کیا انتخابات سے پہلے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا نقشہ بدلنے والا ہے؟

تحریر: کلب عابد خان

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک سفارتی ملاقات، ایک فوجی نقل و حرکت یا ایک غلط فیصلہ پورے خطے کو نئی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے عالمی سطح پر کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ کیا ایران کے خلاف کسی بڑے فوجی اقدام کی تیاری ہو رہی ہے؟ کیا امریکہ اور اسرائیل کے انتخابات سے پہلے کوئی اہم فیصلہ متوقع ہے؟ اور اگر جنگ شروع ہوئی تو کیا اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود رہیں گے یا پوری دنیا کو اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی؟

ان سوالات کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی جب 19 اکتوبر 2026 کو اسرائیل کے عوفدا ایئربیس پر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ملاقات کی خبریں سامنے آئیں۔ دفاعی نوعیت کی اس ملاقات میں علاقائی خطرات اور امریکہ اسرائیل تعاون پر گفتگو کی اطلاعات سامنے آئیں۔ تاہم، اس ملاقات کو ایران پر حملے کے حتمی فیصلے کا ثبوت قرار دینا درست نہیں۔ اصل صورتِ حال سمجھنے کے لیے مصدقہ معلومات اور سیاسی حالات کا غیرجانبدارانہ جائزہ ضروری ہے۔

عوفدا ایئربیس اسرائیل کے صحرائے نیگیو میں واقع ایک اہم فوجی تنصیب ہے۔ کسی اہم امریکی دفاعی عہدیدار کی وہاں اسرائیلی قیادت سے ملاقات فطری طور پر توجہ حاصل کرتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران کے جوہری پروگرام، میزائل صلاحیت اور علاقائی اثرورسوخ پر اختلافات موجود ہوں۔ لیکن فوجی تنصیبات پر ملاقات، دفاعی تیاری اور کسی حملے کی حتمی منظوری تین مختلف معاملات ہیں۔ ان کے درمیان فرق کیے بغیر جنگ کے بارے میں قطعی دعویٰ کرنا محض قیاس آرائی ہوگی۔

امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے، جبکہ ایران دونوں ممالک کے ساتھ متعدد بنیادی معاملات پر اختلاف رکھتا ہے۔ اسرائیل ایرانی جوہری پروگرام اور خطے میں ایران سے وابستہ مسلح گروہوں کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ ایران اپنے دفاعی پروگرام اور علاقائی پالیسی کو قومی خودمختاری اور سلامتی سے جوڑتا ہے۔ امریکہ کے لیے بھی معاملہ پیچیدہ ہے، کیونکہ اسے اسرائیل کی سلامتی، خلیجی خطے میں اپنے مفادات، فوجی اہلکاروں کے تحفظ اور عالمی توانائی کی ترسیل کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔

اس تمام صورتِ حال میں انتخابات کا پہلو بھی اہم ہے۔ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات 3 نومبر 2026 کو مقرر ہیں، جبکہ اسرائیل کی داخلی سیاست بھی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی سے متاثر ہوتی ہے۔ انتخابی ماحول میں حکومتی فیصلوں پر عوامی توجہ بڑھ جاتی ہے اور سیاسی قیادت کو اپنی پالیسیوں کا دفاع کرنا پڑتا ہے۔ تاہم، یہ کہنا کہ انتخابات سے پہلے جنگ لازماً شروع ہوگی یا انتخابات کے بعد حملے کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہے، مصدقہ شواہد کے بغیر درست نہیں۔ جنگ جیسے فیصلے فوجی تیاری، انٹیلی جنس معلومات، سفارتی امکانات اور ممکنہ انسانی و معاشی نقصانات کو سامنے رکھ کر کیے جاتے ہیں۔

اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک فریق کی دفاعی تیاری دوسرے فریق کو حملے کی تیاری محسوس ہونے لگے۔ جواب میں دوسرا فریق اپنی فوجی سرگرمیاں بڑھاتا ہے اور یوں بداعتمادی کا سلسلہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔ کسی محدود کارروائی کے بعد جوابی حملہ ہو تو حالات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ایران، اسرائیل اور امریکہ کے لیے ضروری ہے کہ فوجی تیاری کے ساتھ سفارتی رابطے بھی برقرار رکھیں تاکہ غلط اندازے کسی بڑے تصادم کا سبب نہ بن جائیں۔

اگر ایران کے خلاف وسیع فوجی کارروائی ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود رہنے کا امکان نہیں۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے اہم راستے ہیں۔ وہاں جہاز رانی متاثر ہونے سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ، تجارتی اخراجات میں بڑھوتری اور عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہو سکتی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک، جو توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، اس صورتِ حال سے براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔ تیل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ، بجلی، صنعت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس کا سب سے زیادہ بوجھ عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ بحران سفارتی اعتبار سے بھی اہم ہے۔ ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے، جبکہ سعودی عرب، ترکی اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ بھی پاکستان کے اہم تعلقات ہیں۔ علاقائی جنگ پاکستان کی معیشت، توانائی کی فراہمی، تجارت اور سرحدی سلامتی کو متاثر کر سکتی ہے۔ اسی تناظر میں 26 اکتوبر کو تہران میں علاقائی سفارتی رابطوں کی اطلاعات اہمیت رکھتی ہیں۔ پاکستان سمیت خطے کے ممالک کی کوشش ہونی چاہیے کہ متعلقہ فریقوں کے درمیان مذاکرات کے امکانات برقرار رہیں اور کسی ایسے اقدام سے گریز کیا جائے جو جنگ کو مزید پھیلا دے۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا فوجی طاقت ان اختلافات کا مستقل حل فراہم کر سکتی ہے؟ کسی کارروائی سے مخالف کی صلاحیت کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے، لیکن اس سے سیاسی تنازعہ لازماً ختم نہیں ہوتا۔ جوہری پروگرام، پابندیوں، علاقائی سلامتی اور باہمی عدم اعتماد جیسے معاملات کو حل کرنے کے لیے مذاکرات اور قابلِ تصدیق معاہدوں کی ضرورت رہتی ہے۔ اگر سفارت کاری کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا جائے تو محدود تنازعہ بھی طویل اور تباہ کن جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

اس بحران کا انسانی پہلو بھی سب سے زیادہ اہم ہے۔ جنگ کا فیصلہ سیاسی قیادت کرتی ہے، لیکن اس کی قیمت عام خاندان ادا کرتے ہیں۔ شہریوں کی ہلاکتیں، گھروں کی تباہی، بے گھری، روزگار کا خاتمہ اور بچوں کے مستقبل پر پڑنے والے اثرات کسی بھی فوجی کامیابی کے دعوے سے کہیں زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔ اسی لیے تمام فریقوں کو شہریوں کے تحفظ، بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندی اور انسانی امداد کی فراہمی کو ترجیح دینی چاہیے۔

آنے والے دنوں میں اصل توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ کیا امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے، کیا اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے کوئی مؤثر راستہ نکلتا ہے اور کیا علاقائی ممالک سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ عوفدا ایئربیس کی ملاقات اہم ضرور ہے، لیکن اسے جنگ کے حتمی فیصلے کا ثبوت سمجھنا درست نہیں۔ انتخابات سیاسی ماحول پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، مگر جنگ یا امن کا انحصار متعدد عوامل اور متعلقہ قیادتوں کے عملی فیصلوں پر ہوگا۔

مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں طاقت کے مظاہرے سے زیادہ سیاسی دانش مندی کی ضرورت ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے اختلافات اپنی جگہ، لیکن کسی وسیع جنگ کے نتائج پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ انتخابات گزر جائیں گے، سیاسی ترجیحات بدل جائیں گی، مگر جنگ کے زخم برسوں تک باقی رہیں گے۔ اصل کامیابی کسی ملک کو شکست دینے میں نہیں، بلکہ ایسے تصادم کو روکنے میں ہے جس میں انسانی جانیں، عالمی معیشت اور آنے والی نسلوں کا مستقبل داؤ پر لگ جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں