پیٹرول پمپ مالکان کا حکومتی پالیسیوں پر تشویش کا اظہار، منافع نہ بڑھنے پر کاروبار متاثر ہونے کا خدشہ

صابری پیٹرولیم سروسز کے مالک اور پیٹرولیم ڈیلرز کے نمائندے عمران قادر نے کہا ہے کہ بند کمروں میں بننے والی غیر حقیقت پسندانہ حکومتی پالیسیوں نے پیٹرول پمپ کے کاروبار کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیٹرول پمپ مالکان ڈی ریگولرائزیشن اور ڈیجیٹائزیشن کے خلاف نہیں ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے اس کا ادھورا اور ناقص نفاذ ڈیلرز کا معاشی قتل کر رہا ہے۔ یورپ اور امریکہ کی طرز پر ڈی ریگولرائزیشن کی باتیں کی جاتی ہیں لیکن وہاں نان برانڈڈ پمپس کو کسی بھی آئل مارکیٹنگ کمپنی (OMC) یا ریفائنری سے سستا تیل خریدنے کی آزادی ہوتی ہے، جبکہ اس کے برعکس پاکستان میں پمپ مالکان کے ہاتھ پیر باندھ کر انہیں مخصوص او ایم سیز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اور ڈیلرز کو مارکیٹ سے سستا مال خریدنے کی اجازت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کو ایک ماہ سے کم کر کے اب یومیہ بنیادوں پر لانا سراسر ناانصافی ہے کیونکہ دور دراز علاقوں میں سپلائی پہنچنے میں کئی گھنٹے یا دن لگ جاتے ہیں، اور مال راستے میں ہی ہوتا ہے کہ قیمت گرنے سے ڈیلرز کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے جس کا ازالہ کرنے والا کوئی نہیں ہے۔

عمران قادر نے عوام اور میڈیا میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرتے ہوئے ذخیرہ اندوزی کے الزامات کی سختی سے تردید کی اور بتایا کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں اور کاروبار کی لاگت (Cost of Doing Business) کے باعث مالکان کے پاس اب اتنی سکت ہی نہیں رہی کہ وہ تین سے چار دن سے زیادہ کا اسٹاک رکھ سکیں، جبکہ قانون کے مطابق 21 دن کا اسٹریٹجک اسٹاک رکھنا او ایم سیز کی ذمہ داری ہے جس میں وہ مکمل ناکام نظر آتی ہیں۔ منافع کے حوالے سے حقائق بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا پر دکھایا جانے والا 8.63 روپے فی لیٹر ‘گراس پرافٹ’ اصل منافع نہیں ہے، بلکہ فریٹ، بجلی کے ہوشربا بلوں، ملازمین کی تنخواہوں اور 16 مختلف سرکاری محکموں کے ٹیکسز ادا کرنے کے بعد پمپ مالکان کو بمشکل ڈیڑھ سے ڈھائی روپے فی لیٹر بچت ہوتی ہے۔ 300 سے 500 روپے فی لیٹر کی آئٹم پر محض دو روپے منافع کے ساتھ یہ کاروبار اب کسی صورت قابل عمل نہیں رہا۔

توانائی کے بحران پر بات کرتے ہوئے انہوں نے نشاندہی کی کہ پیٹرول بچانے کے نام پر تعلیمی ادارے تو بند کر دیے جاتے ہیں لیکن افسران اور وزراء 50، 50 گاڑیوں کے شاہانہ پروٹوکول میں گھومتے ہیں۔ اگر حکومت واقعی پیٹرول بچانا چاہتی ہے تو اشرافیہ کی گاڑیوں کے کانوائے ختم کیے جائیں اور سرکاری افسران کو ‘ورک فرام ہوم’ پر منتقل کیا جائے۔ آخر میں عمران قادر نے حکومت اور اوگرا سے پرزور اپیل کی کہ وہ ڈیلرز کے مسائل حل کرنے کے لیے فوری طور پر مذاکرات کا آغاز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے پانچ ماہ کے عالمی بحران کے باوجود ڈیلرز نے عوام کی خاطر ہڑتال نہیں کی لیکن اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے ڈیلرز کی بقا کے لیے فوری اقدامات نہ کیے تو ٹیکسٹائل انڈسٹری کی طرح پیٹرولیم سیکٹر کا کاروبار بھی بند ہونے پر مجبور ہو جائے گا، جس کا براہ راست نقصان ریاست اور عوام کو ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں