تحریر کلب عابد خان
ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ کسی ملک کی خوشحالی کا راز اس کے سونے، تانبے، تیل، گیس، کوئلے اور دیگر قدرتی وسائل میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ ہماری سوچ یہ ہوتی ہے کہ جس ملک کے پاس جتنے زیادہ قدرتی وسائل ہوں گے، وہ اتنا ہی امیر اور خوشحال ہوگا۔ لیکن دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کا جائزہ لیا جائے تو ایک حقیقت سامنے آتی ہے کہ قدرتی وسائل کسی ملک کی ترقی میں مدد ضرور دیتے ہیں، مگر کسی قوم کی اصل خوشحالی کی بنیاد انصاف، قانون کی بالادستی، مضبوط ادارے اور میرٹ پر قائم نظام ہوتا ہے۔
اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ڈنمارک اور پاکستان کا تقابلی جائزہ ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ ایک طرف ڈنمارک ہے جو قانون کی حکمرانی، شفافیت، ادارہ جاتی مضبوطی اور عوامی اعتماد کے حوالے سے دنیا کے نمایاں ممالک میں شمار ہوتا ہے، جبکہ دوسری طرف پاکستان ہے جو قدرتی وسائل، زرعی زمین، معدنی ذخائر، نوجوان افرادی قوت اور جغرافیائی اہمیت کے باوجود معاشی مشکلات سے دوچار ہے۔ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کے 2025ء کے رول آف لا انڈیکس میں 143 ممالک اور خطوں کی درجہ بندی کی گئی۔ اس فہرست میں ڈنمارک پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان 130ویں نمبر پر موجود ہے۔ یہ اعدادوشمار محض نمبروں کا کھیل نہیں بلکہ ہمارے نظام کے سامنے ایک اہم سوال ہیں کہ آخر ہم کہاں پیچھے رہ گئے ہیں؟
اصل سوال یہ ہے کہ ڈنمارک نے آخر ایسا کیا کر دکھایا کہ وہ دنیا کی خوشحال معیشتوں میں شامل ہوگیا؟ اس کا جواب صرف معاشی پالیسیوں میں نہیں بلکہ اس نظام میں پوشیدہ ہے جہاں قانون کی نظر میں عام شہری اور طاقتور شخص کے حقوق اور ذمہ داریاں یکساں ہیں۔ وہاں کسی کاروباری شخص کو یہ خوف نہیں ہوتا کہ اس کی سرمایہ کاری کسی بااثر فرد، سرکاری اہلکار یا غیر قانونی فیصلے کی وجہ سے خطرے میں پڑ جائے گی۔ عدالتوں سے انصاف کی توقع، سرکاری اداروں میں شفافیت اور حکومتی فیصلوں میں جواب دہی سرمایہ کاروں کا اعتماد قائم رکھتی ہے۔
یہ بات بھی درست کرنا ضروری ہے کہ ڈنمارک کے پاس قدرتی وسائل بالکل نہیں ہیں، ایسا نہیں۔ وہاں تیل، قدرتی گیس، ماہی گیری اور قابلِ تجدید توانائی کے وسائل بھی موجود ہیں۔ تاہم اس کی خوشحالی کی بنیاد صرف ان وسائل پر نہیں بلکہ تعلیم، جدید ٹیکنالوجی، صنعتی ترقی، برآمدات، محنت اور مضبوط اداروں پر قائم ہے۔ ورلڈ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق 2024ء میں ڈنمارک کی فی کس مجموعی قومی پیداوار تقریباً 71 ہزار ڈالر تھی۔ یاد رہے کہ فی کس جی ڈی پی ہر شہری کی حقیقی تنخواہ یا ذاتی آمدنی نہیں ہوتی بلکہ ملکی مجموعی پیداوار کو آبادی پر تقسیم کرکے حاصل کی جانے والی اوسط ہے۔
اب پاکستان کی طرف نظر دوڑائیں تو ہمارے پاس دنیا کی بہترین زرعی زمینوں میں شمار ہونے والی زمین، دریائے سندھ کا وسیع نظام، کوئلہ، تانبہ، سونا، نمک، قدرتی گیس، معدنی ذخائر اور سمندر تک رسائی موجود ہے۔ بلوچستان کے ریکوڈک اور سیندک جیسے منصوبے ہمارے معدنی امکانات کی واضح مثالیں ہیں۔ تھر کے کوئلے کے ذخائر توانائی کے شعبے میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہمارے پاس نوجوان آبادی، باصلاحیت انجینئرز، ڈاکٹرز، تاجر، کسان اور ہنرمند افراد بھی موجود ہیں۔ اس کے باوجود سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ ان تمام صلاحیتوں کے باوجود عام پاکستانی معاشی دباؤ سے کیوں نہیں نکل پا رہا؟
اس کی ایک بڑی وجہ پالیسیوں کا عدم تسلسل، ادارہ جاتی کمزوریاں، بدعنوانی، پیچیدہ سرکاری طریقہ کار، انصاف میں تاخیر اور میرٹ کے بجائے سفارش کا کلچر ہے۔ جب کسی شہری کو اپنا جائز کام کروانے کے لیے دفاتر کے چکر لگانے پڑیں، جب کسی کاروباری شخص کو غیر یقینی پالیسیوں کا سامنا ہو، جب زمین کے تنازعات برسوں عدالتوں میں زیرِ التوا رہیں اور جب طاقتور اور کمزور کے لیے قانون کے اطلاق میں فرق محسوس ہو تو معاشرے میں اعتماد کمزور ہونے لگتا ہے۔
سرمایہ کاری صرف سستی زمین، کم اجرت یا قدرتی وسائل دیکھ کر نہیں آتی۔ سرمایہ کار یہ بھی دیکھتا ہے کہ اس کا معاہدہ کتنا محفوظ ہے، عدالت سے بروقت انصاف ملے گا یا نہیں، ٹیکس کا نظام کتنا واضح ہے اور سرکاری ادارے اس کے کاروبار میں سہولت فراہم کریں گے یا غیر ضروری رکاوٹیں پیدا کریں گے۔ جس ملک میں قانون کی حکمرانی مضبوط ہو وہاں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کار طویل مدت کے منصوبے بنانے میں زیادہ اعتماد محسوس کرتے ہیں۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کرپشن صرف سرکاری خزانے کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ پورے معاشی نظام کو کمزور کرتی ہے۔ جب میرٹ ختم ہوتا ہے تو اہل افراد پیچھے رہ جاتے ہیں، جب سرکاری ٹھیکوں میں شفافیت نہیں ہوتی تو قومی وسائل ضائع ہوتے ہیں اور جب احتساب کا نظام غیر مؤثر ہو تو بدعنوانی کے لیے راستے کھلتے ہیں۔ اس کا نقصان آخرکار عام شہری کو مہنگائی، بے روزگاری، ناقص سہولیات اور کمزور معیشت کی صورت میں برداشت کرنا پڑتا ہے۔
پاکستان کو ترقی کے لیے کسی معجزے کی نہیں بلکہ بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ عدالتی نظام میں اصلاحات، مقدمات کے فیصلوں میں تیزی، پولیس اور انتظامی اداروں کی غیر جانبداری، ٹیکس نظام میں آسانی، سرکاری محکموں میں ڈیجیٹل شفافیت، سرمایہ کاروں کے حقوق کا تحفظ اور احتساب کے یکساں اصول ہماری ترجیحات ہونی چاہئیں۔ حکومتیں بدلنے سے زیادہ ضروری ہے کہ ریاستی نظام میں تسلسل اور اعتماد پیدا ہو۔
ہمیں ایسا پاکستان بنانا ہوگا جہاں کسی غریب کی زمین پر قبضہ ہو تو اسے انصاف کے لیے برسوں انتظار نہ کرنا پڑے، جہاں ایک چھوٹے تاجر کو بھی وہی قانونی تحفظ حاصل ہو جو کسی بڑے سرمایہ کار کو حاصل ہے، جہاں سرکاری افسر عوام کو جواب دہ ہو اور جہاں کسی شخص کی سفارش یا عہدہ قانون سے بالاتر نہ ہو۔
آخر میں سوال یہ نہیں کہ پاکستان کے پاس کتنے قدرتی وسائل ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم ان وسائل کو استعمال کرنے کے لیے کتنا شفاف، منصفانہ اور قابلِ اعتماد نظام قائم کر سکے ہیں۔ ڈنمارک کا تجربہ ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ وسائل ترقی کے مواقع پیدا کرتے ہیں، لیکن ان مواقع کو قومی خوشحالی میں تبدیل کرنے کے لیے انصاف، قانون کی حکمرانی اور مضبوط اداروں کی ضرورت ہوتی ہے۔
پاکستان کے پاس ترقی کے لیے صلاحیت بھی ہے، وسائل بھی اور باصلاحیت نوجوان بھی۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہو، انصاف بروقت ملے اور قومی وسائل ذاتی مفادات کے بجائے عوامی فلاح کے لیے استعمال ہوں۔ جس دن پاکستان میں عام شہری کو انصاف کے لیے سفارش، رشوت اور اثرورسوخ کا سہارا نہیں لینا پڑے گا، اسی دن معاشی ترقی کی حقیقی بنیاد مضبوط ہونا شروع ہو جائے گی۔
یاد رکھیے! قومیں صرف سونا، تانبہ اور معدنیات دریافت کرنے سے خوشحال نہیں ہوتیں، قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب ان کے نظام میں انصاف زندہ ہو۔





