تحریر: وسیم شہزاد
جب میری گاڑی سیلابی پانی کے ریلے میں مکمل طور پر پھنس گئی تو چند لمحوں کے لیے لگا کہ اب واپسی ممکن نہیں ۔ مجھ سمیت میرے کیمرہ مین اور ڈرائیور کی بھی موت دکھائی دے رہی تھی ۔ میں اپنی مرضی سے پانی کی طرف نہیں بڑھا تھا مجھ پر ہیڈ آفس کا دباؤ تھا کہ مزید اندر جائیں اور وہاں سے رپورٹنگ کریں ، سچ یہی تھا کہ یے سب کچھ ریٹنگز کے لیے ہو رہا تھا، یہ الفاظ ہیں ملتان سے تعلق رکھنے والے جنوبی پنجاب کے سیلابی علاقے میں رپورٹنگ کرنے والے ایک نجی ادارے کے رپورٹر کے جنہوں نے اپنا نام اس لیے ظاہر نہیں کرنے دیا کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ کہیں نوکری سے ہی ہاتھ نہ دھو بیٹھیں ، وہ کہتے ہیں جب میں رپورٹ کر رہا تھا اسی دوران پانی اتنا تیز تھا کہ گاڑی آہستہ آہستہ ڈوب رہی تھی۔ اردگرد صرف پانی تھا اور دور کچھ مقامی لوگ دکھائی دے رہے تھے۔ اگر وہ بروقت نہ پہنچتے تو شاید میں آج یہ کہانی سنانے کے لیے زندہ نہ ہوتا۔
یہ صرف ایک واقعہ نہیں یہ اس نظام کی جھلک ہے جہاں خبر دینے والا خود ہر لمحہ خبر بننے کے خطرے میں رہتا ہے۔
سیلاب،کیمرہ،مائیک اور بےبسی
جنوبی پنجاب میں سیلاب کی رپورٹنگ کا ہولناک سچ یے ہے کہ جب دریائے سندھ اور چناب کا بپھرا پانی جنوبی پنجاب کے دیہات کو لپیٹ میں لے رہا ہوتا ہے، تو جہاں ایک طرف ہزاروں خاندان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں، وہیں چند فرض شناس رپورٹر کیمرہ اور مائیک ہاتھ میں تھامے اپنی جان جو کھم میں ڈال کر دنیا کو یہ منظر دکھا رہے ہوتے ہیں۔ ہم انہیں ‘فیلڈ رپورٹرز’ کہتے ہیں۔ لیکن کیا کبھی کسی نے سوچا کہ تباہی کی لائیو کوریج کرنے والے یہ صحافی خود کتنے بڑے خطرے کے دہانے پر کھڑے ہیں؟
موسمیاتی تبدیلی کے باعث اب جنوبی پنجاب میں سیلاب کوئی اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ ہر سال کا معمول بن چکا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی سالانہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ ملتان، مظفر گڑھ، راجن پور، شجاع آباد اور جلالپور پیر والا جیسے علاقے موسمیاتی شدت کی زد میں ہیں۔ لیکن اس بدلتی ہوئی حقیقت کے باوجود، میڈیا ہاؤسز کی بے حسی اور رپورٹرز کی بے سروسامانی کا منظر نامہ آج بھی نہیں بدلا۔
میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ جنوبی پنجاب کی پسماندگی صرف مقامی آبادی تک محدود نہیں، یہاں کے میڈیا ورکرز بھی اسی پسماندگی اور وسائل کی کمی کا شکار ہیں۔ سیلاب کی کوریج کے دوران رپورٹرز کے پاس لائف جیکٹس ہوتی ہیں نہ گم بوٹس ، نہ ہیلمٹ، اور نہ ہی کوئی واٹر پروف کٹ ، جنوبی پنجاب کی بات کر رہے ہیں تو جلالپور پیر والا کی مثال لیجئے۔ وہاں سیلاب کے دوران جب کشتیاں صرف ریسکیو اداروں کے پاس تھیں، تو کوریج کے لیے میڈیا نمائندوں کے پاس کوئی متبادل نہیں تھا۔ ایک نجی نیوز کے کیمرہ مین (کیمرہ مین نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ) بتاتے ہیں کہ ہمارے پاس پانی میں اترنے کے لیے کوئی بوٹس نہیں تھیں۔ مجھے ایک مقامی کسان کو اپنی جیب سے تین ہزار روپے کرایہ دینا پڑا تاکہ وہ اپنی چھوٹی سی کشتی پر ہمیں اس پار لے جائے جہاں لوگ پھنسے ہوئے تھے۔ ہمارے لیے اپنی جان سے زیادہ چینل کی ‘بریکنگ نیوز’ اور مہنگے کیمرے کو پانی سے بچانے کی فکر لگی ہوئی تھی، کیونکہ کیمرہ خراب ہو جاتا تو ادارہ تنخواہ سے پیسے کاٹ لیتا۔
شجاع آباد میں ایک اور نجی نیوز کے فیلڈ رپورٹر کے ساتھ جو ہوا، وہ کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا۔ ایک لائیو کوریج کے دوران، پانی کا تیز بہاؤ انہیں اپنے ساتھ بہا لے جانے ہی والا تھا کہ قسمت نے ساتھ دیا اور وہ سنبھل گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگ ٹی وی اسکرین پر ہماری رپورٹنگ دیکھ کر معلومات تو ضرور حاصل کر رہے ہوتے ہیں لیکن کوئی نہیں جانتا کہ اس وقت پاؤں کے نیچے کی زمین دلدلی ہوتی ہے، پانی میں زہریلے سانپ تیر رہے ہوتے ہیں، اور بجلی کے گرے ہوئے کھمبوں کی وجہ سے کرنٹ کا خوف ہر سیکنڈ ہمارے سر پر سوار ہوتا ہے۔ اور یہ بھی پتا نہیں ہوتا کہ کب پانی کا ریلا آئے اور ہمیں بہا لے جائے
میں موت کے منہ سےکیسےنکلا؟
اگر میں اپنی بات کروں تو ایک مقامی صحافی ہونے کے ناطے، میں نے خود جلالپور، شجاع آباد اور ملتان کے سیلابی پانیوں میں کھڑے ہو کر کوریج کی ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں ملتان کے قریبی علاقوں میں پانی کے بیچوں بیچ کھڑا لائیو اپڈیٹ دے رہا تھا، تو میرا پاؤں اچانک گہرے گڑھے پر آیا۔ بغیر کسی لائف جیکٹ یا حفاظتی رسّے کے، وہ چند سیکنڈ ایسے تھے جہاں زندگی اور موت کے درمیان فاصلہ ختم ہو گیا تھا۔ موبائل اور کیمرہ بچانے کی کوشش میں، میں دو بار پھسلا۔ مجھے سامنے پڑے ایک کٹے ہوئے درخت کے سہارے نے زندگی دے تھی ، اس وقت مجھے شدت سے احساس ہوا کہ ہم صحافی دوسروں کی آواز بنتے بنتے، خود کتنے بے آواز اور لاوارث ہیں۔ کیونکہ ہمیں فیلڈ میں بھیجنے والی چینل کی انتظامیہ ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر بریکنگ تو مانگ رہے ہوتے ہیں، لیکن کسی ایک نے بھی کبھی یہ نہیں پوچھا کہ تم زندہ کیسے واپس آؤ گے بھی ، تمھیں کہیں کوءی مسئلہ تو نہیں ۔ کھانا پانی تمھارے پاس دستیاب بھی ہے یا نہیں ، یہاں تک کہ بعض اوقات تو ہمیں جسمانی سہاروں کے لیے خود سے کھجور او پانی ساتھ رکھنا ہوتا ہے تاکہ ہم بھوک اور پیاس کو سنبھالا دے سکیں ،
صحافی کی حفاظت پہلی ترجیح
اگر ہم عالمی سطح پر دیکھیں تو انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلٹس اور ‘کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس’ جیسے ادارے صاف الفاظ میں کہتے ہیں کہ کسی بھی جنگ یا قدرتی آفت کی کوریج کے لیے صحافی کی زندگی سب سے مقدم ہے۔ بین الاقوامی میڈیا ہاؤسز اپنے رپورٹرز کو فیلڈ میں بھیجنے سے پہلے باقاعدہ ہیزرڈ ٹریننگ دیتے ہیں، ان کا بھاری بیمہ ہوتا ہے اور وہ تمام حفاظتی سامان سے لیس ہوتے ہیں۔
اس کے برعکس، پاکستان میں میڈیا میٹرز (Media Matters) اور میڈیا فاؤنڈیشن 360 کی رپورٹس “Journalists Under Climate Siege” یہ واضح کرتی ہیں کہ پاکستان میں موسمیاتی آفات کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے لیے کوئی ‘سیفٹی پروٹوکول’ موجود ہی نہیں ۔
سابق کنٹرولر نیوز اے ٹی وی اور سابق سیکرٹری جنرل پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) فوزیہ شاہد کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب ایک مستقل حقیقت بن چکی ہے اور پاکستان، بالخصوص جنوبی پنجاب، ہر سال زیادہ شدید سیلابی خطرات کی زد میں آ رہا ہے۔ ایسے حالات میں میڈیا اداروں کو محض خبر کی بروقت ترسیل پر نہیں بلکہ اپنے فیلڈ رپورٹرز کی جان کے تحفظ پر بھی یکساں توجہ دینا ہوگی۔
ان کے مطابق قدرتی آفات کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے لیے باقاعدہ حفاظتی تربیت ناگزیر ہے۔ کسی بھی رپورٹر کو بغیر تربیت اور مناسب حفاظتی سامان کے خطرناک علاقوں میں بھیجنا پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں PFUJ نے بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے صحافیوں کے لیے ہنگامی حالات میں رپورٹنگ، سیفٹی پروٹوکول اور حفاظتی اقدامات سے متعلق متعدد تربیتی پروگرام منعقد کیے، جبکہ بعض صحافیوں کو ہیلمٹس اور لائف جیکٹس بھی فراہم کی گئیں۔ تاہم موجودہ حالات کے پیشِ نظر ایسی تربیت اور حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر اور مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔
فوزیہ شاہد کا کہنا تھا کہ صحافی کی جان کسی بھی کیمرے یا تکنیکی آلات سے زیادہ قیمتی ہے، اس لیے میڈیا اداروں کو اپنے فیلڈ اسٹاف کی لائف انشورنس، حفاظتی سامان اور پیشہ ورانہ تربیت کو اپنی ادارتی پالیسی کا لازمی حصہ بنانا چاہیے۔انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ سنسنی خیز مناظر یا زیادہ نمایاں کوریج حاصل کرنے کی خواہش میں بعض اوقات خود رپورٹرز بھی غیر ضروری خطرات مول لیتے ہیں، اس لیے صحافیوں میں بھی حفاظتی شعور پیدا کرنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا اداروں کی ذمہ داریوں کا تعین کرنا۔
فوزیہ شاہد نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اور میڈیا مالکان نے موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں صحافیوں کی استعداد کار، حفاظتی تربیت اور فیلڈ سیفٹی پر فوری سرمایہ کاری نہ کی تو مستقبل میں صرف خبریں ہی نہیں بلکہ قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔اسی تناظر میں وہ کہتی ہیں کہ جنوبی پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں کام کرنے والے فیلڈ رپورٹرز بھی کسی حد تک خود متاثرین کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ سیلاب زدگان امداد کے منتظر ہوتے ہیں، جبکہ صحافی ٹوٹی پھوٹی گاڑیوں، محدود وسائل اور حفاظتی سامان کے بغیر خبر کی تلاش میں انہی خطرناک علاقوں میں مسلسل سفر کر رہے ہوتے ہیں۔
ہم صحافی کو نہیں بچا سکتے
دوسری طرف، جب اس حوالے سے پی ڈی ایم اے ساؤتھ پنجاب کے فوکل پرسن اور ریسکیو 1122 کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا، تو ان کا مؤقف تھا کہ ریسکیو ادارے عام عوام کو بچانے میں مصروف ہوتے ہیں۔ صحافیوں کو خود اپنی حدود کا تعین کرنا چاہیے، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ حکومت یا ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے پاس ابھی تک صحافیوں کے لیے کوئی مخصوص ‘ڈیزاسٹر رپورٹنگ گائیڈ لائنز’ یا مشترکہ ٹریننگ پروگرام موجود نہیں ہے۔
جنوبی پنجاب کے صحافی جمشید رضوانی کہتے ہیں کہ ب وقت آ گیا ہے کہ میڈیا ہاؤسز اپنے رپورٹرز اور کیمرہ مینوں کے لیے فیلڈ سیفٹی کٹس لازمی قرار دیں اور ان کی لائف انشورنس یقینی بنائیں۔حکومت اور PDMA ریسکیو 1122 کے تعاون سے صحافیوں کے لیے ‘ڈیزاسٹر رپورٹنگ اور فرسٹ ایڈ’ کی لازمی تربیت کے سیشنز منعقد کریں۔
صحافتی تنظیمیں (PFUJ اور پریس کلبز) صرف بیانات تک محدود رہنے کے بجائے میڈیا مالکان کو اس بات کا پابند کریں کہ بغیر سیفٹی گیئر کے کسی بھی رپورٹر کو سیلاب کے پانی میں نہ اتارا جائے۔ انہیں جب میں ننے بتایا کہ میں یے سٹوری پاکستان پریس فاونڈیشن کی میڈیا سیفٹی فیلوشپ کے توسل سے کر رہا ہوں تو انکا کہنا تھا کہ
پاکستان پریس فاؤنڈیشن (PPF) جیسے اداروں کی یہ کاوشیں تب ہی رنگ لائیں گی جب اس اسٹوری کے بعد میڈیا ہاؤسز کی پالیسیوں میں واضح تبدیلی نظر آئے۔ اگر ہماری اس آواز سے کسی ایک بھی فیلڈ رپورٹر کو لائف جیکٹ مل جاتی ہے یا کسی کیمرا مین کی جان محفوظ ہو جاتی ہے، تو یہ صرف ایک اسٹوری کی کامیابی نہیں بلکہ انسانیت کی جیت ہوگی۔ کیونکہ کوئی بھی خبر، کسی انسان کی زندگی سے بڑھ کر قیمتی نہیں ہو سکتی۔
ساجد شکیل گزشتہ 18 برس سے صحافت سے وابستہ ہیں اور اس وقت ایک نیوز میں سینئر اسائنمنٹ ایڈیٹر جبکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم ساؤتھ ٹوڈے میں انچارج ڈیجیٹل ڈیسک کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کے مختلف اداروں میں کام کیا ہے۔ بطور فری لانس صحافی وہ ایک امریکی اشاعتی ادارے کے لیے بھی پاکستان سے انسانی حقوق، موسمیاتی تبدیلی، صحافیوں کی سلامتی اور دیگر سماجی مسائل پر تحقیقاتی اور فیچر اسٹوریز لکھتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ یہ تاثر کسی حد تک درست ہے کہ فیلڈ رپورٹرز تک دباؤ عموماً اسائنمنٹ ڈیسک کے ذریعے پہنچتا ہے، لیکن اس دباؤ کی وجوہات کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ الیکٹرانک میڈیا، خصوصاً ایک نجی سٹی نیوز چینل میں تقریباً چھ برس تک اسائنمنٹ ڈیسک پر کام کرنے کے تجربے کی بنیاد پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اسائنمنٹ ایڈیٹر خود بھی ادارتی ترجیحات، خبروں کے سخت مقابلے اور بریکنگ نیوز کی مسلسل دوڑ کے دباؤ میں کام کر رہا ہوتا ہے۔ اس کا مقصد کسی رپورٹر کو خطرے میں ڈالنا نہیں بلکہ خبر کی بروقت اور مؤثر کوریج کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔جہاں تک میڈیا مالکان یا اعلیٰ انتظامیہ کے سامنے صحافیوں کی حفاظت کا معاملہ اٹھانے کا تعلق ہے، زمینی حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کی میڈیا انڈسٹری شدید معاشی بحران سے گزر رہی ہے۔ ایسے ماحول میں بیشتر میڈیا ورکرز، بشمول اسائنمنٹ ایڈیٹرز، اپنی ملازمت کے عدم تحفظ کا بھی سامنا کرتے ہیں۔ اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ صحافیوں کی حفاظت کا مطالبہ ہر سطح پر مسلسل اٹھایا جانا چاہیے، کیونکہ یہ کسی ایک فرد نہیں بلکہ پورے ادارے کی ذمہ داری ہے۔
جب ہم پر حملہ ہوگیا
مجھے ایک واقعہ آج بھی یاد ہے۔ 2018 میں ملتان کے نواحی علاقے میں کم عمر بچیوں کی شادی کی اطلاع پر میں نے اپنی ٹیم کو موقع پر بھیجا۔ خبر خصوصی نوعیت کی تھی، لیکن رپورٹر کی لائیو کوریج کے فوراً بعد ملزمان نے ہماری ٹیم پر حملہ کر دیا۔ کیمرہ ٹوٹ گیا، کیمرہ مین زخمی ہوا اور رپورٹر بھی تشدد کا نشانہ بنا۔ مقدمہ درج ہوا، مگر برسوں گزرنے کے باوجود نہ ضبط شدہ کیمرہ واپس ملا اور نہ ہی ملزمان کو مؤثر سزا دی جا سکی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد ادارے کی جانب سے نقصان کی ذمہ داری بھی مجھ پر عائد کی گئی۔ اس تجربے نے مجھے یہ احساس دلایا کہ فیلڈ میں کام کرنے والے صحافیوں کے ساتھ ساتھ اسائنمنٹ ڈیسک بھی کئی حوالوں سے دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان کے بیشتر میڈیا اداروں میں قدرتی آفات یا دیگر خطرناک حالات کی رپورٹنگ کے لیے باقاعدہ انشورنس یا حفاظتی سامان کا مؤثر نظام موجود نہیں۔ یہ صرف اسائنمنٹ ڈیسک کی نہیں بلکہ پورے ادارے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ کوریج کرنے جانے والے صحافیوں کو لائف جیکٹس، حفاظتی آلات، انشورنس اور مناسب تربیت فراہم کی جائے۔میری ذاتی رائے میں اگر کسی مقام پر رپورٹر کی جان کو حقیقی خطرہ لاحق ہو تو کسی بھی خبر یا لائیو کوریج پر اس کی زندگی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ میں ہمیشہ اپنے رپورٹرز سے کہتا ہوں کہ اگر حالات غیر محفوظ ہوں تو اپنی جان کو خاص خیال رکھیں، کیونکہ کوئی بھی خبر صحافی کی جان سے زیادہ قیمتی نہیں ہوتی۔میرے خیال میں اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے تمام میڈیا ادارے قدرتی آفات اور دیگر ہائی رسک اسائنمنٹس کے لیے باقاعدہ حفاظتی پالیسی، سیفٹی ٹریننگ اور حفاظتی سامان کی فراہمی کو لازمی بنائیں، تاکہ صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں محفوظ ماحول میں انجام دے سکیں
کیا رپورٹر لاوارث ہیں
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کے صدر افضل بٹ کا کہنا ہے کہ سیلاب، قدرتی آفات یا دیگر ہائی رسک اسائنمنٹس پر بھیجے جانے والے ہر صحافی کو لائف سیونگ ایکوپمنٹ فراہم کرنا متعلقہ میڈیا ادارے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی رپورٹر یا کیمرہ مین کو لائف جیکٹ، مناسب جوتوں، حفاظتی سامان اور دیگر ضروری سیفٹی آلات کے بغیر خطرناک علاقوں میں بھیجنا غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی میڈیا ادارہ حفاظتی سامان فراہم کیے بغیر اپنے صحافی کو خطرناک علاقے میں بھیجتا ہے اور اس دوران کسی صحافی کی جان یا صحت کو نقصان پہنچتا ہے، تو صرف افسوس کا اظہار کافی نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایسے معاملات میں متعلقہ میڈیا ادارے کے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ ان کے بقول صحافی کی جان کا تحفظ ہر ادارے کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
افضل بٹ کے مطابق ماضی میں جب بھی صحافیوں کی حفاظت سے متعلق واقعات پیش آئے، PFUJ نے ہر فورم پر ان کا مقدمہ اٹھایا، اگرچہ کسی میڈیا مالک کے خلاف اس بنیاد پر ایف آئی آر درج ہونے کی کوئی نمایاں مثال موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی سلامتی کا معاملہ یونین مسلسل اٹھاتی رہی ہے، تاہم اس شعبے میں مزید مؤثر قانون سازی اور عمل درآمد کی ضرورت ہے۔
میڈیا مالکان کے رویے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب بھی حفاظتی اقدامات کا معاملہ اٹھایا جاتا ہے تو میڈیا مالکان اصولی طور پر اس کی مخالفت نہیں کرتے، کیونکہ وہ بھی جانتے ہیں کہ صحافیوں کا تحفظ ضروری ہے۔ تاہم عملی طور پر اکثر ادارے اس مقصد کے لیے مطلوبہ وسائل مختص نہیں کرتے اور ان کی ترجیح عموماً ادارے کے مالی مفادات ہوتے ہیں، جس کے باعث فیلڈ میں کام کرنے والے صحافی بنیادی حفاظتی سہولیات سے محروم رہ جاتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صحافیوں کو بھی اپنی پیشہ ورانہ حفاظت کے حوالے سے زیادہ ذمہ دار رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق اگر کسی رپورٹر کے پاس حفاظتی سامان موجود نہیں تو اسے اپنے ادارے سے اس کا مطالبہ کرنا چاہیے اور بغیر مناسب انتظامات کے غیر ضروری خطرہ مول نہیں لینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک صحافی خود اپنی حفاظت کے حق کے لیے مؤثر انداز میں آواز نہیں اٹھائیں گے، اس وقت تک میڈیا مالکان پر بھی مطلوبہ دباؤ پیدا نہیں ہوگا۔
افضل بٹ نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ نیوز کنٹرولرز، بیورو چیفس یا اسائنمنٹ ایڈیٹرز جان بوجھ کر رپورٹرز کو جان لیوا خطرات میں دھکیلتے ہیں۔ ان کے مطابق ہر نیوز روم بہتر اور منفرد کوریج ضرور چاہتا ہے، لیکن کوئی بھی پیشہ ور مدیر یآخر میں انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث قدرتی آفات میں اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت، پیمرا، میڈیا مالکان اور صحافتی تنظیمیں مشترکہ طور پر ایسی پالیسی مرتب کریں جو ہر فیلڈ رپورٹر اور کیمرہ مین کی جان کے تحفظ کو اولین ترجیح دے، کیونکہ کوئی بھی خبر کسی صحافی کی زندگی سے زیادہ قیمتی نہیں ہو سکتی۔ا بیورو چیف یہ نہیں چاہے گا کہ خبر کی تلاش میں اس کا رپورٹر خود خبر بن جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات خود صحافی بھی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں غیر ضروری خطرات مول لے لیتے ہیں۔
پیمرا کے کردار پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے افضل بٹ نے کہا کہ میڈیا اداروں کے لیے صحافیوں کی حفاظت سے متعلق واضح اور قابلِ عمل ضابطہ کار ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق اگرچہ عمومی نوعیت کی شرائط موجود ہیں، لیکن صحافیوں کی فیلڈ سیفٹی، لازمی تربیت اور حفاظتی سامان کی فراہمی کے حوالے سے پیمرا کو الگ اور واضح ہدایات جاری کرنی چاہئیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ اگر کوئی ادارہ ان اصولوں کی خلاف ورزی کرے تو اس کے خلاف مناسب جرمانے یا دیگر انتظامی کارروائیاں کی جائیں تاکہ میڈیا ادارے صحافیوں کی حفاظت کو سنجیدگی سے یقینی بنائیں۔
اس تحقیق کے دوران ایک سوال بار بار ذہن میں ابھرتا رہا۔ اگر کل جنوبی پنجاب میں ایک اور بڑا سیلاب آ جائے، اور ایک رپورٹر لائیو کوریج کے دوران تیز ریلے میں بہہ جائے، یا بجلی کے کرنٹ، دلدلی زمین یا کشتی الٹنے سے جان کی بازی ہار جائے، تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟
کیا یہ صرف ایک “حادثہ” ہوگا، یا پھر ایسی موت کو ایک ایسے نظام کی ناکامی سمجھا جائے گا جس نے صحافی کو مناسب تربیت، حفاظتی سامان اور انشورنس کے بغیر خطرناک ماحول میں بھیج دیا؟
اس تحقیق کے دوران سامنے آنے والے شواہد، صحافیوں کی گواہیاں، ماہرین کی آراء اور صحافتی تنظیموں کے مؤقف ایک ہی حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان، خصوصاً جنوبی پنجاب میں، قدرتی آفات کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی اب بھی ایک مؤثر حفاظتی نظام سے محروم ہیں۔ وہ ایسے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں جنہیں مناسب منصوبہ بندی، تربیت اور حفاظتی اقدامات کے ذریعے بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف ایک رپورٹر یا ایک میڈیا ہاؤس کا نہیں بلکہ پورے میڈیا نظام کا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے قدرتی آفات کو مزید شدید اور غیر متوقع بنا دیا ہے، مگر ہمارے ادارہ جاتی ردِعمل کی رفتار اب بھی بہت سست ہے۔ اگر حالات یہی رہے تو خدشہ ہے کہ مستقبل میں ہم صرف سیلاب سے متاثرہ شہریوں کی اموات ہی نہیں بلکہ اپنے صحافیوں کی جانوں کے ضیاع کی خبریں بھی سن رہے ہوں گے۔





