہ ہے کہ اگر یہ قوم، اس کا باشعور نوجوان طبقہ اور اس کے ریاستی ادارے ایک مٹھی بن کر کھڑے ہو گئے تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو زیر نہیں کر سکتی۔ دنیا تیزی سے ایک نئے عالمی آرڈر کی طرف بڑھ رہی ہے، اور اس نازک موڑ پر ہماری قومی یکجہتی، مضبوط دفاع اور دشمن کے بیانیے کو شعور اور حقائق سے شکست دینے کی صلاحیت ہی ہماری بقا اور سلامتی کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں