بوتل بند پانی بھی محفوظ نہیں؟ 29 برانڈز کا انکشاف، صارفین خبردار
تحریر: کلب عابد خان
03009635323
پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ انسان خوراک کے بغیر کچھ عرصہ گزار سکتا ہے، مگر پانی کے بغیر زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب شہری صاف پانی کے حصول کے لیے بوتل بند پانی خریدتے ہیں تو ان کا بنیادی مقصد صحت کو محفوظ بنانا ہوتا ہے۔ لیکن اگر یہی بوتل بند پانی جراثیم، کیمیائی آلودگی یا مقررہ حد سے زیادہ معدنی اجزا پر مشتمل ہو تو پھر سوال صرف ایک بوتل پانی کا نہیں رہتا بلکہ انسانی صحت اور عوامی اعتماد کا بن جاتا ہے۔پاکستان میں حالیہ دنوں سامنے آنے والی ایک تشویشناک رپورٹ نے بوتل بند پانی کے حوالے سے صارفین کو چونکا دیا ہے۔ پاکستان کونسل برائے تحقیقات آبی وسائل نے سال 2026 کی دوسری سہ ماہی، یعنی اپریل سے جون کے دوران 20 بڑے شہروں سے بوتل بند اور منرل واٹر کے 230 نمونے حاصل کیے۔ ان نمونوں کو پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے مقررہ معیار کے مطابق جانچا گیا، جس کے بعد 29 برانڈز کو انسانی استعمال کے لیے غیر محفوظ قرار دیا گیا۔
یہ اعدادوشمار یقیناً تشویش ناک ہیں، کیونکہ بوتل بند پانی عام طور پر صارفین اس اعتماد کے ساتھ خریدتے ہیں کہ سیل بند بوتل کا پانی صاف، محفوظ اور صحت بخش ہوگا۔ مگر رپورٹ نے یہ تاثر کم از کم کچھ برانڈز کے حوالے سے غلط ثابت کر دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق بعض برانڈز میں سوڈیم کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ پائی گئی۔ محفوظ حد 50 پی پی ایم بتائی گئی ہے، جبکہ نو برانڈز میں اس سے زیادہ سوڈیم کی نشاندہی ہوئی۔ اسی طرح چار برانڈز میں ٹوٹل ڈزولڈ سولڈز یعنی ٹی ڈی ایس کی مقدار 500 پی پی ایم کی مقررہ حد سے زیادہ پائی گئی۔
سب سے زیادہ پریشان کن پہلو جراثیمی آلودگی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 22 برانڈز کے نمونوں میں بیکٹیریا یا دوسری مائیکرو بایولوجیکل آلودگی پائی گئی۔ ایسے پانی کو پینا انسانی صحت کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد کے لیے۔یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر بوتل بند پانی کو محفوظ سمجھنے کی وجہ کیا ہے؟ صرف بوتل کا سیل ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ اندر موجود پانی ہر لحاظ سے محفوظ بھی ہے۔ پانی کی تیاری، فلٹریشن، ذخیرہ، بوتل بھرنے کا عمل، بوتلوں کی صفائی، ٹرانسپورٹ اور مارکیٹ میں رکھے جانے کے حالات، سب اس کے معیار پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
ہمارے ہاں ایک عجیب صورتحال بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ شہری سرکاری یا نجی پانی کی فراہمی کے نظام پر اعتماد نہ ہونے کی وجہ سے بوتل بند پانی خریدتے ہیں، لیکن اگر مارکیٹ میں دستیاب ہر بوتل کو بغیر تصدیق کے محفوظ سمجھ لیا جائے تو صارف ایک مسئلے سے نکل کر دوسرے مسئلے میں داخل ہوسکتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ رپورٹ میں 29 برانڈز کا غیر محفوظ قرار دیا جانا تمام بوتل بند پانی کے برانڈز کو غیر محفوظ قرار دینا نہیں ہے۔ جانچ مخصوص نمونوں اور مخصوص مدت کے دوران کی گئی ہے۔ اس لیے صارفین کو افواہوں یا سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ فہرستوں کے بجائے پاکستان کونسل برائے تحقیقات آبی وسائل کی تفصیلی رپورٹ دیکھنی چاہیے۔ کونسل نے بھی عوام کو یہی مشورہ دیا ہے کہ پانی خریدنے سے پہلے متعلقہ برانڈ کی معیار کی صورتحال معلوم کی جائے۔
اصل ضرورت یہاں صرف رپورٹ جاری کرنے کی نہیں بلکہ مؤثر کارروائی کی ہے۔ اگر کوئی کمپنی ایسا پانی فروخت کر رہی ہے جو انسانی استعمال کے مقررہ معیار پر پورا نہیں اترتا تو متعلقہ اداروں کو صرف صارفین کو خبردار کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ایسے برانڈز کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی، دوبارہ ٹیسٹنگ، مارکیٹ سے غیر محفوظ مصنوعات کی واپسی اور پیداواری یونٹس کی نگرانی بھی ضروری ہے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے بھی حالیہ رپورٹ کے بعد بوتل بند پانی کے معیار پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور غیر محفوظ پانی کی فروخت کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
حکومت کی جانب سے پاکستان کونسل برائے تحقیقات آبی وسائل کو بوتل بند اور منرل واٹر کی سہ ماہی بنیادوں پر نگرانی اور نتائج عوام کے سامنے لانے کی ذمہ داری دینا ایک مثبت قدم ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہر سہ ماہی میں غیر محفوظ برانڈز سامنے آتے رہیں تو ان کے خلاف اگلا قدم کیا ہوگا؟ صرف فہرست جاری کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام متعلقہ ادارے مشترکہ نظام کے تحت کام کریں۔ پانی بنانے والی کمپنیوں کے لائسنس، پیداواری یونٹس، لیبارٹری رپورٹس، صفائی کے انتظامات اور مارکیٹ میں موجود بوتلوں کی باقاعدہ نگرانی کی جائے۔ عوام کو بھی یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ جس چیز کے لیے پیسے ادا کر رہے ہیں، اس کے معیار کے بارے میں واضح معلومات حاصل کرسکیں۔
صارفین کے لیے بھی اس رپورٹ میں ایک اہم سبق ہے: صرف خوبصورت لیبل، مشہور نام یا سیل بند بوتل دیکھ کر پانی کو محفوظ نہ سمجھا جائے۔ بوتل خریدتے وقت برانڈ، لیبل، تیاری اور میعاد ختم ہونے کی تاریخ دیکھیں، بوتل کا سیل چیک کریں اور جہاں ممکن ہو متعلقہ اداروں کی تازہ معیار کی رپورٹ سے تصدیق کریں۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ پانی کوئی عام تجارتی چیز نہیں، بلکہ انسانی زندگی اور صحت سے براہ راست جڑا ہوا معاملہ ہے۔ اگر کسی کمپنی کی غفلت سے غیر محفوظ پانی مارکیٹ تک پہنچتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایک صارف تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے کی صحت متاثر ہوسکتی ہے۔آج 29 برانڈز کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ کل تعداد کم بھی ہوسکتی ہے اور زیادہ بھی، مگر اصل سوال تعداد کا نہیں بلکہ نظام کا ہے۔ ہمیں ایسا نظام چاہیے جس میں غیر محفوظ پانی مارکیٹ تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا جائے، نہ کہ شہری اسے خرید کر استعمال کریں اور پھر لیبارٹری رپورٹ انہیں بتائے کہ وہ جس پانی کو صحت کا محافظ سمجھ رہے تھے، وہی ان کی صحت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
خبردار، ہوشیار! بوتل بند پانی خریدنا ضرورت ہوسکتی ہے، مگر آنکھیں بند کرکے خریدنا دانش مندی نہیں۔ صاف پانی ہر شہری کا حق ہے، اور محفوظ پانی فراہم کرنا ریاست، اداروں اور متعلقہ کمپنیوں کی ذمہ داری ہے۔





