سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کا موبائل چھینا گیا، سوال صرف ایک فون کا نہیں

تحریر: کلب عابد خان

لاہور کے کریم بلاک چوک پر ایک ہفتہ قبل پیش آنے والی موبائل سنیچنگ کی ایک واردات بظاہر چند لمحوں کا واقعہ ہے، مگر اس کے اندر ہمارے شہری تحفظ کے پورے نظام کے لیے کئی بڑے سوالات چھپے ہوئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پنجاب کے ایک انتہائی اہم بیوروکریٹ، سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ، اپنی گاڑی میں سگنل پر موجود تھے کہ تین نوجوانوں نے انتہائی منظم انداز میں ان کی گاڑی کو گھیر لیا۔ایک نوجوان نے مسافر سائیڈ کے شیشے اور سائیڈ مرر کے قریب جا کر ایسی حرکت کی جس سے افسر کی توجہ ایک طرف مبذول ہوئی۔ اسی دوران دوسرے نوجوان نے دوسری جانب کا سائیڈ مرر بند کیا اور تیسرے نے گاڑی کو زور زور سے ہٹ کرنا شروع کردیا۔ جب افسر نے صورتحال سمجھنے کے لیے مسافر سائیڈ کا شیشہ نیچے کیا تو ڈیش بورڈ پر رکھا موبائل فون جھپٹ لیا گیا اور تینوں نوجوان پنجاب یونیورسٹی کی سمت فرار ہوگئے۔

یہ محض موبائل فون چھیننے کی واردات نہیں۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس میں توجہ بھٹکانے، گاڑی کو مختلف اطراف سے گھیرنے اور چند سیکنڈ میں واردات مکمل کرکے فرار ہونے کا طریقہ سامنے آتا ہے۔ اگر یہی طریقہ عام شہریوں کے ساتھ مسلسل استعمال ہو رہا ہے تو ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ شہریوں کو صرف پولیس گشت نہیں بلکہ جدید اور مؤثر نگرانی، فوری رسپانس اور مجرموں کی گرفتاری کا مربوط نظام چاہیے۔اس واقعے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ متاثرہ شخص کوئی عام شہری نہیں بلکہ صوبائی حکومت کا ایک اعلیٰ ترین افسر بتایا جاتا ہے۔ اگر ایک انتہائی اہم سرکاری افسر بھی مصروف شہر، سگنل اور گاڑی میں بیٹھے ہوئے اسٹریٹ کرائم کا نشانہ بن سکتا ہے تو پھر ایک عام شہری جس کے پاس نہ سرکاری پروٹوکول ہے، نہ اعلیٰ پولیس افسر کا براہِ راست نمبر اور نہ ہی کسی ادارے تک فوری رسائی، وہ خود کو کس قدر محفوظ سمجھ سکتا ہے؟یہاں لاہور کی جدید ٹیکنالوجی کا سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے لاہور میں مصنوعی ذہانت، کیمروں اور جدید نگرانی کے ذریعے موبائل سنیچنگ گینگز تک پہنچنے کی کارروائیوں کی مثالیں پیش کی ہیں۔ مارچ 2026 میں لاہور پولیس نے سیف سٹیز کی مدد سے موبائل فون اور نقدی چھیننے والے ایک مبینہ گروہ کی گرفتاری کی اطلاع بھی دی تھی۔

کریم بلاک کے علاقے میں خود سیف سٹیز کے نظام میں نگرانی کے حوالے سے اہم مقامات موجود ہیں، جن میں کریم بلاک مارکیٹ اور پنجاب یونیورسٹی مین گیٹ بھی شامل ہیں۔

تو سوال یہ ہے کہ اگر واردات کے بعد ملزمان پنجاب یونیورسٹی کی سمت گئے تو کیا متعلقہ کیمروں کی فوٹیج فوری طور پر حاصل کرکے ان کا روٹ ٹریس کیا گیا؟ کیا داخلی و خارجی راستوں کی ویڈیوز دیکھی گئیں؟ کیا موٹر سائیکل، چہرے یا لباس کی بنیاد پر مشتبہ افراد کی شناخت کی کوشش ہوئی؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا ایسے واقعات کا ڈیٹا ایک دوسرے سے جوڑ کر منظم گروہوں تک پہنچا جا رہا ہے؟یہ سوال لاہور تک محدود نہیں۔ملتان میرا شہر ہے اور یہاں بھی شہری اسٹریٹ کرائم کے مسئلے سے بے خبر نہیں۔ ملتان پولیس نے 2026 کے پہلے چھ ماہ کی اپنی کارکردگی میں مجموعی جرائم میں 50 فیصد سے زیادہ کمی کا دعویٰ کیا، جبکہ رپورٹ کے مطابق موٹر سائیکل سنیچنگ میں 63 فیصد کمی اور کار سنیچنگ میں 100 فیصد کمی ہوئی۔

دوسری طرف سی سی ڈی ملتان ریجن کی جانب سے بھی سنگین جرائم میں نمایاں کمی کے اعداد و شمار جاری کیے گئے، جن کے مطابق موٹر سائیکل سنیچنگ کے واقعات میں کمی کا دعویٰ کیا گیا۔
یہ اعداد و شمار یقیناً حوصلہ افزا ہیں، لیکن شہری کی نظر سے کامیابی کا اصل پیمانہ صرف فیصد نہیں بلکہ اس کا محفوظ گھر پہنچنا، سڑک پر بلا خوف سفر کرنا، سگنل پر موبائل استعمال کرتے وقت جان و مال کا تحفظ اور واردات کے بعد فوری انصاف ہے۔ملتان میں ماضی قریب میں بھی مختلف علاقوں سے موبائل، نقدی اور دیگر قیمتی اشیا چھیننے کی متعدد وارداتیں رپورٹ ہوتی رہی ہیں۔ حالیہ برسوں میں شہریوں کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی رہا ہے کہ واردات کے بعد انہیں صرف ایف آئی آر یا درخواست نہیں بلکہ عملی پیش رفت چاہیے ہوتی ہے۔

یہاں پولیس کے لیے بھی ایک اہم چیلنج ہے۔ آج کا سنیچر صرف موٹر سائیکل پر سوار ایک شخص نہیں۔ بعض گروہ شہری کی نفسیات، ٹریفک سگنل، گاڑی کے شیشے، موبائل کے استعمال اور فرار کے راستوں کا مشاہدہ کرکے واردات کرتے ہیں۔ ایسے گروہوں کے خلاف روایتی گشت کے ساتھ ڈیٹا اینالیسس، کیمروں کی مسلسل نگرانی، مشتبہ روٹس کی میپنگ اور بین تھانہ و بین ضلعی رابطہ ضروری ہے۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ پولیس ہر شہری کے ساتھ ہر وقت موجود نہیں ہوسکتی۔ لیکن ٹیکنالوجی موجود ہے۔ کیمرے موجود ہیں۔ سیف سٹیز کا نظام موجود ہے۔ پولیس کا ڈیٹا موجود ہے۔ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ موجود ہے۔ سوال ان وسائل کے باہمی استعمال اور فوری ردعمل کا ہے۔

ایک اعلیٰ افسر کے ساتھ واردات اس لیے اہم نہیں کہ وہ افسر تھے؛ یہ اس لیے اہم ہے کہ ریاست کے طاقتور ترین انتظامی ڈھانچے سے وابستہ شخص بھی شہری بن کر اسی خطرے کا سامنا کرتا ہے جس کا سامنا ایک عام دکاندار، مزدور، طالب علم، تاجر یا گھر سے دفتر جانے والے شخص کو ہوتا ہے۔اگر اس واقعے کے ملزمان گرفتار ہوجاتے ہیں، موبائل برآمد ہوجاتا ہے اور ان کے پورے گروہ تک پہنچا جاتا ہے تو یہ صرف ایک کیس حل کرنا نہیں ہوگا بلکہ یہ ایک پیغام ہوگا کہ جدید شہر میں چند سیکنڈ کی واردات کے بعد فرار ہونا آسان نہیں۔اور اگر کیمرے موجود ہونے، جدید نظام ہونے اور اعلیٰ سطح پر فوری اطلاع ملنے کے باوجود ایسے ملزمان کا سراغ نہ مل سکے تو پھر ہمیں اپنے پورے نگرانی اور رسپانس سسٹم کا سنجیدہ جائزہ لینا ہوگا۔

لاہور ہو یا ملتان، راولپنڈی ہو یا فیصل آباد، شہری کا بنیادی مطالبہ بہت سادہ ہے: وہ سڑک پر نکلے تو اسے اپنے موبائل، موٹر سائیکل، گاڑی اور سب سے بڑھ کر اپنی جان کے تحفظ کا یقین ہو۔
ریاست کی طاقت کا اصل اظہار صرف بڑے دفاتر، بڑے عہدوں اور بڑے بیانات میں نہیں ہوتا۔ ریاست کی اصل طاقت اس وقت نظر آتی ہے جب ایک عام شہری مشکل میں ہو اور اسے یقین ہو کہ مدد آئے گی، مجرم پکڑا جائے گا اور قانون حرکت میں آئے گا۔کریم بلاک کا واقعہ ہمیں یہی سوال دوبارہ پوچھنے پر مجبور کرتا ہے:
اگر ایک طاقتور بیوروکریٹ سگنل پر محفوظ نہیں تو عام شہری کا تحفظ صرف دعویٰ نہیں، عملی حقیقت کب بنے گا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں