مہنگائی نے بچوں کے ہاتھوں سے کتابیں چھین لیں، والدین کے خواب ٹوٹنے لگے!

تحریر: کلب عابد خان

پاکستان میں مہنگائی کا طوفان اب صرف گھریلو بجٹ، بازاروں اور کاروباری سرگرمیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے ہمارے بچوں کے مستقبل کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ وہ بچے جن کے ہاتھوں میں کتابیں، قلم اور بستے ہونے چاہئیں، آج ان میں سے بہت سے بچے معاشی مجبوریوں کے باعث اسکولوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ کہیں والدین فیس ادا کرنے سے قاصر ہیں، کہیں کتابیں، کاپیاں اور یونیفارم خریدنا مشکل ہو گیا ہے، تو کہیں اسکول آنے جانے کے لیے ٹرانسپورٹ کا خرچ برداشت کرنا ممکن نہیں رہا۔ یہ صورتحال محض ایک گھرانے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے اور ریاست کے لیے ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ ہے۔

ایک عام مزدور، دیہاڑی دار، چھوٹے دکاندار اور کم تنخواہ لینے والے ملازم کی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی آمدنی کا بڑا حصہ گھر کے بنیادی اخراجات میں ختم ہو جاتا ہے۔ آٹا، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں، بجلی، گیس، پانی، مکان کا کرایہ اور ادویات خریدنے کے بعد والدین کے پاس بچوں کی تعلیم کے لیے بہت کم رقم بچتی ہے۔ مہینے کے آغاز میں تنخواہ ملتی ہے اور چند دن بعد ہی اخراجات کا پہاڑ سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں اسکول کی فیس کا تقاضا والدین کے لیے ایک نئی پریشانی بن جاتا ہے۔

سب سے زیادہ تکلیف دہ صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ایک باپ اپنے بچے کو اسکول سے اٹھانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ یہ فیصلہ اس کی خواہش نہیں بلکہ حالات کی مجبوری ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ تعلیم کے بغیر بچے کا مستقبل محدود ہو سکتا ہے، لیکن جب گھر میں کھانے پینے کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو جائیں تو وہ کس طرح ہر ماہ کئی بچوں کی فیس ادا کرے؟ کئی مائیں اپنے بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے گھر کے اخراجات میں کمی کرتی ہیں، زیورات فروخت کرتی ہیں یا رشتہ داروں سے مدد مانگتی ہیں۔ اس کے باوجود بہت سے خاندان بچوں کو تعلیم سے محروم ہونے سے نہیں بچا پاتے۔

پاکستان میں اسکولوں سے باہر بچوں کی تعداد پہلے ہی تشویشناک ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024-25 کے مطابق پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تقریباً 28 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ ان میں ایسے بچے بھی شامل ہیں جنہوں نے کبھی اسکول میں داخلہ نہیں لیا اور ایسے بچے بھی جو تعلیم شروع کرنے کے بعد مختلف وجوہات کی بنا پر اسکول چھوڑ گئے۔ یہ اعدادوشمار ہمیں بتاتے ہیں کہ مسئلہ صرف بچوں کو اسکول میں داخل کروانے کا نہیں بلکہ انہیں تعلیم کے سلسلے میں برقرار رکھنے کا بھی ہے۔

نجی تعلیمی اداروں کی فیسیں بھی بہت سے والدین کی استطاعت سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ فیس کے علاوہ سالانہ چارجز، داخلہ فیس، امتحانی فیس، کتابیں، کاپیاں، یونیفارم اور دیگر اخراجات الگ ہیں۔ بعض اسکولوں میں ہر سال نئے تعلیمی سیشن کے ساتھ والدین پر اضافی مالی بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ متوسط طبقہ بھی اب اس صورتحال سے محفوظ نہیں رہا۔ جو خاندان چند سال پہلے اپنے بچوں کو اچھے نجی اسکولوں میں پڑھانے کی استطاعت رکھتے تھے، آج وہ بھی اخراجات کم کرنے کے لیے بچوں کو کم فیس والے اسکولوں میں منتقل کرنے یا تعلیم ترک کروانے پر غور کرنے پر مجبور ہیں۔

دوسری طرف سرکاری اسکولوں کی صورتحال بھی توجہ طلب ہے۔ اگرچہ سرکاری اسکولوں میں مفت تعلیم کی سہولت موجود ہے، لیکن کئی علاقوں میں عمارتوں، صاف پانی، واش رومز، اساتذہ کی دستیابی اور تعلیمی معیار سے متعلق مسائل پائے جاتے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے نجی اسکولوں کا انتخاب کرتے ہیں، لیکن جب وہاں کے اخراجات برداشت نہیں کر پاتے تو ان کے سامنے محدود راستے رہ جاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کو اس قابل بنایا جائے کہ غریب اور متوسط طبقے کے بچے بھی معیاری تعلیم حاصل کر سکیں۔

اس مسئلے کا ایک اور خطرناک پہلو بچوں سے کم عمری میں مزدوری کروانا ہے۔ اسکول چھوڑنے والے بہت سے بچے ورکشاپوں، دکانوں، ہوٹلوں اور مختلف کاروباری مراکز پر کام کرنے لگتے ہیں۔ کوئی والد کے ساتھ مزدوری کرتا ہے، کوئی گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے چھوٹی موٹی ملازمت اختیار کر لیتا ہے۔ یوں ایک ایسا بچہ جس کے اندر ڈاکٹر، انجینئر، استاد، سائنس دان یا افسر بننے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے، غربت اور معاشی دباؤ کے باعث اپنے خوابوں سے محروم ہو جاتا ہے۔ بچیوں کی تعلیم بھی متاثر ہوتی ہے اور بعض خاندان مالی مشکلات کے باعث سب سے پہلے بیٹیوں کی تعلیم ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، جو ایک الگ معاشرتی مسئلہ ہے۔
یہاں حکومت کے ساتھ ساتھ نجی تعلیمی اداروں کی ذمہ داری بھی اہم ہو جاتی ہے۔ کیا اسکول انتظامیہ مستحق بچوں کے لیے خصوصی فیس رعایت نہیں دے سکتی؟ کیا ایسے والدین کو اقساط کی سہولت فراہم نہیں کی جا سکتی جو وقتی مالی مشکلات کا شکار ہیں؟ کیا کسی بچے کو صرف فیس کی عدم ادائیگی پر تعلیم سے محروم کرنا مناسب ہے؟ تعلیمی اداروں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ تعلیم صرف کاروبار نہیں بلکہ قوم کے مستقبل کی تعمیر کا ذریعہ ہے۔ انہیں اپنے مالی معاملات کے ساتھ ساتھ سماجی ذمہ داریوں کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔

حکومت کو چاہیے کہ کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کے لیے خصوصی تعلیمی وظائف شروع کرے، مستحق طلبہ کو مفت کتابیں، یونیفارم اور ٹرانسپورٹ فراہم کرے اور سرکاری اسکولوں میں تعلیمی سہولیات بہتر بنائے۔ ایسے خاندانوں کی نشاندہی کے لیے مقامی سطح پر سروے کیا جائے جن کے بچے فیس ادا نہ کر سکنے کے باعث اسکول چھوڑنے کے قریب ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور دیگر سماجی تحفظ کے منصوبوں کے ساتھ بچوں کی تعلیم کو بھی مؤثر انداز میں منسلک کیا جا سکتا ہے۔ صرف اسکولوں میں داخلے بڑھانے کے اعلانات کافی نہیں، بچوں کو تعلیم مکمل کرنے تک سہارا دینا بھی ضروری ہے۔

آئین پاکستان کا آرٹیکل 25-A پانچ سے سولہ سال تک کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ محض آئینی عبارت نہیں بلکہ ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اس حق کو عملی شکل دے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کوئی بچہ غربت، مہنگائی یا والدین کی مالی مجبوری کے باعث تعلیم سے محروم نہ ہو۔ تاجر برادری، مخیر حضرات، سماجی تنظیموں اور صاحبِ حیثیت افراد کو بھی مستحق بچوں کی تعلیمی کفالت کے لیے آگے آنا چاہیے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مہنگائی کے اثرات کو صرف بازار کی قیمتوں سے نہ ناپیں بلکہ یہ بھی دیکھیں کہ اس نے کتنے بچوں کے خواب چھین لیے ہیں۔ ایک بچے کا اسکول چھوڑنا صرف ایک خاندان کا نقصان نہیں بلکہ ملک کے مستقبل کے لیے ایک بڑا خسارہ ہے۔ تعلیم یافتہ نسل ہی ملک کو معاشی استحکام، سماجی ترقی اور بہتر مستقبل کی طرف لے جا سکتی ہے۔
آخر میں حکومت، تعلیمی اداروں اور معاشرے کے ہر صاحبِ احساس فرد سے سوال ہے کہ کیا ہم واقعی ایک تعلیم یافتہ پاکستان چاہتے ہیں؟ اگر ہاں تو ہمیں اپنے بچوں کو مہنگائی کی بھینٹ چڑھنے سے بچانا ہوگا۔ کیونکہ آج اگر والدین کی غربت نے بچوں کے ہاتھوں سے کتابیں چھین لیں تو کل یہی محرومی پوری قوم کو اس کی قیمت ادا کرنے پر مجبور کرے گی۔ یاد رکھیے، قومیں عمارتوں اور سڑکوں سے نہیں بلکہ تعلیم یافتہ نسلوں سے ترقی کرتی ہیں۔ بچوں کی تعلیم بچانا دراصل پاکستان کا مستقبل بچانا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں