تحریر: فضہ مریم (صحافی)
ایک زمانہ تھا جب موسمیاتی تبدیلی کو صرف ماحولیات کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، مگر آج یہ عالمی سیاست، معیشت، خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے اہم ترین موضوعات میں شمار ہوتی ہے۔ اقوامِ متحدہ، عالمی بینک، جی-20 اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر اب کلائمیٹ چینج محض درجہ حرارت میں اضافے یا بارشوں کے بدلتے ہوئے انداز کا نام نہیں، بلکہ یہ خوراک، پانی، توانائی، ہجرت، تجارت اور امن و استحکام سے جڑا ایک جامع عالمی چیلنج بن چکا ہے۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق دنیا اس وقت تقریباً 1.3 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم ہو چکی ہے، جبکہ گزشتہ ایک دہائی ریکارڈ کی گرم ترین دہائی قرار دی جا چکی ہے۔ اس بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے اثرات صرف موسم تک محدود نہیں رہے بلکہ ریاستوں کے باہمی تعلقات، سفارتی ترجیحات اور سلامتی کے تصورات کو بھی تبدیل کر رہے ہیں۔
پاکستان اس عالمی بحران کا ایک نمایاں مثال ہے۔ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، تاہم جرمن واچ کے کلائمیٹ رسک انڈیکس اور مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ 2022 کے تباہ کن سیلابوں نے تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ افراد کو متاثر کیا جبکہ 2025 میں بھی ملک کے مختلف حصوں میں غیر معمولی بارشوں، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور سیلابی صورتحال نے ایک بار پھر اس خطرے کی شدت کو اجاگر کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے کلائمیٹ چینج کا سب سے بڑا چیلنج پانی ہے۔ ملک میں دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلوں میں واقع سات ہزار سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں جو دریائے سندھ کے نظام کو پانی فراہم کرتے ہیں۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث ان گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کا عمل مستقبل میں پانی کی دستیابی کو متاثر کر سکتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کی تقریباً 80 فیصد زرعی پیداوار براہِ راست دریائے سندھ کے نظام سے وابستہ ہے، اس لیے پانی کا بحران صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ اقتصادی اور قومی سلامتی کا مسئلہ بھی بن چکا ہے۔
اسی تناظر میں آبی سفارت کاری یا “واٹر ڈپلومیسی” کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں پانی کے وسائل پر تنازعات شدت اختیار کر رہے ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ مستقبل کی کئی کشیدگیوں کی بنیاد توانائی نہیں بلکہ پانی ہو سکتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کے انتظام، ڈیموں اور پانی کی تقسیم کے معاملات پہلے ہی حساس نوعیت اختیار کر چکے ہیں۔ ایسے میں موسمیاتی تبدیلی ان خدشات کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
کلائمیٹ چینج کا دوسرا بڑا اثر خوراک اور تجارت پر پڑ رہا ہے۔ جنوبی پنجاب میں آم، سندھ اور پنجاب میں کپاس اور ملک بھر میں گندم اور چاول کی پیداوار غیر متوقع موسمی حالات سے متاثر ہو رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں غیر معمولی آندھیوں، شدید گرمی کی لہروں اور بے وقت بارشوں نے زرعی شعبے کو اربوں روپے کے نقصانات پہنچائے ہیں۔ پاکستان کی برآمدات کا بڑا حصہ ٹیکسٹائل اور زرعی اجناس پر مشتمل ہے، اس لیے موسمیاتی تبدیلی براہِ راست ملکی زرمبادلہ اور معاشی استحکام سے جڑی ہوئی ہے۔
ماحولیاتی ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ کلائمیٹ چینج صرف زمین تک محدود نہیں بلکہ سمندری حیات کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ سمندروں کے درجہ حرارت میں اضافے، تیزابیت میں تبدیلی اور میٹھے پانی کے بہاؤ میں اضافے کے باعث مچھلیوں کی اقسام اور ان کی نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے۔ پاکستان کے ساحلی علاقوں میں ہزاروں خاندانوں کا روزگار ماہی گیری سے وابستہ ہے، اس لیے سمندری ماحولیاتی تبدیلی بھی ایک معاشی اور سماجی چیلنج بن رہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اکیسویں صدی میں “کلائمیٹ ڈپلومیسی” خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون بن چکی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج (UNFCCC) اور سالانہ COP کانفرنسیں دنیا کے ممالک کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں جہاں وہ مشترکہ خطرات پر گفتگو کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی مرتبہ سیاسی اختلافات رکھنے والے ممالک بھی موسمیاتی مسائل پر ایک ہی مؤقف اختیار کرتے نظر آتے ہیں، کیونکہ موسمیاتی تبدیلی سرحدوں کی پابند نہیں۔
COP30 اور دیگر عالمی فورمز پر پاکستان نے بارہا یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ جن ترقی یافتہ ممالک نے صنعتی انقلاب کے بعد سب سے زیادہ کاربن خارج کی، ان پر یہ اخلاقی اور تاریخی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ترقی پذیر ممالک کی مالی اور تکنیکی مدد کریں۔ “کلائمیٹ فنانس” اسی بحث کا ایک اہم حصہ ہے۔ اگرچہ ترقی یافتہ ممالک نے اربوں ڈالر کی معاونت کے وعدے کیے ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق ان وعدوں اور عملی اقدامات کے درمیان اب بھی نمایاں فرق موجود ہے۔ کئی مرتبہ امداد کی بجائے قرضوں کی صورت میں فنڈنگ دی جاتی ہے، جس سے پہلے سے مقروض ممالک پر مزید بوجھ بڑھ جاتا ہے۔
کلائمیٹ چینج کا ایک اور کم زیرِ بحث آنے والا پہلو “کلائمیٹ مائیگریشن” ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق آنے والی دہائیوں میں کروڑوں افراد موسمیاتی وجوہات کی بنا پر نقل مکانی پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ سمندر کی سطح میں اضافہ، خشک سالی، پانی کی قلت اور زرعی زمینوں کی تباہی لاکھوں لوگوں کو اپنے گھروں سے بے دخل کر سکتی ہے۔ بحرالکاہل کے بعض جزیرہ نما ممالک کے بارے میں خدشات موجود ہیں کہ اگر سمندر کی سطح اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو ان کے بعض علاقے رہائش کے قابل نہیں رہیں گے۔ اسی طرح افریقہ اور ایشیا کے کئی خطے پانی اور خوراک کے بحران کے باعث بڑے پیمانے پر ہجرت کا سامنا کر سکتے ہیں۔
بدقسمتی سے موسمیاتی تبدیلی کے گرد سازشی نظریات بھی فروغ پاتے رہتے ہیں۔ کبھی مصنوعی بارشوں، کبھی اولہ باری اور کبھی موسمیاتی ہتھیاروں کے دعوے سامنے آتے ہیں۔ سائنسی تحقیق ضرور جاری ہے اور بعض ممالک محدود پیمانے پر “کلاؤڈ سیڈنگ” کے ذریعے بارش کے امکانات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم موسمیاتی ماہرین کے مطابق کسی ملک یا فرد کے لیے عالمی سطح پر موسم کو اپنی مرضی کے مطابق کنٹرول کرنا فی الحال سائنسی طور پر ممکن نہیں۔ ایسے دعووں کے بجائے اصل توجہ ان حقائق پر ہونی چاہیے جو ہمارے سامنے موجود ہیں: بڑھتا ہوا درجہ حرارت، شدید موسم، خشک سالی، سیلاب اور انسانی زندگی پر ان کے اثرات۔
حقیقت یہ ہے کہ کلائمیٹ چینج اب مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا مسئلہ ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ محض ماحولیات کا سوال نہیں بلکہ بقا، معیشت، خوراک، پانی اور سلامتی کا معاملہ بن چکا ہے۔ اگر دنیا نے اجتماعی طور پر سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلیں ایک ایسے دور میں داخل ہوں گی جہاں جنگیں سرحدوں سے زیادہ وسائل پر لڑی جائیں گی اور سفارت کاری کا مرکز سیاسی مفادات سے زیادہ ماحولیاتی بقا ہوگی۔
موسمیاتی تبدیلی ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے کہ فطرت کے ساتھ تعلق اب صرف ماحولیات کا موضوع نہیں رہا، بلکہ یہی تعلق ریاستوں کے مستقبل، معیشتوں کی مضبوطی اور عالمی امن کا تعین بھی کرے گا۔





