ملتان: افتتاحی بسیں، کھڑے پانی اور ترقی کا اصل چہرہ

تحریر: کلب عابد خان

ملتان ایک ایسا شہر ہے جس کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے، مگر آج بھی اس شہر کے شہری بنیادی سہولیات کے لیے سوال اٹھانے پر مجبور ہیں۔ گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب کا ملتان کا دورہ ہوا۔ شہر میں سرکاری مشینری متحرک ہوئی، روٹس کی صفائی اور تزئین و آرائش پر خصوصی توجہ دی گئی، انتظامات کیے گئے اور الیکٹرک بسوں کے افتتاح کو ترقی کے ایک بڑے منصوبے کے طور پر پیش کیا گیا۔ یقیناً شہری سفری سہولتوں میں بہتری ایک مثبت قدم ہو سکتی ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا شہر کی ترقی صرف افتتاحی تقریبات، نئی بسوں اور خوبصورت بنائے گئے چند کلومیٹر روٹس کا نام ہے؟ملتان کے شہری اس سوال کا جواب اپنی آنکھوں سے دے رہے ہیں۔

گزشتہ روز اخبارات سرکاری اخراجات پر ہونے والی تشہیر سے بھرے پڑے تھے۔ بڑے بڑے اشتہارات، دورے کی خبریں، افتتاحی سرگرمیاں اور حکومتی اقدامات کی تشہیر نمایاں تھی۔ آج انہی اخبارات میں تعریفی خبریں بھی نظر آ رہی ہیں۔ سرکاری دورہ، سرکاری وسائل اور سرکاری مشینری کے استعمال کے بعد اگر تشہیر کا اگلا مرحلہ بھی سرکاری سرپرستی یا سرکاری وسائل سے ہو تو سوال اٹھنا فطری ہے کہ عوام کے ٹیکس سے خرچ ہونے والے پیسے کا اصل مقصد تشہیر ہے یا عوامی سہولت؟یہ سوال کسی شخصیت کے خلاف نہیں بلکہ پورے نظام کے سامنے ہے۔

وزیراعلیٰ کا دورہ ہوتا ہے تو سڑکیں صاف ہو جاتی ہیں، روٹس سنوار دیے جاتے ہیں، انتظامیہ پوری طرح متحرک ہو جاتی ہے، سرکاری گاڑیاں سڑکوں پر نظر آتی ہیں اور ہر ادارہ اپنی کارکردگی دکھانے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ لیکن عام شہری پوچھتا ہے کہ اگر یہی انتظام، یہی مشینری، یہی افسران اور یہی وسائل روزانہ کی بنیاد پر کام کریں تو پھر ملتان کے بنیادی مسائل کیوں باقی رہیں؟
آج کی اصل تصویر خانیوال روڈ سے سامنے آ رہی ہے۔

بارش ختم ہوئے کئی گھنٹے گزر چکے ہیں مگر سڑک پر گندا پانی کھڑا ہے۔ شہری اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے، دفاتر جانے، کاروبار کرنے اور روزمرہ زندگی کے معمولات پورے کرنے کے لیے اسی پانی سے گزرنے پر مجبور ہیں۔ موٹر سائیکل سوار خطرہ مول لے رہے ہیں، پیدل چلنے والوں کے کپڑے اور جوتے خراب ہو رہے ہیں اور سب سے بڑھ کر گندے پانی کے باعث صحت کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ترقی کے دعوے اور زمینی حقیقت ایک دوسرے کے سامنے کھڑے نظر آتے ہیں۔

ایک طرف الیکٹرک بسیں ہیں، دوسری طرف وہ شہری ہیں جو اپنے گھر سے نکل کر بس اسٹاپ تک پہنچنے کے لیے بھی گندے پانی، ٹوٹی سڑکوں اور ناقص نکاسیٔ آب کا سامنا کرتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ الیکٹرک بس کیوں چلائی گئی؛ سوال یہ ہے کہ اس بس تک پہنچنے والا شہری کس راستے سے پہنچے گا؟

شہر میں جدید سفری سہولت ضرور ہونی چاہیے، لیکن اس کے ساتھ بنیادی شہری انفراسٹرکچر بھی مضبوط ہونا چاہیے۔ نکاسیٔ آب، سیوریج، سڑکیں، فٹ پاتھ، اسٹریٹ لائٹس، صفائی اور ٹریفک کا نظام کسی بھی جدید شہر کی بنیادی ضرورت ہیں۔

عوام ٹیکس دیتے ہیں۔ دکاندار ٹیکس دیتے ہیں، تاجر ٹیکس دیتے ہیں، ملازم اپنی آمدن سے ٹیکس دیتا ہے، کاروباری ادارے مختلف مدات میں ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ یہ پیسہ اس لیے نہیں دیا جاتا کہ چند گھنٹوں کے سرکاری دورے کے موقع پر شہر کے مخصوص راستے خوبصورت بنا دیے جائیں۔ عوام چاہتے ہیں کہ انہیں ہر روز سہولت ملے، صرف وی آئی پی دورے کے دن نہیں۔
یہ بھی سوال ہے کہ سرکاری گاڑیوں، مشینری، عملے اور ایندھن پر ہونے والے اخراجات کا حساب عوام کو کب ملے گا؟ اگر سرکاری وسائل سے شہر کو چند گھنٹوں کے لیے خوبصورت بنایا جا سکتا ہے تو مستقل شہری مسائل کے حل کے لیے منصوبہ بندی اور بجٹ کیوں نہیں بن سکتا؟

بارش ہر سال ہوتی ہے۔ مون سون کوئی اچانک آنے والا واقعہ نہیں۔ موسم کی پیش گوئی موجود ہے، گزشتہ برسوں کا ڈیٹا موجود ہے، نشیبی علاقوں کی نشاندہی موجود ہے، لیکن پھر بھی بارش کے بعد وہی مناظر کیوں دکھائی دیتے ہیں؟یہ سوال ملتان کے شہریوں کا حق ہے۔

اگر گندا پانی سڑکوں پر کھڑا رہے گا تو صحت کے مسائل بھی بڑھیں گے۔ مچھروں کی افزائش ہوگی، ڈینگی کا خطرہ بڑھے گا، کاروبار متاثر ہوں گے، شہریوں کا وقت ضائع ہوگا اور سرکاری اداروں کو بعد میں صفائی اور انسدادِ وبا کے لیے مزید وسائل خرچ کرنا پڑیں گے۔یعنی مسئلہ حل نہ کرنے کی قیمت بھی آخرکار عوام ہی ادا کریں گے۔حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ شہری ترقی کا معیار کیا ہے۔ کیا ترقی صرف نئی بسوں کی تعداد ہے؟ کیا ترقی صرف افتتاحی تختی ہے؟ کیا ترقی صرف اخبارات میں بڑی بڑی خبریں ہیں؟ یا ترقی یہ ہے کہ ایک عام شہری بارش کے بعد اپنے گھر سے نکلے اور اسے گندے پانی میں سے گزر کر اپنی منزل تک نہ پہنچنا پڑے؟ملتان کو نمائشی ترقی نہیں، مستقل شہری منصوبہ بندی چاہیے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے دورے کے موقع پر اگر شہر کے روٹس چند گھنٹوں میں بہتر کیے جا سکتے ہیں تو یہی انتظامی صلاحیت مستقل بنیادوں پر کیوں استعمال نہیں کی جا سکتی؟ اگر افسران چند گھنٹوں میں متحرک ہو سکتے ہیں تو عام دنوں میں شہریوں کی شکایات کے وقت یہی رفتار کیوں نظر نہیں آتی؟اور سب سے اہم بات، اخبارات میں سرکاری اخراجات سے تشہیر اور اس کے بعد تعریفی خبروں کا سلسلہ عوام کے ذہن میں ایک بنیادی سوال ضرور پیدا کرتا ہے: سرکاری وسائل کا مرکز عوام کی خدمت ہونا چاہیے یا حکومتی تشہیر؟

اس سوال کا جواب صرف حکومت نہیں، پورا نظام دینا چاہیے۔

ملتان کے شہری کسی غیر معمولی رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ وہ صرف وہ بنیادی سہولیات چاہتے ہیں جو ایک بڑے تاریخی شہر کے شہری کا حق ہیں۔
الیکٹرک بسیں چلائیں، ضرور چلائیں۔ جدید منصوبے بنائیں، ضرور بنائیں۔ افتتاح کریں، ضرور کریں۔ لیکن ساتھ ہی خانیوال روڈ، سیوریج، نکاسیٔ آب، ٹوٹی سڑکوں اور شہری بنیادی مسائل کو بھی اسی ترجیح کے ساتھ حل کریں۔
کیونکہ شہر صرف بسوں سے ترقی یافتہ نہیں بنتا، شہر اس وقت ترقی کرتا ہے جب اس کا عام شہری بھی خود کو ترقی کا حصہ محسوس کرے۔
ملتان کو دورے کے دن کی صفائی نہیں، ہر دن کی سہولت چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں