کوہِ سلیمان کے پہاڑوں میں موت بانٹتی کرشنگ مشینیں

تحریر: وسیم شہزاد

کوہ سلیمان کا پہاڑی سلسلہ جنوبی پنجاب کی مغربی سرحد پر ایک قدرتی فصیل کی طرح کھڑا ہے جس کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ یہ پہاڑ اپنے اندر جپسم، چونا پتھر اور دیگر قیمتی معدنیات کے انبار چھپائے ہوئے ہیں۔ لیکن ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے ان سنگلاخ پہاڑوں کے دامن میں ایک ایسا خاموش قاتل بھی بستا ہے جو ہر سال درجنوں نوجوان مزدوروں کی جان لے رہا ہے۔ سخی سرور، تونسہ شریف اور قبائلی علاقوں میں لگی درجنوں کرشنگ مشینیں رات دن ان پہاڑوں کو بارود سے اڑاتی اور پتھروں کو بجری میں تبدیل کرتی ہیں۔ ان مشینوں کے گرد اڑنے والا سفید غبار دراصل موت کا وہ بادل ہے جسے سائلیکوسس کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی لاعلاج اور جان لیوا بیماری ہے جس نے اس خطے کے غریب مزدوروں کو جوانی میں ہی قبروں تک پہنچا دیا ہے۔

جب پتھر کو بڑی مشینوں میں پیسا جاتا ہے تو اس میں سے سلیکا نامی کیمیکل کے انتہائی باریک ذرات ہوا میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ ذرات اتنے باریک ہوتے ہیں کہ عام انسانی آنکھ انہیں نہیں دیکھ سکتی۔ جب ایک مزدور بغیر کسی سیفٹی ماسک یا حفاظتی لباس کے اس گرد آلود ماحول میں مسلسل دس سے بارہ گھنٹے سانس لیتا ہے، تو یہ سلیکا کے ذرات اس کے پھیپھڑوں کے اندرونی حصوں میں جمنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ ذرات پھیپھڑوں کے نرم ٹشوز کو شیشے کی طرح کاٹتے ہیں جس سے وہاں زخم بن جاتے ہیں اور پھیپھڑے سکڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس کیفیت کو میڈیکل کی زبان میں سائلیکوسس کہتے ہیں۔ بدقسمتی سے جنوبی پنجاب کے ان پسماندہ علاقوں میں اس بیماری کا نہ تو کوئی علاج موجود ہے اور نہ ہی مقامی سطح پر اس کی بروقت تشخیص کی کوئی سہولت میسر ہے۔

اس المیے کا سب سے خوفناک پہلو یہ ہے کہ جب مزدور کو سانس لینے میں دشواری، مسلسل کھانسی اور وزن میں تیزی سے کمی جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں، تو مقامی ڈسپنسریوں اور ناتجربہ کار ڈاکٹروں کی طرف سے اسے ٹی بی قرار دے دیا جاتا ہے۔ مہینوں تک مزدور ٹی بی کی دوائیں کھاتا رہتا ہے جن کا سائلیکوسس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ جب تک مریض کو کسی بڑے ہسپتال منتقل کر کے اس کے سینے کا ہائی ریزولوشن سی ٹی سکین یا جدید ایکس رے کیا جاتا ہے، تب تک اس کے پھیپھڑے مکمل طور پر ناکارہ ہو چکے ہوتے ہیں۔ سائلیکوسس کا کوئی علاج نہیں ہے، صرف آکسیجن سلنڈر کے ذریعے مریض کی زندگی کے چند دن یا مہینے بڑھائے جا سکتے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق یہ بیماری اتنی ظالم ہے کہ مریض جاگتے ہوئے اور کھلی آنکھوں کے ساتھ آکسیجن کی کمی کے باعث دم توڑ دیتا ہے۔

ڈیرہ غازی خان اور ملحقہ قبائلی پٹی میں کرشنگ پلانٹس کی تعداد سینکڑوں میں ہے جہاں ہزاروں دیہاڑی دار مزدور کام کرتے ہیں۔ ان میں سے اکثریت کا تعلق انتہائی غریب گھرانوں سے ہے جن کے پاس روزگار کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے۔ فیکٹری مالکان اور ٹھیکیدار لیبر لاز یا مزدوروں کے حقوق کے کسی قانون کو خاطر میں نہیں لاتے۔ قانون کے مطابق ایسے کرشنگ پلانٹس پر کام کرنے والے ہر مزدور کو اعلیٰ معیار کا فلٹر والا ریسپائریٹر ماسک، حفاظتی چشمے اور مخصوص لباس فراہم کرنا فیکٹری مالک کی ذمہ داری ہے۔ اس کے علاوہ گرد کو اڑنے سے روکنے کے لیے مسلسل پانی کا چھڑکاؤ کیا جانا چاہیے، لیکن منافع کی ہوس میں ان تمام قانونی اور اخلاقی تقاضوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ مزدور اپنے چہروں پر معمولی کپڑا یا رومال باندھ کر کام کرتے ہیں جو سلیکا کے مائیکرو ذرات کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہتا ہے۔

یہ مزدور اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر روزانہ محض چند سو یا ایک سے ڈیڑھ ہزار روپے کماتے ہیں۔ ان کے پاس نہ تو کوئی سوشل سکیورٹی کارڈ ہوتا ہے اور نہ ہی ایمپلائیز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن یعنی ای او بی آئی میں ان کی کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ جب کوئی مزدور سائلیکوسس کی وجہ سے بستر مرگ پر پہنچ جاتا ہے تو فیکٹری مالکان اسے چند ہزار روپے دے کر نوکری سے نکال دیتے ہیں اور اس کی جگہ کوئی دوسرا مجبور شخص اسی موت کی مشین پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ لیبر ڈیپارٹمنٹ اور ماحولیات کے محکمے کے اہلکار سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں اور ان غیر قانونی کرشنگ پلانٹس کے خلاف کوئی موثر کارروائی نہیں کی جاتی۔

اس صورتحال کو بدلنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو چاہیے کہ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے ضلعی ہسپتالوں میں سائلیکوسس کی تشخیص کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کیے جائیں۔ کرشنگ پلانٹس پر چھاپے مار کر اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی مزدور فلٹر ماسک کے بغیر کام نہ کرے۔ جو فیکٹریاں ڈسٹ کنٹرول سسٹم اور پانی کے چھڑکاؤ کا انتظام نہ کریں، انہیں فوری طور پر سیل کیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ جو مزدور اس بیماری کا شکار ہو چکے ہیں، ان کے علاج اور ان کے خاندانوں کی کفالت کے لیے فیکٹری مالکان سے بھاری جرمانے وصول کر کے فنڈز قائم کیے جائیں۔ کوہ سلیمان کے یہ پتھر اس خطے کی ترقی کے لیے تو استعمال ہو رہے ہیں، لیکن اس ترقی کی قیمت غریب مزدوروں کو اپنے پھیپھڑوں اور اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر نہیں چکانی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں