تحریر: فضہ مریم
یکم اکتوبر 1953 کو جب اس وقت کے گورنر پنجاب سردار عبدالرب نشتر کے نام پر ملتان میں نشتر ہسپتال اور میڈیکل کالج کی بنیاد رکھی گئی، تو اس کا بنیادی مقصد خطے کے لاکھوں عوام کو ان کی دہلیز پر اعلیٰ طبی سہولیات فراہم کرنا تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد صوبے میں کنگ ایڈورڈ کے بعد یہ دوسرا بڑا اور جنوبی پنجاب کا واحد میڈیکل ادارہ تھا۔ شروعات میں چند سو بستروں پر مشتمل یہ ہسپتال وقت کے ساتھ 1700 سے زائد بستروں کا ایک عظیم الشان طبی مرکز تو بن گیا، لیکن آج سات دہائیاں گزرنے کے بعد، یہ تاریخی ادارہ اپنے ہی حجم اور آبادی کے بے پناہ دباؤ تلے شدید ہچکولے کھا رہا ہے۔
رات کے کسی بھی پہر نشتر ہسپتال کی ایمرجنسی کا رخ کریں تو وہاں کا منظر کسی جنگی ہسپتال سے کم نہیں ہوتا۔ ایمبولینسوں کے سائرن، سٹریچرز کی دوڑ دھوپ اور وارڈز کے باہر فرش پر بیٹھے سینکڑوں تیماردار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ جنوبی پنجاب کا طبعی ڈھانچہ کس قدر غیر معمولی دباؤ کا شکار ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ہسپتال کی آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں روزانہ آنے والے مریضوں کی تعداد 7 سے 8 ہزار تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ایمرجنسی میں چوبیس گھنٹوں کے دوران اوسطاً دو سے اڑھائی ہزار مریض لائے جاتے ہیں۔ یہ وہ ہوشربا بوجھ ہے جس کے لیے اس ہسپتال کا انفراسٹرکچر ہرگز ڈیزائن نہیں کیا گیا تھا۔
اس بحرانی صورتحال کا سب سے بڑا اور براہ راست نشانہ وہ طبی عملہ ہے جو فرنٹ لائن پر موجود ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے طے شدہ معیار کے مطابق ایک جنرل وارڈ میں ہر تین سے چار مریضوں کے لیے ایک نرس، اور انتہائی نگہداشت کے وارڈ (ICU) میں ایک مریض کے لیے ایک نرس کا ہونا لازمی ہے۔ لیکن نشتر ہسپتال کے وارڈز میں صورتحال اس کے بالکل برعکس اور انتہائی گھمبیر ہے۔ عملے کی شدید کمی کے باعث یہاں ایک نرس کے ذمے بیک وقت 40 سے 50 مریضوں کی دیکھ بھال ہوتی ہے۔ اسی طرح ینگ ڈاکٹرز، ہاؤس آفیسرز اور پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنٹس (PGRs) کی حالت بھی مختلف نہیں۔ طبی اصولوں کے مطابق ایک ڈاکٹر کو اپنی شفٹ میں 15 سے 20 مریضوں کا تفصیلی معائنہ کرنا چاہیے، لیکن نشتر کی ایمرجنسی میں ایک ڈاکٹر مسلسل 30 سے 36 گھنٹے کی ڈیوٹی کے دوران 200 سے زائد مریضوں کو ہینڈل کر رہا ہوتا ہے۔
اس غیر انسانی ورک لوڈ اور وسائل کی کمی کی وجہ سے نہ صرف ڈاکٹرز اور نرسیں شدید ذہنی و جسمانی تھکاوٹ (برن آؤٹ) کا شکار ہو رہے ہیں، بلکہ مریض کو وہ معیاری وقت اور توجہ بھی نہیں مل پاتی جو اس کا بنیادی حق ہے۔ ایمرجنسی میں ایک بستر پر دو دو مریضوں کا لٹایا جانا دراصل ڈاکٹروں کی بے حسی نہیں، بلکہ اس مجبوری کی تصویر ہے جہاں دور دراز سے آئے انتہائی تشویشناک مریض کو بیڈ نہ ہونے کا عذر بنا کر واپس بھیجنے کا مطلب اسے موت کے منہ میں دھکیلنا ہوتا ہے۔
نشتر ہسپتال پر اس ناقابلِ برداشت بوجھ کی سب سے بڑی وجہ خود ملتان شہر کی آبادی نہیں، بلکہ ملحقہ اضلاع کا مکمل طور پر ناکارہ اور غیر فعال ہیلتھ کیئر سسٹم ہے۔ اس ہسپتال کا کیچمنٹ ایریا (Catchment Area) صرف ملتان تک محدود نہیں، بلکہ ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ، راجن پور، لیہ، بھکر، وہاڑی، لودھراں اور خانیوال سمیت اندرون سندھ اور بلوچستان کے سرحدی علاقے بھی اسی ہسپتال پر انحصار کرتے ہیں۔ ان تمام علاقوں کی مجموعی آبادی ساڑھے تین کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔
اصولاً پرائمری اور سیکنڈری کیئر یعنی بنیادی مراکزِ صحت (BHU) اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (DHQ) ہسپتالوں کو اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ عام بیماریوں، ٹریفک حادثات، اور زچگی کے کیسز کو مقامی سطح پر ہینڈل کر سکیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جنوبی پنجاب کے بیشتر اضلاع میں کروڑوں روپے کی لاگت سے بنی ضلعی ہسپتالوں کی شاندار عمارتوں میں یا تو جدید مشینری (ایم آر آئی، سی ٹی سکین، وینٹی لیٹرز) موجود نہیں، یا پھر وہاں ماہر سرجنز، نیورو فزیشنز اور کارڈیالوجسٹس کی آسامیاں سالہا سال سے خالی پڑی ہیں۔
مقامی سطح پر سہولیات کے اس فقدان کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک معمولی اپینڈکس، ہڈی کے فریکچر یا بخار کی پیچیدگی کے کیس کو بھی فوراً نشتر ہسپتال ملتان ریفر کر دیا جاتا ہے۔ مریضوں کا یہ نہ رکنے والا سیلاب نشتر کے ٹرشیری کیئر (Tertiary Care) کے اصل مقاصد کو نگل رہا ہے۔ ٹرشیری کیئر ہسپتال کا بنیادی کام کینسر، پیچیدہ سرجریز، اور انتہائی تشویشناک امراض پر تحقیق اور ان کا علاج کرنا ہوتا ہے، لیکن ضلعی ہسپتالوں کی نااہلی کے باعث نشتر کا اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ماہر عملہ اپنا زیادہ تر وقت اور توانائیاں ان کیسز پر صرف کرنے پر مجبور ہے جو ڈسٹرکٹ اور تحصیل کی سطح پر باآسانی حل ہو سکتے تھے۔
حقائق اور زمینی حقائق یہ واضح کرتے ہیں کہ نشتر ہسپتال کی عمارت کو مزید وسعت دینا یا اس میں چند سو بستروں کا مزید اضافہ کر دینا اس سنگین مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہے۔ جب تک جنوبی پنجاب کے دیگر اضلاع بالخصوص ڈی جی خان، راجن پور، لیہ اور مظفر گڑھ کے ڈسٹرکٹ ہسپتالوں کو مکمل طور پر فعال نہیں کیا جاتا، نشتر ہسپتال پر پڑنے والا یہ بوجھ کبھی کم نہیں ہو سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی سطح پر صحت کی جدید سہولیات کو یقینی بنایا جائے اور وہاں ماہر ڈاکٹروں اور نرسوں کی تعیناتی کے لیے خصوصی اور پرکشش پیکجز دیے جائیں۔ تاکہ جنوبی پنجاب کے غریب مریضوں کو علاج کے لیے سینکڑوں کلومیٹر کا کرب ناک سفر طے کر کے ملتان کی سڑکوں پر خوار نہ ہونا پڑے اور نشتر کے ڈاکٹرز بھی ایک نارمل اور انسانی استعداد کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دے سکیں۔





