تحریر: کلب عابد خان
پاکستان میں قانون سازی کا عمل مسلسل جاری ہے، نئے قوانین بن رہے ہیں، پرانے قوانین میں ترامیم ہو رہی ہیں، اداروں کے اختیارات اور طریقۂ کار تبدیل کیے جا رہے ہیں اور اصلاحات کے دعوے بھی سامنے آتے رہتے ہیں، لیکن عام شہری آج بھی ایک بنیادی سوال پوچھنے پر مجبور ہے کہ قانون بدلنے کے بعد اس کی زندگی کتنی بدلی ہے، اگر قوانین کی کتابیں موٹی ہوتی جائیں مگر شہری کو اپنے جائز حق کے لیے ایک دفتر سے دوسرے دفتر، ایک افسر سے دوسرے افسر اور ایک ادارے سے دوسرے ادارے کے چکر لگانے پڑیں تو پھر قانون سازی کا اصل مقصد کیا رہ جاتا ہے، عام آدمی کسی سرکاری دفتر میں اپنی شکایت لے کر جاتا ہے تو اسے امید ہوتی ہے کہ اس کا مسئلہ حل ہوگا مگر کئی مرتبہ مسئلہ حل ہونے کے بجائے فائل کا سفر شروع ہوجاتا ہے، درخواست جمع ہوتی ہے، ڈائری نمبر ملتا ہے، رپورٹ طلب ہوتی ہے، رپورٹ پر مزید رپورٹ مانگی جاتی ہے اور شہری دوبارہ اسی دفتر کے دروازے پر کھڑا نظر آتا ہے
یہ صورتحال صرف وقت ضائع نہیں کرتی بلکہ شہری کے اندر یہ احساس بھی پیدا کرتی ہے کہ شاید اس کی آواز اس نظام میں اتنی اہم نہیں جتنی ہونی چاہیے، حالانکہ ادارے عوام کی سہولت کے لیے قائم ہوتے ہیں اور سرکاری مشینری کا بنیادی مقصد شہری کو اس کا حق بروقت، شفاف اور عزت کے ساتھ فراہم کرنا ہے، اگر شہری کو اپنے جائز کام کے لیے سفارش تلاش کرنا پڑے، بار بار درخواستیں دینی پڑیں یا یہ معلوم کرنے کے لیے کئی مرتبہ دفتر جانا پڑے کہ اس کی فائل کہاں پہنچی تو پھر اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنا فطری امر ہے، سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا نئی قانون سازی کے ساتھ عام شہری کے لیے انصاف اور سہولت بھی آسان ہو رہی ہے، کیونکہ قانون بنانا ایک مرحلہ ہے لیکن قانون پر مؤثر عملدرآمد اس سے کہیں زیادہ اہم مرحلہ ہے، اگر قانون موجود ہو مگر عملدرآمد کمزور ہو، اداروں کے اختیارات واضح نہ ہوں، شکایات کے ازالے کا نظام پیچیدہ ہو اور شہری کو اپنے مسئلے کے حل کے لیے کئی فورمز کا سہارا لینا پڑے تو قوانین کی تعداد بڑھانے سے عوام کا اعتماد خود بخود بحال نہیں ہوتا، اسی بحران کا ایک بڑا پہلو ہماری عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی بھرمار بھی ہے، عدالت عام شہری کے لیے انصاف کی آخری امید ہوتی ہے اور جب کوئی شخص عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو وہ صرف مقدمہ دائر نہیں کرتا بلکہ اپنی امید بھی عدالت سے وابستہ کرتا ہے
لیکن اگر مقدمہ برسوں چلتا رہے، فریقین مسلسل پیشیاں بھگتتے رہیں اور فیصلہ آنے میں طویل عرصہ لگ جائے تو انصاف کے بنیادی تصور پر سوال اٹھنا شروع ہوجاتا ہے، انصاف صرف فیصلہ سنانے کا نام نہیں بلکہ بروقت فیصلہ بھی انصاف کا بنیادی تقاضا ہے، ایک مقدمہ طویل ہوتا ہے تو اس کے ساتھ فریقین کا وقت، سرمایہ، کاروبار، خاندانی سکون اور ذہنی توانائی بھی متاثر ہوتی ہے، کئی شہری اپنی زندگی کا قیمتی حصہ اپنے حق کے حصول کے لیے عدالتوں کے چکروں میں گزار دیتے ہیں، اس لیے عدالتی اصلاحات کا مقصد صرف عدالتوں کی تعداد بڑھانا نہیں ہونا چاہیے بلکہ مقدمات کے بروقت فیصلے، غیر ضروری التوا میں کمی، مؤثر کیس مینجمنٹ اور عام سائل کے لیے آسان قانونی رسائی بھی اس کا بنیادی حصہ ہونا چاہیے، دوسری طرف ملک کا عام شہری مہنگائی کے دباؤ میں ہے اور تاجر برادری بھی بڑھتے ہوئے اخراجات اور کاروباری مشکلات سے دوچار ہے، مہنگائی صرف بازار میں قیمت بڑھنے کا نام نہیں بلکہ اس کا اثر پورے گھرانے کے بجٹ، بچوں کی تعلیم، علاج، سفر، خوراک اور روزگار تک پہنچتا ہے، متوسط طبقہ اپنی ضروریات محدود کرنے پر مجبور ہے جبکہ کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے
تاجر کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ ہے کیونکہ اسے دکان یا کاروبار کے اخراجات کے ساتھ بجلی کے بل، ٹیکس، کرایہ، ملازمین کی تنخواہیں، ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات بھی برداشت کرنا ہوتے ہیں، جب عام آدمی کی قوت خرید کم ہوتی ہے تو بازار میں کاروباری سرگرمی بھی متاثر ہوتی ہے، اس لیے معیشت کو صرف سرکاری اعدادوشمار سے نہیں بلکہ بازار میں بیٹھے تاجر اور خریداری کرنے والے شہری کی حالت سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے، ایک دکاندار کے لیے کاروبار اس وقت مشکل ہوجاتا ہے جب گاہک کی جیب محدود ہو اور اس کے اپنے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہوں، اسی طرح نوجوان طبقہ روزگار کے مواقع کی تلاش میں ہے اور خاندان اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں، ایسے ماحول میں بدانتظامی چھوٹے سے مسئلے کو بھی بڑے بحران میں تبدیل کردیتی ہے، سڑکوں، ٹریفک، صفائی، سیوریج، تجاوزات، بجلی، پانی، شہری سہولیات اور دیگر مسائل پر شہری براہ راست سرکاری اداروں سے رجوع کرتا ہے اور اس کا سب سے پہلا تجربہ اسی وقت بنتا ہے جب وہ اپنی شکایت متعلقہ ادارے کے سامنے رکھتا ہے
اگر شکایت پر فوری کارروائی ہو تو شہری کا اعتماد بڑھتا ہے اور اگر شکایت فائلوں میں دب جائے تو مایوسی بڑھتی ہے، آج جدید ٹیکنالوجی کے دور میں شہریوں کے لیے آن لائن شکایتی نظام، پورٹلز اور ڈیجیٹل سہولیات موجود ہیں لیکن کسی بھی شکایتی نظام کی کامیابی کا اصل معیار یہ نہیں کہ شکایت کتنی جلدی بند کردی گئی بلکہ یہ ہے کہ مسئلہ حقیقت میں کتنا جلدی حل ہوا، شہری کو صرف یہ پیغام نہیں چاہیے کہ اس کی شکایت نمٹا دی گئی ہے، اسے اپنی گلی، اپنے کاروبار، اپنے دفتر یا اپنی زندگی میں مسئلے کا حقیقی حل چاہیے، یہی فرق کاغذی کارروائی اور حقیقی گورننس کے درمیان ہے، ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر سرکاری درخواست کا واضح ٹریکنگ نظام ہو، شہری کو بتایا جائے کہ اس کی درخواست کس افسر کے پاس ہے، کارروائی کی مدت کیا ہے، فیصلہ کب تک متوقع ہے اور اگر درخواست مسترد کی جاتی ہے تو اس کی وجہ کیا ہے، اسی طرح اداروں کے درمیان اختیارات کے تنازعات کا بوجھ شہری پر نہیں ڈالنا چاہیے، اگر ایک محکمہ دوسرے محکمے کی طرف معاملہ بھیجتا رہے اور شہری دونوں اداروں کے درمیان چکر لگاتا رہے تو اس نظام کو اصلاح کی ضرورت ہے، سرکاری ادارے شہری کو ایک دوسرے کے پاس بھیجنے کے بجائے آپس میں رابطہ کرکے مسئلہ حل کریں، یہی جدید طرز حکمرانی ہے، تاجر برادری کے لیے بھی ضروری ہے کہ کاروباری پالیسیوں میں تسلسل ہو، غیر ضروری دفتری رکاوٹیں کم ہوں اور جائز کاروباری سرگرمی کو سہولت فراہم کی جائے، تاجر معیشت کا اہم حصہ ہے اور جب کاروباری ماحول بہتر ہوگا تو روزگار، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں میں بھی بہتری کے امکانات پیدا ہوں گے، اسی طرح نئی قانون سازی کا اصل امتحان پارلیمان کے ایوان میں نہیں بلکہ اس وقت ہوتا ہے جب ایک عام شہری اپنے حق کے لیے اس قانون کا سہارا لیتا ہے
اگر اسے انصاف، تحفظ اور سہولت ملتی ہے تو قانون کامیاب ہے اور اگر قانون کے باوجود شہری سالہا سال اپنے حق کے لیے بھٹکتا رہے تو پھر نظام کو اپنے طریقۂ کار کا دوبارہ جائزہ لینا ہوگا، عوام اب صرف اعلانات نہیں بلکہ نتائج دیکھنا چاہتے ہیں، شہری چاہتا ہے کہ اس کی شکایت سنی جائے، تاجر چاہتا ہے کہ اسے کاروبار کے لیے آسان ماحول ملے، نوجوان روزگار چاہتا ہے، خاندان مہنگائی سے ریلیف چاہتا ہے اور ہر شخص یہ یقین چاہتا ہے کہ اگر اس کے ساتھ ناانصافی ہو تو ریاستی ادارے اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے، ہمیں ایسا نظام درکار ہے جہاں قانون عام شہری کے لیے بوجھ نہیں بلکہ تحفظ ہو، جہاں ادارے شہری سے دور نہیں بلکہ شہری کے قریب ہوں، جہاں عدالت میں مقدمہ دائر کرنا آخری امید ضرور ہو مگر انصاف کے حصول کے لیے زندگی بھر کا سفر نہ بن جائے، جہاں شکایت درج کروانا محض ایک نمبر حاصل کرنا نہ ہو بلکہ حقیقی حل کی ضمانت بنے، اور جہاں مہنگائی کے خاتمے یا کمی کے دعوے کا پیمانہ صرف سرکاری بیان نہیں بلکہ عام آدمی کے گھر کا بجٹ اور بازار کی صورتحال بھی ہو، پاکستان کو مزید پیچیدہ نظام کی نہیں بلکہ آسان، شفاف، جوابدہ اور عوام دوست نظام کی ضرورت ہے
کیونکہ ریاست کی اصل طاقت صرف قانون کی کتابوں، دفاتر یا عمارتوں میں نہیں بلکہ شہری کے اعتماد میں ہوتی ہے، جب شہری کو یقین ہو کہ اس کی بات سنی جائے گی، اس کا حق محفوظ ہے اور ادارے اس کے لیے موجود ہیں تو ریاست مضبوط ہوتی ہے، لیکن جب شہری بار بار دروازے کھٹکھٹائے اور اسے جواب نہ ملے، جب مقدمات برسوں چلیں، جب مہنگائی گھر کا بجٹ نگل جائے اور جب بدانتظامی روزمرہ زندگی کو مشکل بنا دے تو مایوسی جنم لیتی ہے، اس لیے اب وقت صرف نئی قانون سازی کا نہیں بلکہ موجودہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد، اداروں کی اصلاح، عدالتی نظام میں بہتری، عوامی شکایات کے حقیقی ازالے، کاروباری آسانی اور مہنگائی کے عملی حل کا ہے، کیونکہ قانون سازی کا اصل مقصد قوانین کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ شہری کی زندگی آسان بنانا ہے، اور کسی بھی ریاست کی کامیابی کا سب سے بڑا پیمانہ یہی ہے کہ اس کا عام شہری اپنے مستقبل کے بارے میں کتنا پُرامید اور اپنے نظام پر کتنا مطمئن ہے۔





