ہرمز سے باب المندب تک: دنیا کے دروازے بند، تیل کا بحران سر پر کھڑا ہے!

تحریر: کلب عابد خان
دنیا اس وقت ایک ایسے بحران کے دہانے پر کھڑی ہے جس کا اثر صرف تیل کی قیمت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اگر موجودہ صورتحال طویل ہوتی ہے تو اس کے اثرات معیشت، صنعت، زراعت، بجلی، ٹرانسپورٹ اور عام آدمی کی روزمرہ زندگی تک پہنچ سکتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے پہلے ہی عالمی توانائی کے نظام کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے اور اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر اہم سمندری راستے طویل عرصے تک متاثر رہے تو دنیا کی بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب پوری کیسے ہوگی؟

آبنائے ہرمز اس پوری کہانی کا سب سے اہم کردار بن چکی ہے۔ دنیا کے نقشے پر چند کلومیٹر چوڑی یہ آبی گزرگاہ عالمی معیشت کے لیے کسی شہ رگ سے کم نہیں۔ جنگ سے پہلے یہاں سے روزانہ تقریباً 20 سے 22 ملین بیرل خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات گزرتی تھیں۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 2025 کی آخری سہ ماہی میں یہ مقدار تقریباً 21.6 ملین بیرل یومیہ تھی، لیکن 2026 کی دوسری سہ ماہی میں یہ بہاؤ تقریباً 4.9 ملین بیرل یومیہ تک گر گیا۔ یعنی جس راستے سے دنیا کی توانائی کا ایک بہت بڑا حصہ گزرتا تھا، وہاں سے گزرنے والی مقدار میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرے کا اشارہ ہے۔

اب دوسری طرف چین کو دیکھیے۔ چین دنیا کا سب سے بڑا خام تیل درآمد کرنے والا ملک ہے۔ اس کی صنعتی معیشت، برآمدات، ٹرانسپورٹ اور توانائی کی ضروریات کے لیے تیل انتہائی اہم ہے۔ ایسے حالات میں جب عالمی سپلائی متاثر ہو تو چین جیسے بڑے خریدار کے لیے اپنی توانائی کی ضروریات کو محفوظ بنانا لازمی ہوجاتا ہے۔چین کے پاس اسٹریٹجک تیل کے ذخائر موجود ہیں اور حالیہ برسوں میں اس نے ان ذخائر میں نمایاں اضافہ بھی کیا۔ لیکن اسٹریٹجک ذخائر بھی لامحدود نہیں ہوتے۔ اگر جنگ طویل ہوجائے، عالمی سپلائی متاثر رہے اور چین اپنی صنعت اور معیشت کو چلانے کے لیے مسلسل ذخائر استعمال کرے تو ایک وقت ایسا آسکتا ہے جب بیجنگ کو دوبارہ عالمی مارکیٹ سے زیادہ مقدار میں تیل خریدنے کی ضرورت پڑے۔یہی صورتحال عالمی مارکیٹ کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔

چین کی خام تیل درآمدات پہلے ہی کئی ملین بیرل روزانہ ہیں۔ 2025 میں چین کی اوسط خام تیل درآمدات تقریباً 11.6 ملین بیرل یومیہ رہیں، جبکہ 2026 کی دوسری سہ ماہی میں بھی اس کی درآمدات تقریباً 8.1 ملین بیرل یومیہ کے قریب رہیں۔ لیکن یہاں ایک بات واضح رہنی چاہیے کہ چین ہرمز سے گزرنے والا سارا تیل نہیں خریدتا۔ چین روس، افریقہ، لاطینی امریکہ اور دیگر ذرائع سے بھی خام تیل حاصل کرتا ہے۔ اصل خطرہ یہ ہے کہ اگر عالمی سپلائی کم ہو اور بڑے خریدار اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے اضافی تیل خریدنے لگیں تو محدود سپلائی پر مقابلہ بڑھ جائے گا۔اور جب طلب زیادہ اور رسد کم ہو تو دنیا کی سب سے بڑی کرنسی بھی ایک ہی سوال پوچھتی ہے: تیل کہاں ہے؟یہ سوال صرف ہرمز تک محدود نہیں۔اب نظر ڈالیے باب المندب پر۔

باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملانے والا انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ عالمی توانائی تجارت اور ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان بحری تجارت میں اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی میں باب المندب سے تقریباً 8.1 ملین بیرل یومیہ تیل اور پٹرولیم مصنوعات کا بہاؤ ہوا۔
اگر ہرمز ایک طرف متاثر ہو اور باب المندب دوسری طرف غیر محفوظ ہوجائے تو مسئلہ صرف تیل کی مقدار کا نہیں رہتا، بلکہ جہازوں کے سفر کا وقت، انشورنس، فریٹ اور مجموعی ترسیلی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔
یعنی ایک طرف تیل کم دستیاب ہوگا اور دوسری طرف اسے منزل تک پہنچانا بھی مہنگا ہوجائے گا۔

اس کے بعد سعودی عرب کا معاملہ سامنے آتا ہے۔ سعودی عرب نے ہرمز کو بائی پاس کرنے کے لیے اپنی East-West Pipeline کو ایک اہم متبادل راستے کے طور پر استعمال کیا، جس کے ذریعے مشرقی سعودی عرب کا خام تیل بحیرۂ احمر تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ لیکن اس انفراسٹرکچر کو بھی حالیہ حملوں کے باعث دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔یہی وہ مقام ہے جہاں دنیا کو احساس ہوتا ہے کہ مسئلہ کسی ایک ملک یا ایک سمندری راستے کا نہیں رہا۔ مسئلہ ایک ایسے پورے نظام کا ہے جس میں تیل پیدا کرنے والے ممالک، سمندری راستے، پائپ لائنیں، ریفائنریز، ٹینکرز، انشورنس کمپنیاں اور بڑے خریدار سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
اگر اس نظام کی ایک کڑی متاثر ہو تو دوسری کڑی پر دباؤ بڑھتا ہے، اور اگر کئی کڑیاں بیک وقت متاثر ہوجائیں تو بحران پیدا ہونے لگتا ہے۔آج عالمی مارکیٹ اسی دباؤ کو محسوس کر رہی ہے۔

22 ستمبر 2026 کو Brent خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہی۔ قیمت کا یہ مقام بذات خود کسی حتمی عالمی بحران کا ثبوت نہیں، لیکن موجودہ حالات میں مارکیٹ کی حساسیت ضرور ظاہر کرتا ہے۔ ہر خبر، ہر حملہ، ہر سفارتی بیان اور ہر جہاز کی آمدورفت تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔اب ذرا پاکستان کی طرف واپس آئیے۔پاکستان کے لیے یہ صورتحال انتہائی اہم ہے کیونکہ ہماری معیشت توانائی کی درآمدات پر کافی حد تک انحصار کرتی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل مہنگا ہوگا تو صرف پٹرول مہنگا نہیں ہوگا۔ ڈیزل کی قیمت متاثر ہوگی، ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھیں گے، بجلی پیدا کرنے کی لاگت پر اثر پڑے گا، صنعت کی پیداواری لاگت بڑھے گی، زرعی مشینری اور ٹیوب ویل چلانے کا خرچ بڑھ سکتا ہے اور بالآخر اس کا اثر بازار میں عام استعمال کی اشیاء کی قیمتوں تک پہنچ سکتا ہے۔

ملتان جیسے زرعی اور تجارتی شہر میں اس کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کسان کے لیے ڈیزل صرف ایک پٹرولیم مصنوعات نہیں بلکہ فصل کی تیاری، پانی، مشینری اور نقل و حمل سے جڑا ہوا بنیادی خرچ ہے۔ تاجر کے لیے ٹرانسپورٹ کا کرایہ کاروباری لاگت کا حصہ ہے۔ عام شہری کے لیے موٹر سائیکل یا گاڑی کا پٹرول روزمرہ سفر کا لازمی خرچ ہے۔یعنی عالمی سمندری راستوں پر ہونے والی جنگ کا ایک حصہ بالآخر ملتان کے بازار تک پہنچ سکتا ہے۔لیکن اس بحران کو صرف خوف کی نظر سے دیکھنا بھی درست نہیں ہوگا۔ دنیا کے پاس متبادل ذرائع موجود ہیں۔ بعض ممالک کے پاس اسٹریٹجک ذخائر ہیں، کچھ کے پاس متبادل پائپ لائنیں ہیں، کچھ ممالک غیر روایتی سپلائرز سے تیل حاصل کرسکتے ہیں اور کچھ توانائی کے دوسرے ذرائع کی طرف منتقل ہوسکتے ہیں۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ تمام متبادل فوری طور پر ہرمز کی جگہ نہیں لے سکتے۔

ایک بند یا شدید متاثرہ سمندری راستے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ تیل کا ایک کنواں بند ہوگیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک پورے لاجسٹک نیٹ ورک کو نئے راستے تلاش کرنے پڑتے ہیں۔ جہاز بدلتے ہیں، راستے بدلتے ہیں، انشورنس بدلتی ہے، بندرگاہیں بدلتی ہیں اور قیمت بدل جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ موجودہ بحران میں دنیا کی نظریں صرف تیل پیدا کرنے والے ممالک پر نہیں بلکہ چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا اور یورپ جیسے بڑے خریداروں پر بھی ہیں۔ہر بڑا خریدار اپنی توانائی محفوظ کرنا چاہتا ہے، مگر اگر سب ایک ہی وقت میں زیادہ تیل خریدنے کی کوشش کریں تو عالمی مارکیٹ میں مقابلہ بڑھ سکتا ہے۔یہاں سے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:
اگر تیل موجود ہے مگر اسے محفوظ راستے سے عالمی مارکیٹ تک پہنچانا مشکل ہوجائے تو کیا دنیا اپنی موجودہ رفتار سے چل سکتی ہے؟اس سوال کا جواب آنے والے ہفتے اور مہینے دیں گے۔فی الحال سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ عالمی طاقتیں جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے، سمندری راستوں کو محفوظ بنانے اور توانائی کی عالمی سپلائی کو مستحکم رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کریں۔کیونکہ تیل کا بحران صرف تیل کا بحران نہیں ہوتا۔تیل مہنگا ہوتا ہے تو نقل و حمل مہنگی ہوتی ہے۔نقل و حمل مہنگی ہوتی ہے تو اشیاء مہنگی ہوتی ہیں۔اشیاء مہنگی ہوتی ہیں تو مہنگائی بڑھتی ہے۔اور مہنگائی بڑھتی ہے تو سب سے زیادہ دباؤ عام آدمی پر آتا ہے۔

آج ہرمز، باب المندب اور مشرق وسطیٰ کے نقشے پر نظر آنے والی یہ لکیریں شاید دنیا سے ہزاروں کلومیٹر دور محسوس ہوتی ہوں، مگر ان کے اثرات ہمارے پٹرول پمپ، ہماری منڈی، ہماری فیکٹری، ہمارے کھیت اور ہمارے گھر کے بجٹ تک پہنچ سکتے ہیں۔اس لیے موجودہ صورتحال کو محض ایک جنگ یا چند ممالک کے درمیان تنازع سمجھنا کافی نہیں۔یہ عالمی توانائی کے نظام کا امتحان ہے۔اور اگر ہرمز، باب المندب اور متبادل توانائی کے راستوں پر دباؤ طویل ہوگیا تو دنیا کو ایک ایسے تیل بحران کا سامنا ہوسکتا ہے جس کی قیمت صرف عالمی مارکیٹ نہیں بلکہ ہر ملک کا عام شہری ادا کرے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں