تحریر: کلب عابد خان
پاکستانی شہری جب اپنے بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرونِ ملک جانے کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ صرف ایک ملک سے دوسرے ملک کا سفر نہیں کرتا بلکہ اپنے پورے خاندان کی امیدیں اپنے ساتھ لے کر جاتا ہے۔ کوئی روزگار کے لیے جاتا ہے، کوئی تعلیم کے لیے، کوئی کاروبار کے لیے اور کوئی اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے۔ پاسپورٹ، ویزا، ڈگری، نکاح نامہ، پیدائش کا سرٹیفکیٹ اور دیگر سرکاری دستاویزات کی تصدیق اسی سفر کا لازمی حصہ ہوتی ہے۔ شہری یہ سمجھتا ہے کہ ریاستی ادارہ اس کی رہنمائی کرے گا، مقررہ فیس لے گا اور قانون کے مطابق اس کا کام مکمل کرے گا۔ مگر جب اسی نظام کے بارے میں اربوں روپے کی مبینہ غیر قانونی وصولیوں کی رپورٹ سامنے آئے تو سوال صرف چند اہلکاروں کا نہیں رہتا، سوال پورے نظام کی شفافیت اور ریاستی نگرانی کا بن جاتا ہے
حالیہ دنوں وزارتِ خارجہ میں دستاویزات کی تصدیق کے عمل سے متعلق سامنے آنے والی ایک مبینہ تحقیقاتی رپورٹ نے ملک میں ایک انتہائی سنگین بحث چھیڑ دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل آڈٹ اینڈ انسپیکشن ڈاکٹر احمد علی سروہی کی سربراہی میں ایک چار رکنی کمیٹی نے دستاویزات کی تصدیق کے عمل کا جائزہ لیا اور مبینہ طور پر ایسے معاملات کی نشاندہی کی جن میں بیرونِ ملک جانے والے پاکستانیوں سے مقررہ سرکاری فیس کے علاوہ بھاری رقوم وصول کیے جانے کا دعویٰ سامنے آیا۔ رپورٹ سے متعلق شائع ہونے والی تفصیلات میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ ایک سال کے دوران تقریباً 12 ارب روپے تک کی غیر قانونی وصولیوں کا معاملہ سامنے آیا، جبکہ بعض شہریوں سے ایک دستاویز کی تصدیق کے لیے مبینہ طور پر لاکھوں روپے تک وصول کیے گئے۔
یہ رقم سن کر ہی آدمی رک جاتا ہے۔ بارہ ارب روپے! آخر ایسا کون سا نظام ہے جہاں عام پاکستانی کی دستاویز کی تصدیق جیسے معمول کے سرکاری عمل کے گرد اتنا بڑا مالی سوال پیدا ہو جائے؟ اگر یہ دعویٰ درست نہیں تو پھر اس کی مکمل تردید اور حقائق عوام کے سامنے آنے چاہئیں، اور اگر تحقیقات میں واقعی اتنی بڑی رقم کی غیر قانونی وصولی کے شواہد موجود ہیں تو پھر معاملہ محض محکمانہ فائل تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
یہاں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ 12 ارب روپے کی رقم اور متعلقہ افسران کے خلاف الزامات کو اس مرحلے پر عدالتی طور پر ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ خود وزارتِ خارجہ نے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے ایسی انکوائری کا کوئی ریکارڈ یا معلومات موصول نہیں اور وزارت کے مطابق دستاویزات کی تصدیق کا سرکاری نظام آن لائن اور POS ادائیگیوں کے ذریعے چل رہا ہے۔ وزارت نے یہ بھی بتایا کہ اس کے مراکز میں روزانہ ہزاروں دستاویزات کی تصدیق ہوتی ہے اور گزشتہ دو برس میں اربوں روپے سرکاری فیس کی مد میں حاصل ہوئے۔
لیکن وزارتِ خارجہ کی یہ وضاحت ایک اور اہم سوال پیدا کرتی ہے۔ اگر نظام واقعی مکمل طور پر شفاف، آن لائن اور نگرانی کے تحت ہے تو پھر مبینہ غیر قانونی وصولیوں کا نیٹ ورک کیسے وجود میں آیا؟ اگر شہری سرکاری فیس آن لائن ادا کرتا ہے تو پھر کوئی ایجنٹ یا درمیانی شخص اس سے اضافی رقم کیوں مانگتا ہے؟ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ چند گھنٹوں میں تصدیق کرا سکتا ہے تو اسے یہ سہولت کہاں سے ملتی ہے؟ اور اگر کسی سرکاری اہلکار کی مبینہ ملی بھگت کے بغیر یہ سب ممکن نہیں تو پھر اس پورے نظام کی نگرانی کون کر رہا تھا؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب جذبات، پریس کانفرنس یا الزام تراشی سے نہیں بلکہ ریکارڈ سے ملنا چاہیے۔
