جرائم میں کمی کا دعویٰ، مگر عوام کا سوال: ایف آئی آر سے انصاف تک راستہ اتنا مشکل کیوں؟

تحریر: کلب عابد خان

ملتان میں جرائم میں کمی کی خبریں یقیناً خوش آئند ہیں۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق 2026ء کے پہلے چھ ماہ میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں مجموعی طور پر درج مقدمات کی تعداد 35,024 سے کم ہو کر 17,541 رہی، جبکہ پولیس نے ڈکیتی، موٹر سائیکل چھیننے اور موٹر سائیکل چوری سمیت مختلف جرائم میں نمایاں کمی کا دعویٰ کیا ہے۔

سی پی او ملتان صادق علی ڈوگر کی قیادت میں پولیس کی پٹرولنگ، سرچ آپریشنز، انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں اور گینگز کے خلاف کریک ڈاؤن کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ جون میں 40 گینگز کے 96 ملزمان کی گرفتاری اور کروڑوں روپے کا مسروقہ مال برآمد کرنے کی اطلاع دی گئی، جبکہ بعد ازاں کینٹ ڈویژن میں 33 گینگز کے 78 ارکان کی گرفتاری اور 72 کروڑ؟ نہیں، بلکہ 11 کروڑ 81 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی ریکوری کا پولیس دعویٰ بھی سامنے آیا۔ یہ اعدادوشمار اپنی جگہ اہم ہیں اور اگر زمینی حقیقت بھی یہی ہے تو پولیس قیادت اور فورس کی کارکردگی کو سراہا جانا چاہیے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے جسے شاید صرف پریس کانفرنس کے اعدادوشمار سے نہیں بلکہ عام شہری کے تجربے سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔آخر جرائم بڑھے کیسے، اور اب کم کیسے ہوئے؟

عوام یہ سوال بھی پوچھ رہی ہے کہ جن افراد کو آج جرائم پیشہ عناصر، گینگز یا اشتہاری ملزمان قرار دے کر گرفتار کیا جا رہا ہے، ان کا سابقہ ریکارڈ کیا ہے؟ ان کے خلاف پہلے کتنے مقدمات تھے؟ وہ کتنے عرصے سے پولیس کے ریکارڈ میں موجود تھے؟ ان میں سے کتنے افراد پہلے گرفتار ہوئے، کتنے ضمانت پر باہر آئے اور کتنے دوبارہ جرائم میں ملوث ہوئے؟اگر کوئی شخص بار بار جرم کرتا ہے تو صرف ایک نئے مقدمے میں اس کی گرفتاری کافی نہیں۔ اصل کامیابی تب ہوگی جب پولیس کے پاس ایسے افراد کا مکمل Habitual Offender Record موجود ہو، ان کی سرگرمیوں کی نگرانی ہو اور عدالت میں مقدمہ اس مضبوطی سے پیش کیا جائے کہ قانون اپنا منطقی انجام تک پہنچے۔یہاں ایک اور اہم مسئلہ عوام کی زبان پر ہے: درخواست سے ایف آئی آر تک کا سفر۔

بہت سے شہری یہ شکایت کرتے ہیں کہ تھانے میں درخواست دینے کے باوجود فوری کارروائی نہیں ہوتی۔ بعض معاملات میں شہری کو اعلیٰ پولیس افسران، 1787، عدالت یا کسی دوسرے فورم کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے اور بعض اوقات عدالت سے حکم آنے کے بعد مقدمہ درج ہوتا ہے۔اگر یہ شکایات غلط ہیں تو پولیس کو کھل کر ان کی تردید کرنی چاہیے، لیکن اگر ان میں حقیقت کا کوئی حصہ موجود ہے تو اسے سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔ کیونکہ پولیس کی کارکردگی کا اصل پیمانہ صرف یہ نہیں کہ کتنے مقدمات درج ہوئے بلکہ یہ بھی ہے کہ کتنی درخواستوں پر قانون کے مطابق بروقت کارروائی ہوئی۔ایک شہری کے لیے ایف آئی آر انصاف کا آغاز ہوتی ہے، منزل نہیں۔

اس کے بعد تفتیش شروع ہوتی ہے اور یہاں بھی عوام کے سوالات ختم نہیں ہوتے۔ شہریوں کی جانب سے یہ شکایت سامنے آتی ہے کہ بعض تفتیشی افسران مبینہ طور پر تفتیشی اخراجات یا مختلف نوعیت کے غیر قانونی مطالبات کرتے ہیں، اور رقم نہ دینے کی صورت میں تفتیش میں دلچسپی نہیں لی جاتی۔
یہ الزام بہت سنگین ہے۔کسی افسر پر بغیر ثبوت کرپشن کا الزام لگانا مناسب نہیں، لیکن رشوت یا تفتیشی اخراجات کے نام پر رقم طلب کرنے کی شکایت اگر بار بار سامنے آ رہی ہو تو اس کی آزادانہ اور قابلِ تصدیق انکوائری ضرور ہونی چاہیے۔

کیونکہ اگر ایف آئی آر درج بھی ہوگئی، ملزم گرفتار بھی ہوگیا، لیکن تفتیش کمزور ہوگئی، برآمدگی مکمل نہ ہوئی، شواہد محفوظ نہ کیے گئے یا چالان مضبوط بنیادوں پر عدالت میں پیش نہ ہوا تو پھر شہری کے لیے سوال وہیں کھڑا رہتا ہے کہ اسے انصاف کب ملے گا؟یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ گرفتار ہونے والے ملزمان میں سے کتنے نئے مجرم ہیں اور کتنے پرانے ریکارڈ یافتہ افراد ہیں۔ملتان پولیس کے پاس یہ ڈیٹا ہونا چاہیے کہ گزشتہ ایک سال میں گرفتار ہونے والے گینگز کے ارکان کا سابقہ ریکارڈ کیا تھا؟ کتنے مقدمات پہلے سے درج تھے؟ کتنے مقدمات میں وہ بری ہوئے، کتنے زیرِ سماعت ہیں اور کتنے مقدمات میں سزا ہوئی؟ اگر کوئی ملزم متعدد مقدمات کے باوجود بار بار باہر آ کر جرم کر رہا ہے تو اس پورے سلسلے کا جائزہ پولیس، پراسیکیوشن اور عدالتی نظام—تینوں سطحوں پر ہونا چاہیے۔

دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ مقدمات کے اندراج میں کمی ہمیشہ لازماً جرائم میں اسی تناسب سے کمی کا ثبوت نہیں ہوتی۔ رپورٹنگ کا رویہ، ایف آئی آر کے اندراج کا طریقہ، پولیس تک رسائی اور شہریوں کا اعتماد بھی اعدادوشمار پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے پولیس کے اعدادوشمار کے ساتھ عوامی شکایات اور آزادانہ ڈیٹا کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔یہاں سی پی او ملتان کے لیے ایک اہم موقع موجود ہے۔اگر واقعی جرائم میں اتنی نمایاں کمی آئی ہے تو اب “Crime Reduction” سے آگے بڑھ کر “Public Trust” کو بھی کارکردگی کا حصہ بنایا جائے۔

ہر تھانے کے بارے میں ماہانہ بنیادوں پر بتایا جائے کہ کتنی درخواستیں موصول ہوئیں، کتنی پر ایف آئی آر درج ہوئی، کتنی مسترد ہوئیں اور مسترد کرنے کی وجوہات کیا تھیں۔ کتنے مقدمات میں تفتیش مکمل ہوئی، کتنے چالان عدالتوں میں جمع ہوئے اور کتنے مقدمات میں ملزمان کو سزا ہوئی۔اسی طرح تفتیشی افسران کے خلاف رشوت یا غیر قانونی اخراجات کی شکایات کا بھی باقاعدہ ریکارڈ بنایا جائے اور اگر کوئی شکایت جھوٹی ثابت ہو تو شکایت کنندہ کے خلاف کارروائی کی جائے، لیکن اگر افسر قصوروار نکلے تو محکمانہ کارروائی صرف فائل تک محدود نہ رہے۔پولیس کی عزت تب بڑھتی ہے جب شہری تھانے سے ڈرے نہیں بلکہ اسے اپنا قانونی سہارا سمجھے۔
سی پی او ملتان صادق علی ڈوگر کی جانب سے کھلی کچہریوں اور شہریوں کے مسائل سننے کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ کھلی کچہری کا فائدہ صرف درخواست سننے تک محدود نہ ہو بلکہ ہر درخواست کا نتیجہ بھی شہری تک پہنچے۔

ملتان کے شہری یہ نہیں کہتے کہ پولیس کچھ نہیں کر رہی۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ جو اچھا کام ہو رہا ہے اسے مزید مضبوط کیا جائے، اور جہاں نظام میں کمزوری ہے اسے بھی تسلیم کرکے درست کیا جائے۔جرائم میں کمی خوش آئند ہے، لیکن اصل کامیابی اس دن ہوگی جب ایک عام شہری بغیر سفارش، بغیر اثرورسوخ، بغیر عدالت کے حکم اور بغیر کسی مبینہ غیر قانونی ادائیگی کے تھانے جائے، اس کی قانونی درخواست سنی جائے، ایف آئی آر میرٹ پر درج ہو، تفتیش غیر جانبدار ہو، ملزم کے خلاف شواہد اکٹھے ہوں اور مقدمہ منطقی انجام تک پہنچے۔اعدادوشمار پولیس کی کارکردگی بتاتے ہیں، مگر عوام کا اعتماد پولیس کی اصل کامیابی بتاتا ہے۔

ملتان کو صرف کم جرائم والا شہر نہیں، بلکہ ایسا شہر بنانا ہوگا جہاں شہری کو قانون تک رسائی کے لیے کسی سفارش، دباؤ یا اضافی خرچ کی ضرورت نہ پڑے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں جرائم میں کمی کے ساتھ ساتھ پولیس پر عوام کا اعتماد بھی حقیقی معنوں میں بحال ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں