تحریر: شہزاد فرید (صحافی)
کسی بھی جدید، جمہوری اور ترقی یافتہ ریاست کے خدوخال کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ موثر طرزِ حکمرانی کے لیے ریاست اور عوام کے درمیان فاصلہ کم سے کم ہونا چاہیے۔ پچیس کروڑ کی خطیر آبادی اور ایٹمی صلاحیت کے حامل ملک کو محض چار انتظامی اکائیوں یا صوبوں کے بوسیدہ ڈھانچے پر چلانا درحقیقت ایک سنگین گورننس کے بحران کو جنم دے رہا ہے۔ عالمی سطح پر اگر ہم دیگر ممالک کی جانب نظر دوڑائیں تو صورتحال یکسر مختلف اور سبق آموز نظر آتی ہے۔ نیپال جیسا ترقی پذیر ملک، جس کی کل آبادی بمشکل تین کروڑ کے لگ بھگ ہے، وہاں انتظامی بہتری اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے سات صوبے قائم کیے گئے ہیں۔ اسی طرح سری لنکا کی مثال لے لیں، جس کی آبادی دو کروڑ سے کچھ زائد ہے لیکن وہاں مقامی سطح پر مسائل کے حل کے لیے نو صوبے کامیابی سے کام کر رہے ہیں۔ یہ ممالک معاشی اور عسکری لحاظ سے ہم سے زیادہ مستحکم نہیں ہیں، مگر ان کی قیادت اس بنیادی اصول سے بخوبی واقف ہے کہ مستحکم گورننس کے لیے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا اور انتظامی اکائیوں کو عوام کی دہلیز تک لانا ناگزیر ہے۔
اس غیر متوازن اور فرسودہ انتظامی ڈھانچے کو سمجھنے کے لیے ہم خود پاکستان کے ریاستی اداروں کی مثال لے سکتے ہیں۔ پاک فوج کی طرزِ کمانڈ اینڈ کنٹرول اس لیے انتہائی منظم اور موثر ہے کیونکہ پورے ملک میں 9 کورز اور 32 سے زائد عسکری ڈویژنز موجود ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت اور موثر فیصلہ سازی کی جا سکے۔ اس کے برعکس، سویلین سیٹ اپ کی مرکزیت پسندی کا یہ عالم ہے کہ اکیلے صوبہ پنجاب میں 13 کروڑ سے زائد نفوس پر مشتمل آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے صرف ایک وزیرِ اعلیٰ کا منصب قائم ہے۔ یہ انسانی، جغرافیائی اور انتظامی لحاظ سے کسی طور ممکن ہی نہیں کہ ایک فردِ واحد اتنے بڑے ہجوم کے مسائل کا احاطہ کر سکے اور ان کے حل کے لیے کوئی موثر حکمت عملی ترتیب دے سکے۔
اس ضمن میں اگر ملتان اور خطہِ جنوبی پنجاب کے مقدمے کا منطقی، تاریخی اور معاشی جائزہ لیا جائے تو احساسِ محرومی کی وجوہات بالکل واضح ہو جاتی ہیں۔ ملتان، جو ہزاروں سال پر محیط ایک شاندار تاریخ کا امین ہے اور جو کبھی اس پورے خطے کا سب سے بڑا تجارتی، ثقافتی اور سیاسی مرکز ہوا کرتا تھا، آج اپنے بنیادی انتظامی اور ترقیاتی فیصلوں کے لیے تختِ لاہور کا محتاج ہے۔ خطہِ جنوبی پنجاب پورے صوبے اور ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں کے کسان اپنی محنت سے پورے ملک کو کپاس، گندم، آم اور دیگر نقد آور فصلیں فراہم کرتے ہیں، جو ملکی زرمبادلہ اور جی ڈی پی میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہیں۔ تاہم، جب قومی اور صوبائی بجٹ کی تقسیم کا مرحلہ آتا ہے، تو اس کا ایک خطیر حصہ اپر پنجاب میں میٹرو اور اورنج لائن ٹرین جیسے میگا پراجیکٹس کی نذر ہو جاتا ہے۔ وسائل کی اس غیر منصفانہ تقسیم کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پنجاب کا بجٹ اور ترقیاتی حکمتِ عملی لاہور کے سرد اور پرتعیش ایوانوں میں مرتب کی جاتی ہے۔ چونکہ فیصلہ ساز وہیں مقیم ہیں، اس لیے ترقیاتی فنڈز کا رخ بھی قدرتی طور پر اسی جانب مڑ جاتا ہے۔ یہ عمل بظاہر کوئی کھلی چوری نہیں ہے، بلکہ یہ طاقت کے مرکز سے ‘قربت’ کا وہ فائدہ ہے جو ہمیشہ سے فیصلہ سازوں کے جغرافیائی طور پر قریبی علاقوں کو ملتا رہا ہے۔
جنوبی پنجاب کے عوام کے دیرینہ مطالبے کو وقتی طور پر خاموش کرنے کے لیے ملتان اور بہاولپور میں ساؤتھ پنجاب سیکرٹریٹ کا قیام بظاہر ایک احسن قدم قرار دیا گیا، مگر زمینی حقائق اور انتظامی پیچیدگیاں بتاتی ہیں کہ آج بھی اصل مالی، انتظامی اور حتمی پالیسی سازی کے اختیارات لاہور میں براجمان بیوروکریسی کے پاس ہی ہیں۔ تاریخی اعتبار سے بہاولپور کی مثال بے حد اہم اور چشم کشا ہے۔ 1955 کے متنازعہ ون یونٹ کے قیام سے قبل، بہاولپور ایک الگ، خوشحال اور خود مختار ریاست کا درجہ رکھتا تھا۔ اس کی اپنی منتخب اسمبلی تھی، ایک مضبوط اور مستحکم خزانہ تھا اور وہاں کے عوام معاشی طور پر خوشحالی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ آج جب جنوبی پنجاب یا بہاولپور کی بحالی کی بات کی جاتی ہے، تو وہ کوئی غیر آئینی یا نیا مطالبہ نہیں، بلکہ عوام کا وہ تاریخی اور جمہوری حق ہے جو دہائیوں قبل انتظامی تجربات کی بھینٹ چڑھا کر ان سے چھین لیا گیا تھا۔
صوبائی محکموں اور سرکاری ملازمتوں میں نمائندگی کا جائزہ لیا جائے تو وہاں بھی ایک شدید طبقاتی اور جغرافیائی تضاد پایا جاتا ہے۔ پورے صوبے کا کوٹہ ایک ہی اکائی کے طور پر مقرر کیا جاتا ہے۔ اب ایک طرف لاہور یا فیصل آباد کے جدید تعلیمی اداروں اور اعلیٰ سہولیات سے مستفید ہونے والا طالب علم ہے، اور دوسری طرف راجن پور، مظفر گڑھ، ڈی جی خان، یا لیہ کے پسماندہ ترین اور بنیادی سہولیات سے محروم سکولوں میں پڑھنے والا نوجوان ہے۔ نظام ان دونوں کو نوکری کے حصول کے لیے ایک ہی قطار میں کھڑا کر دیتا ہے۔ یہ کسی بھی طور پر مساوی اور منصفانہ مقابلہ نہیں ہے کیونکہ دونوں کے وسائل، تعلیمی معیار اور مواقع میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ چھوٹے اور نئے صوبے کے قیام کا مطلب یہ ہے کہ جنوبی پنجاب کا اپنا ایک مخصوص کوٹہ ہوگا اور یہاں کے نوجوانوں کو ان کے اپنے وسائل کے مطابق روزگار کے مساوی مواقع میسر آئیں گے۔
مرکزیت پسندی کے تباہ کن نقصانات قدرتی آفات کے دوران مزید کھل کر سامنے آتے ہیں۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب کی مثال ہمارے سامنے ہے؛ جب سیلابی ریلا راجن پور، تونسہ اور ڈی جی خان کے علاقوں کو بے دردی سے ڈبو رہا تھا، اس وقت امدادی، تدارکی اور ریسکیو سرگرمیوں کے فیصلے سینکڑوں کلومیٹر دور لاہور میں ہو رہے تھے۔ جب تک بیوروکریسی کی فائلیں سرخ فیتے کے چنگل سے آزاد ہو کر زمینی حقائق تک پہنچتیں، درجنوں بستیاں اور کسانوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی صفحہِ ہستی سے مٹ چکی تھی۔ انتظامی اکائیوں کو چھوٹا کرنے کا براہِ راست اور سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ فیصلہ سازی اسی مقام پر ہوتی ہے جہاں اس کی فوری ضرورت ہوتی ہے اور وسائل کا ضیاع کم سے کم ہوتا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں اور نظامِ انصاف کا حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ پنجاب پولیس کے ڈھانچے پر غور کریں تو ایک آئی جی کے ماتحت دو لاکھ سے زائد پولیس اہلکار فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی جدید اور ترقی یافتہ ملک میں پولیس فورس کا اتنا وسیع اور بے ہنگم سٹرکچر موجود نہیں ہے جسے ایک مرکز سے کنٹرول کیا جا رہا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی تھانوں میں عام آدمی کی داد رسی نہیں ہوتی اور اس کی فریاد اعلیٰ حکام تک پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتی ہے۔ یہ انتظامی فاصلے کا المیہ ہے۔ جنوبی پنجاب کا مسئلہ محض لسانی نہیں ہے، بلکہ یہ ریاست اور عوام کے درمیان موجود طویل جغرافیائی فاصلے اور احساسِ محرومی کا نتیجہ ہے۔ بالکل اسی طرز پر، خیبر پختونخوا میں ہزارہ ڈویژن کی شکایات بھی محض زبان کے اختلاف کی بنیاد پر نہیں ہیں، بلکہ پشاور سے ان کی طویل مسافت اور مرکز سے دوری ان کے احساسِ محرومی کی اصل وجہ ہے۔
سرکاری مشینری تک عوامی رسائی کی بات کی جائے تو ریاستی ڈھانچہ اس قدر پیچیدہ، طویل اور مبہم ہو چکا ہے کہ آج کے دور میں ایک عام شہری کو اپنے ہی ضلع کے ڈپٹی کمشنر یا اعلیٰ افسران تک رسائی تو درکنار، ان کا نام تک معلوم نہیں ہوتا۔ ریاستی ادارے عوام سے اس قدر دور ہو چکے ہیں کہ عام آدمی کی وہاں تک رسائی ناممکنات میں شامل ہو چکی ہے۔ عدالتی نظام، جو کہ کسی بھی معاشرے کی بقا اور امن کا ضامن ہوتا ہے، اس کی کارکردگی کا یہ عالم ہے کہ صرف لاہور ہائی کورٹ پر 13 کروڑ افراد کو انصاف فراہم کرنے کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ اس غیر معمولی بوجھ اور ججز کی کمی کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک عام نوعیت کا مقدمہ بھی حتمی فیصلے تک پہنچنے میں دہائیاں لے لیتا ہے۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 198 کے تحت مختلف شہروں میں ہائی کورٹ کے بینچز تو موجود ہیں، لیکن نئے صوبے کے قیام کا لازمی جزو ایک نئی، مکمل اور خود مختار ہائی کورٹ کا قیام ہے۔ آخر ملتان، لودھراں، وہاڑی یا بہاولنگر کا رہائشی محض ایک آئینی اپیل یا انصاف کے حصول کے لیے سینکڑوں کلومیٹر کا صبر آزما سفر طے کر کے لاہور کیوں جائے؟
نئے صوبوں کی مخالفت میں اکثر یہ روایتی اور کمزور دلیل پیش کی جاتی ہے کہ اس سے قومی خزانے پر مالی بوجھ پڑے گا اور غیر ترقیاتی اخراجات بڑھ جائیں گے۔ لیکن معاشی اور انتظامی حقائق یہ ثابت کرتے ہیں کہ اس عمل کے لیے کوئی خطیر نیا سرمایہ درکار نہیں ہے، بلکہ یہ محض انتظامی ڈھانچے اور وسائل کی ترسیل کا ‘ایڈریس’ تبدیل کرنے کا عمل ہے۔ جو ترقیاتی فنڈز اور ٹیکس ریونیو آج لاہور کے راستے ملتان یا بہاولپور تک پہنچتے ہیں اور راستے میں کٹوتی کا شکار ہو جاتے ہیں، وہ نئے صوبے کے قیام کی صورت میں براہِ راست مقامی خزانے میں جمع ہوں گے۔ یہ 1947 میں برطانوی راج کا چھوڑا ہوا اور کھینچا گیا ایک پرانا اور فرسودہ نقشہ ہے جسے ہم نے گزشتہ 79 سالوں سے ایک مقدس قومی اثاثہ سمجھ کر سینے سے لگا رکھا ہے۔ وقت، آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور جدید گورننس کا تقاضا ہے کہ اس فرسودہ نقشے پر نظرِ ثانی کی جائے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 239 (4) نئے صوبوں کے قیام کا واضح طریقہ کار فراہم کرتا ہے، جس کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی اور پارلیمان سے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ یعنی آئینی راستہ موجود ہے، محض سیاسی عزم کی کمی ہے۔
اس گورننس کے بحران کو صرف پنجاب تک محدود سمجھنا ایک فاش غلطی ہوگی۔ بلوچستان، جو کہ رقبے کے لحاظ سے ملک کا تقریباً 44 فیصد حصہ بنتا ہے، اسے بھی صرف ایک صوبائی اسمبلی اور کوئٹہ میں بیٹھی ایک حکومت کے ذریعے کنٹرول کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔ گوادر سے لے کر کوئٹہ تک کا فاصلہ تقریباً 900 کلومیٹر پر محیط ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ایک عام بلوچی کو اپنی ہی سرکار اور صوبائی اسمبلی تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کم از کم دو دن کا کٹھن سفر کرنا پڑتا ہے۔ یہ کسی بھی طرح سے موثر گورننس نہیں ہے، بلکہ عوام کے ساتھ ایک سنگین انتظامی ظلم ہے۔
سندھ کی تاریخ اور موجودہ جغرافیائی صورتحال بھی گہری توجہ کی متقاضی ہے۔ 1936 میں قیامِ پاکستان سے قبل، گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے تحت سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی سے علیحدہ کر کے ایک الگ صوبے کا درجہ دیا گیا تھا۔ اس تاریخی علیحدگی کی بنیادی وجہ ہی سندھ کی قیادت کا یہ ٹھوس اور منطقی موقف تھا کہ سینکڑوں میل دور سے حکومت کے معاملات احسن طریقے سے نہیں چلائے جا سکتے۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ وہ اصول جو سندھ نے خود 1936 میں اپنے حق میں منوایا تھا، آج کے دور میں اربابِ اختیار اسے اپنے ہی صوبے کے عوام پر لاگو کرنے سے گریزاں ہیں۔ آج کشمور، گھوٹکی یا جیکب آباد کا کراچی سے فاصلہ 500 سے 600 کلومیٹر سے زائد ہے۔ صوبے کا مکمل سیکرٹریٹ کراچی میں قائم ہے جبکہ زراعت سے وابستہ کسان اور عام شہری کشمور اور سکھر میں دربدر ہو رہا ہے۔ ایک کسان کو اپنی زرعی زمین کے ایک چھوٹے سے تنازعے، پٹواری کے مسئلے یا سرکاری کاغذ کے حصول کے لیے اپنا کام کاج چھوڑ کر پورا دن سفر کر کے کراچی جانا پڑتا ہے۔ اسی طرح، صحت کی معیاری سہولیات کا فقدان بھی مرکزیت پسندی کا شاخسانہ ہے۔ ایک ماہ کا بچہ اگر شدید بیمار ہو جائے، تو اسے علاج کی غرض سے کراچی کے بڑے ہسپتالوں میں لانا پڑتا ہے کیونکہ باقی صوبے میں ویسی جدید طبی سہولیات کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ اگر انتظامی بنیادوں پر صوبے تقسیم ہوں گے تو کشمور، لاڑکانہ اور سکھر کے اپنے بڑے اور جدید ہسپتال قائم ہوں گے، اور صحت کی معیاری سہولیات صرف کراچی کے چند مخصوص ہسپتالوں تک محدود نہیں رہیں گی۔
نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ ساتھ، مقامی حکومتوں (Local Governments) کا بااختیار ہونا بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 140A سال 2010 کی اٹھارویں ترمیم کے بعد سے آئین کا حصہ ہے، مگر بدقسمتی سے اس پر آج تک اس کی روح کے مطابق عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ یہ آرٹیکل انتہائی واضح اور غیر مبہم الفاظ میں اس بات کا پابند کرتا ہے کہ ہر صوبہ اپنی مقامی حکومتوں کو ‘سیاسی، انتظامی اور مالی’ اختیارات مکمل طور پر منتقل کرے گا۔ لیکن عملی صورتحال یہ ہے کہ کراچی جیسے میگا سٹی، جو ملکی معیشت کا پہیہ چلاتا ہے، اس کے منتخب میئر کو محض چند سیاسی اور انتظامی ذمہ داریاں تو تفویض کر دی گئی ہیں، مگر اس شق کا تیسرا اور سب سے اہم جزو یعنی ‘مالی اختیار’ کبھی نہیں دیا گیا۔ میئر کے پاس فنڈز اکٹھا کرنے اور خرچ کرنے کا کوئی قابلِ ذکر اختیار نہیں ہے۔ یہ ایسی انتظامی قمیض کے مترادف ہے جس کے صرف دو بٹن لگائے گئے ہیں اور باقی سب کھلا چھوڑ دیا گیا ہے۔ جب تک اضلاع اور میونسپل کارپوریشنز کو ان کا طے شدہ مالی شیئر نہیں ملے گا، نچلی سطح پر ترقی کا خواب شرمندہِ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
خیبر پختونخوا کے حوالے سے بات کی جائے تو 2018 میں فاٹا کے انضمام کے بعد اب اس صوبے کی آبادی تقریباً چار کروڑ کے ہندسے کو چھو رہی ہے۔ سابقہ فاٹا کے عوام، جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں، آج بھی ان ترقیاتی پیکجز اور وعدوں کے پورے ہونے کے منتظر ہیں جو انضمام کے وقت ان سے کیے گئے تھے۔ ان کی محرومیوں کا ازالہ صرف نئے انتخابی حلقے بنانے سے نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لیے باقاعدہ نئی انتظامی اکائیوں اور مزید صوبوں کی تشکیل درکار ہے۔
وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور مرکزیت پسندی کے تضاد کی سب سے بڑی اور المناک مثال سندھ کا ضلع تھرپارکر ہے۔ وہاں سے ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کوئلے کے سب سے بڑے ذخائر نکالے جا رہے ہیں، اربوں روپے کی دولت اس سرزمین سے پیدا ہو رہی ہے، مگر تھرپارکر آج بھی پاکستان کا سب سے پسماندہ ترین ضلع ہے۔ وہاں غذائی قلت سے بچے مر رہے ہیں اور انسان و حیوان ایک ہی گھاٹ سے پینے کا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ دولت تو وہاں سے نکلتی ہے، مگر اس کے استعمال کے حتمی فیصلے سینکڑوں کلومیٹر دور کراچی میں بیٹھی بیوروکریسی اور اشرافیہ کرتی ہے۔
جب بھی ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی کوئی سنجیدہ بحث شروع ہوتی ہے تو فوری طور پر یہ بیانیہ سامنے آ جاتا ہے کہ ہمارے پاس مطلوبہ ڈیٹا موجود نہیں ہے، یا نئی حد بندیاں تنازعات کو جنم دیں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ درست اور شفاف ڈیٹا اکٹھا کرنا حکومتِ وقت کی بنیادی ذمہ داری ہے، نہ کہ اس کی آڑ میں فرائض سے پہلو تہی کرنا۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر ایک بااختیار اور غیر جانبدار باؤنڈری کمیشن تشکیل دے، جو آبادی، قدرتی وسائل، ٹیکس ریونیو، اور پانی کی تقسیم کے حوالے سے تمام اعداد و شمار کو مکمل شفافیت کے ساتھ پبلک ڈومین میں لے کر آئے۔ یہ قطعی ضروری نہیں ہے کہ پہلے دن ہی ہر چیز سو فیصد مکمل اور بے نقص ہو۔ گورننس کے بڑے فیصلے فوری توجہ اور جرات کے متقاضی ہوتے ہیں۔ فیصلے آج کیے جانے چاہئیں، جبکہ انتظامی ڈیزائن اور ڈھانچہ اسی عمل کے دوران بتدریج بنتا اور نکھرتا رہے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ 1973 کا متفقہ آئین بھی بنگلہ دیش کے المناک سانحے کے بعد، شدید بحرانی کیفیت میں ہی تیار کیا گیا تھا۔ دراصل، نئے سسٹم کو چلانا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے جبکہ محض نقشے بنانا اور ان پر بحث کرنا بے حد آسان کام ہے، اسی لیے ہمارے ہاں سب صرف نقشوں اور لکیروں پر لاحاصل بحث کر کے وقت کا زیاں کر رہے ہیں اور عملی اقدامات کی طرف پیش رفت صفر ہے۔
کچھ مخصوص اور مفاد پرست حلقوں کی جانب سے دانستہ طور پر یہ خوف بھی پھیلایا جاتا ہے کہ نئے صوبے بننے سے شاید سندھ تقسیم ہو جائے گا یا پنجاب کے ٹکڑے ہو جائیں گے، اور اس سے وفاق کو خطرہ لاحق ہوگا۔ یہ نظریہ دراصل عوام کو ان کے بنیادی جمہوری حقوق سے محروم رکھنے اور موجودہ اشرافیہ کے تسلط کو قائم رکھنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ملک کو توڑا جا رہا ہے، بلکہ اس کا اصل مقصد ریاست اور اس کے ثمرات کو عوام کے گھر کی دہلیز تک پہنچانا ہے تاکہ وفاق مزید مضبوط ہو۔ کشمور، جیکب آباد، ڈی جی خان، یا راجن پور کا رہائشی اپنے بنیادی حقوق، انصاف اور روزمرہ کے چھوٹے موٹے سرکاری کاموں کے لیے سینکڑوں کلومیٹر کا ذلت آمیز سفر طے کرنے پر کیوں مجبور ہو؟ اگر ہم نے آج گورننس کے اس فرسودہ اور ناکام ماڈل کو نہ بدلا، اقتدار کو نچلی سطح تک منتقل کر کے مقامی سطح پر نئی اور بااختیار قیادت کو ابھرنے کا موقع نہ دیا، اور وقت کی ضرورت کے مطابق نئے صوبے تخلیق نہ کیے، تو یہ خستہ حال اور بوسیدہ مرکزیت پسند نظام کسی بھی صورت میں 25 کروڑ لوگوں کے بڑھتے ہوئے معاشی، سماجی اور سیاسی بوجھ کو مزید برداشت نہیں کر سکے گا۔ ریاست کی بقا اور عوام کی خوشحالی کے لیے انتظامی لامركزيت اور نئے صوبوں کا قیام اب کوئی آپشن نہیں، بلکہ ایک ناگزیر قومی ضرورت بن چکا ہے۔





