پمز میں نومولود جل گئے، مگر ذمہ داروں کی کرسیاں سلامت کیوں؟
تحریر: کلب عابد خان
03009635323
پمز کے سانحے نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا ہے۔ ایک ہسپتال جہاں مائیں اپنے نومولود بچوں کو محفوظ ہاتھوں میں دینے کی امید لے کر آتی ہیں، وہاں معصوم بچوں کا اس طرح دنیا سے چلے جانا صرف ایک حادثہ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک ایسا سانحہ ہے جس نے نہ صرف کئی خاندانوں کی خوشیاں چھین لیں بلکہ ہمارے پورے سرکاری نظامِ صحت کی کارکردگی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سب سے زیادہ دردناک تصور یہ ہے کہ ایک ماں اپنے بچے کو ہسپتال میں داخل کرواتی ہے، اس امید کے ساتھ کہ ڈاکٹر اور عملہ اس کی جان بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے، مگر چند لمحوں میں وہی ہسپتال اس کی زندگی کا سب سے بڑا دکھ بن جاتا ہے۔ بچے چلے گئے، مائیں رہ گئیں، خاندان رہ گئے اور ایک ایسا غم رہ گیا جو شاید کبھی ختم نہ ہو۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آخر یہ ہوا کیسے؟
اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ اگر ہسپتال کے حفاظتی انتظامات مکمل تھے تو یہ سانحہ کیسے پیش آیا، اور اگر مکمل نہیں تھے تو ذمہ دار افسران نے انہیں درست کیوں نہیں کیا؟
یہ سوال صرف پمز کی انتظامیہ سے نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان تمام افسران سے ہونا چاہیے جو سرکاری ہسپتالوں کی نگرانی اور معائنوں کے ذمہ دار ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ کوئی بڑا افسر ہسپتال کا دورہ کرتا ہے، وارڈز دیکھتا ہے، انتظامیہ سے بریفنگ لیتا ہے، افسران اور عملے کے ساتھ درجنوں تصاویر بنواتا ہے اور پھر ایک پریس ریلیز جاری ہو جاتی ہے کہ ہسپتال میں تمام انتظامات بہترین ہیں۔
اگر واقعی سب کچھ بہترین تھا تو پھر خامی کہاں تھی؟
اگر سب کچھ محفوظ تھا تو معصوم بچوں کی جانیں کیوں گئیں؟
اور اگر انتظامیہ کو پہلے سے کسی خطرے یا حفاظتی کمی کا علم تھا تو اسے دور کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟
اب وقت آگیا ہے کہ ’’سب اچھا‘‘ کی رپورٹوں سے آگے بڑھا جائے۔ عوام کو صرف تصاویر اور بیانات نہیں چاہییں، عوام کو عملی نتائج چاہییں۔ ہسپتال کا دورہ اس وقت معنی رکھتا ہے جب افسران صرف کیمرے کے سامنے کھڑے ہونے کے بجائے ہر ممکن خطرے کا جائزہ لیں اور اسے ختم کروائیں۔پمز سانحے کے بعد سب سے پہلے ان افسران کا احتساب ہونا چاہیے جو حفاظتی انتظامات کے ذمہ دار تھے۔ وارڈ کی انتظامیہ سے لے کر ہسپتال کے اعلیٰ انتظامی افسران تک ہر سطح پر ذمہ داری کا تعین ہونا چاہیے۔ یہ دیکھا جائے کہ کس کی ڈیوٹی کیا تھی، کس نے کیا رپورٹ دی، کس نے کیا منظوری دی اور کس مقام پر غفلت یا کوتاہی ہوئی۔
اگر کسی کی غفلت ثابت ہوتی ہے تو کارروائی صرف کاغذی نہیں ہونی چاہیے بلکہ قانون کے مطابق سخت اور واضح ہونی چاہیے۔
ہماری ایک بدقسمتی یہ بھی ہے کہ بڑے سانحات کے بعد اکثر کارروائی کا رخ سب سے کمزور شخص کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔ کسی نچلے درجے کے ملازم کو معطل کر دیا جاتا ہے، کمیٹی بنا دی جاتی ہے، چند دن خبریں چلتی ہیں اور پھر معاملہ آہستہ آہستہ خاموش ہو جاتا ہے۔ اگر پمز کے سانحے میں بھی یہی روایت دہرائی گئی تو یہ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔
کیونکہ نظام صرف ایک ملازم سے نہیں چلتا۔ہسپتال میں انتظامی افسران ہوتے ہیں، وارڈ انچارج ہوتے ہیں، سپروائزری نظام ہوتا ہے، اعلیٰ حکام نگرانی کرتے ہیں۔ اگر کسی ایک جگہ سے لے کر دوسری جگہ تک پوری زنجیر موجود ہے تو پھر کسی بڑے سانحے کے بعد پوری زنجیر کی ذمہ داری کا جائزہ بھی لینا ہوگا۔
اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو افسران سرکاری ہسپتالوں کے باقاعدہ دورے کرتے ہیں، ان سے بھی پوچھا جائے کہ ان کے معائنے کہاں گئے؟
اگر ایک افسر نے ہسپتال کا دورہ کیا اور اسے سب کچھ درست نظر آیا، مگر کچھ عرصے بعد ایسا سانحہ پیش آگیا، تو اس معائنے کی افادیت پر سوال ضرور اٹھے گا۔ صرف فائل پر دستخط اور پریس ریلیز جاری کرنا نگرانی نہیں ہے۔ اصل نگرانی وہ ہے جس کے نتیجے میں خطرہ پیدا ہونے سے پہلے اسے ختم کر دیا جائے۔
ہمیں ’’بجٹ نہیں ہے‘‘ کے عذر کو بھی ہر معاملے کا جواب نہیں بنانا چاہیے۔ اگر بنیادی حفاظتی سہولیات کے لیے رقم درکار ہے تو حکومت کو اسے ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرنا ہوگا۔ انسانی زندگی کسی بھی بجٹ سے زیادہ قیمتی ہے۔ حکومتیں بڑے بڑے منصوبوں کے لیے وسائل پیدا کر سکتی ہیں تو ہسپتالوں میں بنیادی حفاظتی سہولیات کے لیے بھی وسائل فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
ایک ماں اپنے بچے کو ہسپتال میں اس لیے داخل کرواتی ہے کہ وہاں اس کی زندگی محفوظ ہوگی۔ اسے یہ معلوم ہونا ضروری نہیں کہ ہنگامی راستہ کہاں ہے، حفاظتی نظام کیسے کام کرتا ہے یا کس مشین کی دیکھ بھال کب ہوئی۔ یہ سب انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔
اسی لیے پمز سانحے کے بعد صرف ایک انکوائری کافی نہیں۔ ملک کے تمام بڑے سرکاری ہسپتالوں کے حفاظتی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے۔ ہر وارڈ کا حفاظتی آڈٹ ہونا چاہیے، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی عملی مشقیں کروانی چاہییں، عملے کو تربیت دینی چاہیے اور ہر سطح پر ذمہ داری واضح ہونی چاہیے۔ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ جن افسران کی ذمہ داری میں حفاظتی خامی سامنے آئے، انہیں محض عہدہ تبدیل کرکے بری الذمہ نہ کیا جائے۔ اگر غفلت ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
یہاں ہمیں ان ماؤں کو بھی یاد رکھنا ہوگا جنہوں نے اپنے بچے کھوئے ہیں۔ ان کے لیے یہ صرف ایک خبر نہیں۔ یہ پوری زندگی کا سانحہ ہے۔ ایک ماں اپنے بچے کی پیدائش کے ساتھ مستقبل کے خواب دیکھتی ہے۔ وہ اس کی مسکراہٹ، اس کی پہلی آواز اور اس کے پہلے قدم کا خواب دیکھتی ہے۔ جب وہ بچہ اچانک اس دنیا سے چلا جائے تو اس کے ساتھ صرف ایک زندگی ختم نہیں ہوتی، ایک خاندان کے کئی خواب بھی ختم ہو جاتے ہیں۔
ایسے خاندانوں کو صرف تعزیت نہیں چاہیے، انہیں جواب چاہیے۔
انہیں انصاف چاہیے۔
انہیں یقین چاہیے کہ ان کے بچوں کی موت کو ایک فائل کا نمبر بنا کر بند نہیں کر دیا جائے گا۔
اور یہی وجہ ہے کہ اب حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اسے صرف ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا اعلان کرنا ہے یا واقعی احتساب کرنا ہے۔
عہدے کسی کی جاگیر نہیں، اختیار عوام کی امانت ہے۔
آج کوئی افسر طاقتور کرسی پر بیٹھا ہے، کل وہ کرسی کسی اور کے پاس ہوگی۔ آج پروٹوکول ہے، کل نہیں ہوگا۔ آج اختیار ہے، کل ختم ہو جائے گا۔ مگر جس ماں کی گود اجڑ گئی، اس کا غم عمر بھر اس کے ساتھ رہے گا۔
اس لیے اب وقت ہے کہ عہدوں سے زیادہ انسانی زندگی کی قدر کی جائے۔
جو ذمہ دار ہے، اس سے جواب لیا جائے۔
جو نگرانی میں ناکام رہا، اسے جواب دہ بنایا جائے۔
جو حفاظتی سہولیات فراہم نہ کر سکا، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
اور جو لوگ صرف ’’سب اچھا‘‘ کی رپورٹیں دے کر اپنی ذمہ داری پوری سمجھتے ہیں، ان سے بھی پوچھا جائے کہ ان کی رپورٹوں میں وہ خطرات کیوں نظر نہیں آئے جنہوں نے معصوم جانیں لے لیں؟
پمز میں نومولود جل گئے، مگر ذمہ داروں کی کرسیاں سلامت کیوں؟
یہ سوال صرف آج کا نہیں، آنے والے کل کا بھی ہے۔
اگر آج بھی ہم نے سبق نہ سیکھا تو کل کسی اور ہسپتال میں کسی اور ماں کی گود اجڑ سکتی ہے۔
خدارا، اس سانحے کو معمول کی خبر نہ بننے دیں۔
تصاویر نہیں، احتساب چاہیے۔
پریس ریلیز نہیں، حفاظتی نظام چاہیے۔
’’سب اچھا‘‘ نہیں، واقعی سب محفوظ چاہیے۔
کیونکہ عہدے، کرسیاں، طاقت اور پروٹوکول سب ختم ہو جاتے ہیں، مگر ایک ماں کی اجڑی ہوئی گود کا درد کبھی ختم نہیں ہوتا