اس معاملے کا ایک اور پہلو بھی انتہائی اہم ہے۔ میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ مذکورہ تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی کرنے والے ڈاکٹر احمد علی سروہی کو بعد ازاں OSD بنا دیا گیا۔ اگر یہ انتظامی فیصلہ واقعی اسی معاملے کے پس منظر میں ہوا ہے تو عوام کا سوال بالکل فطری ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ تیار کرنے والے افسر کے خلاف انتظامی کارروائی کی وجہ کیا تھی؟ کیا ان کی رپورٹ غلط تھی؟ کیا تحقیقات کے طریقہ کار پر اعتراض تھا؟ کیا رپورٹ کے مندرجات ناقابلِ اعتبار تھے؟ اگر ایسا تھا تو پھر رپورٹ کو غلط ثابت کرنے والے حقائق سامنے کیوں نہیں لائے جاتے؟
اور اگر رپورٹ درست تھی تو پھر سوال اس سے بھی زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ جن لوگوں کے خلاف رپورٹ میں اعتراضات یا شواہد کی نشاندہی کی گئی، ان کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟
یہاں کسی افسر کو مجرم یا بے گناہ قرار دینا مقصد نہیں۔ اصول بہت سادہ ہے: اگر کسی افسر نے غلط رپورٹ بنائی ہے تو اس سے قانون کے مطابق جواب طلب کیا جائے، اگر اس نے درست رپورٹ بنائی ہے تو اسے اپنے فرائض انجام دینے کی سزا نہیں ملنی چاہیے، اور اگر معاملہ ابھی زیرِ تحقیق ہے تو تحقیقات کو آزادانہ طور پر مکمل ہونے دیا جانا چاہیے۔
کیونکہ احتساب کا سب سے بنیادی اصول یہی ہے کہ تحقیق کرنے والے کو نہیں، حقیقت کو سامنے لایا جائے۔
ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ بیرونِ ملک جانے والے پاکستانی کس طرح کے حالات سے گزرتے ہیں۔ ایک نوجوان اپنی ڈگری مکمل کرتا ہے، سالوں کی محنت کے بعد اسے کسی بیرونِ ملک ادارے سے ملازمت کی پیشکش ملتی ہے، پھر اسے دستاویزات کی تصدیق کے لیے سرکاری اداروں سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ کسی دوسرے شخص نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے کاروبار کھڑا کیا ہوتا ہے اور بیرونِ ملک تجارت کے لیے دستاویزات درکار ہوتی ہیں۔ کسی خاندان کا واحد سہارا بیرونِ ملک ملازمت حاصل کرتا ہے اور اس کے کاغذات کی تصدیق میں تاخیر اس کے پورے مستقبل کو متاثر کر سکتی ہے۔
ایسے شہری کی مجبوری اگر کسی غیر قانونی نیٹ ورک کے لیے کمائی کا ذریعہ بن جائے تو یہ صرف مالی بے ضابطگی نہیں بلکہ عوامی اعتماد کا مسئلہ ہے۔
اور اگر واقعی ایک سال میں 12 ارب روپے کی غیر قانونی وصولی ہوئی ہے تو پھر اس معاملے کی تہہ تک پہنچنا ضروری ہے کہ رقم کہاں گئی، کس چینل سے گئی، کن لوگوں نے فائدہ اٹھایا، کتنے شہری متاثر ہوئے اور اس پورے عمل کو سہولت کس سطح پر حاصل تھی
۔
اس کے لیے صرف ایک فائل کافی نہیں۔ مالی ریکارڈ دیکھا جائے، ادائیگیوں کا فرانزک جائزہ لیا جائے، متعلقہ کمپنیوں اور ایجنٹوں کا ریکارڈ چیک کیا جائے، سرکاری فیس اور شہریوں سے وصول کی جانے والی مبینہ اضافی رقم کا تقابلی جائزہ لیا جائے اور جن افسران یا اہلکاروں کے نام تحقیقاتی رپورٹ میں آنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، ان کا مؤقف بھی مکمل طور پر ریکارڈ کیا جائے
۔
اسی طرح اگر وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے اس معاملے میں کارروائی اور گرفتاریوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں تو اس کارروائی کے نتائج بھی عوام کے سامنے آنے چاہئیں۔ عوام کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ تحقیقات کہاں تک پہنچیں، کس کے خلاف کیا شواہد ملے اور کن الزامات کی تصدیق ہوئی یا نہیں ہوئی۔
کیونکہ پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ صرف کرپشن نہیں، بعض اوقات حقیقت کے غیر واضح رہنے کا بھی ہوتا ہے۔
جب الزام لگتا ہے تو شور بہت ہوتا ہے، مگر جب شواہد مانگے جاتے ہیں تو خاموشی چھا جاتی ہے۔ جب کسی بڑے اسکینڈل کی خبر سامنے آتی ہے تو عوام کو امید ہوتی ہے کہ اب ذمہ داروں کا احتساب ہوگا، لیکن اگر معاملہ چند بیانات اور دفتری کارروائیوں میں گم ہو جائے تو عوام کا اعتماد مزید کمزور ہوتا ہے
۔
اس لیے اس معاملے میں نہ کسی شخص کو پہلے ہی مجرم قرار دینے کی ضرورت ہے اور نہ کسی ادارے کو بغیر ثبوت کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی۔ ضرورت صرف شفاف تحقیقات کی ہے۔
اصل تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنی چاہیے۔
اگر رپورٹ غلط ہے تو اسے غلط ثابت کیا جائے۔
اگر رپورٹ درست ہے تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
اگر 12 ارب روپے کا دعویٰ غلط ہے تو اس رقم کی بنیاد واضح کی جائے۔
اور اگر یہ رقم واقعی غیر قانونی وصولیوں سے متعلق ہے تو پھر رقم کی وصولی، ذمہ داروں کا تعین اور قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے۔
اور سب سے اہم بات، اگر تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ کو OSD بنانے کا فیصلہ ہوا ہے تو اس فیصلے کی وجوہات بھی واضح ہونی چاہئیں تاکہ کسی کے ذہن میں یہ سوال نہ رہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ جس نے نظام کے اندر سوال اٹھایا، اسی کو نظام سے باہر کر دیا گیا۔
یہ سوال ڈاکٹر احمد علی سروہی کے حق یا مخالفت کا نہیں۔
یہ سوال کسی ایک وزارت کے حق یا مخالفت کا نہیں۔
یہ سوال پاکستانی شہری کے حق کا ہے۔
وہ شہری جو ریاست کو اپنی دستاویزات دیتا ہے اور توقع رکھتا ہے کہ ریاست اس کے کاغذات کی حفاظت کرے گی، اس سے مقررہ فیس لے گی اور اس کے کام کو کسی غیر قانونی واسطے یا مبینہ ایجنٹ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے گی۔
بارہ ارب روپے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ وزارتِ خارجہ نے اس کی تردید کی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ کارروائی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ اب وقت ہے کہ افواہ اور حقیقت کے درمیان موجود پردہ ہٹایا جائے۔
عوام کو کسی افسر کی قربت یا مخالفت نہیں چاہیے۔
عوام کو کسی ادارے کے خلاف نعرہ نہیں چاہیے۔
عوام کو صرف جواب چاہیے:
کیا پاکستانیوں سے دستاویزات کی تصدیق کے نام پر غیر قانونی رقم وصول کی گئی یا نہیں؟
اگر نہیں تو حقیقت سامنے لائی جائے۔
اگر ہاں تو ذمہ دار کون ہیں؟
اور اگر تحقیقات ابھی جاری ہیں تو انہیں مکمل ہونے دیا جائے۔
کیونکہ ریاست کی طاقت صرف اس کے بڑے عہدوں، وزارتوں اور دفاتر میں نہیں ہوتی۔ ریاست کی اصل طاقت اس اعتماد میں ہوتی ہے جو ایک عام شہری اپنے اداروں پر کرتا ہے۔
اور جب سوال بارہ ارب روپے کا ہو تو اس کا جواب بھی اتنا ہی واضح، دستاویزی اور شفاف ہونا چاہیے۔





