مستقبل کی جنگ: ہیکرز، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل دفاع

تحریر:خالد بیگ

تصور کریں کہ ایک دشمن کسی ملک پر حملہ کرنا چاہتا ہے، مگر اس کے لیے وہ نہ تو کوئی میزائل فائر کرتا ہے، نہ جنگی جہاز اڑاتا ہے اور نہ ہی اپنی فوج سرحد پار بھیجتا ہے۔ اس کی بجائے، ہزاروں میل دور ایک تاریک کمرے میں بیٹھا ایک ہیکر اپنے کی بورڈ پر چند بٹن دباتا ہے۔ اچانک ہدف بننے والے ملک کے پورے پاور گرڈز ٹرپ کر جاتے ہیں، پورا ملک اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے، ہسپتالوں کی مشینیں بند ہو جاتی ہیں، مواصلاتی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے، اور بینکوں کا سارا ڈیٹا جام ہو کر رہ جاتا ہے۔ بغیر ایک گولی چلے اور بغیر کسی اعلانِ جنگ کے، ایک جیتی جاگتی ریاست چند لمحوں میں پتھر کے دور میں واپس چلی جاتی ہے۔

عالمی بساط کی اس چوتھی نشست میں ہم طاقت کے اس سب سے جدید، خاموش اور مہلک ترین مہرے کا جائزہ لیں گے، جسے آج کی دنیا “سائبر وارفیئر” (Cyber Warfare) اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کی جنگ کہتی ہے۔ یہ اکیسویں صدی کا وہ نیا اور غیر مرئی میدانِ جنگ ہے جہاں سرحدوں کی کوئی اہمیت نہیں، اور جہاں ہتھیار لوہے اور بارود کے بجائے الگورتھمز اور کمپیوٹر کوڈز پر مبنی ہیں۔

اس خوفناک اور ان دیکھے میدانِ جنگ کو سمجھنے کے لیے نیویارک ٹائمز کی معروف امریکی صحافی اور سائبر سیکیورٹی کی ماہر نکول پرلروتھ (Nicole Perlroth) کی 2021 میں شائع ہونے والی تہلکہ خیز کتاب “دس اِز ہاؤ دے ٹیل می دی ورلڈ اینڈز” (This Is How They Tell Me the World Ends) کا مطالعہ آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ انہوں نے اپنی اس تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ دنیا اب ایک اندھی سائبر ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہو چکی ہے جو ایٹمی ہتھیاروں سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ مستقبل کا کوئی بھی بڑا حملہ یا عالمی جنگ کسی دھماکے سے نہیں، بلکہ ایک خاموش ‘کلک’ (Click) سے شروع ہوگی۔ دشمن کا پہلا ہدف مخالف ملک کی فوج نہیں، بلکہ وہ بنیادی سویلین انفراسٹرکچر ہوگا جس پر پانی، بجلی اور عوام کی زندگیوں کا انحصار ہے، تاکہ بغیر خون بہائے ہی ریاست کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا سکے۔

اگر ہم آج کی سٹریٹجک صورتحال پر نظر دوڑائیں تو بڑی عالمی طاقتیں روایتی ہتھیاروں سے زیادہ اب آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور خودکار ڈرون غول (Drone Swarms) پر کھربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں۔ ایک ایسا دور شروع ہو چکا ہے جہاں مشینیں خود فیصلہ کریں گی کہ کسے نشانہ بنانا ہے اور کسے چھوڑنا ہے۔

اس جدید ترین خطرے کے تناظر میں جب ہم پاکستان کو دیکھتے ہیں، تو صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔ ہمارا روایتی دشمن بھارت، جو میدانِ جنگ میں ہماری افواج کا سامنا کرنے سے خائف ہے، اب اس نے سائبر دہشت گردی اور ڈیجیٹل دراندازی کو اپنا سب سے بڑا ہتھیار بنا لیا ہے۔ آئے روز پاکستان کے اہم سرکاری اداروں کی ویب سائٹس، بینکنگ سیکٹر اور ڈیٹا بیسز پر بھارت کی سرپرستی میں ہونے والے سائبر حملے اسی خاموش جنگ کا حصہ ہیں۔ دشمن کا مقصد صرف ڈیٹا چرانا نہیں ہے، بلکہ وہ ہمارے نظام کو مفلوج کر کے عوام میں خوف اور ریاست کے خلاف عدم اعتماد کی فضا پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ای یو ڈس انفو لیب (EU DisinfoLab) کی وہ رپورٹ تو آپ کو یاد ہی ہوگی جس نے بے نقاب کیا تھا کہ بھارت کس طرح پچھلے پندرہ سالوں سے جعلی ویب سائٹس اور فیک این جی اوز کا ایک بہت بڑا ڈیجیٹل نیٹ ورک چلا رہا تھا جس کا واحد مقصد عالمی سطح پر پاکستان اور اس کے ریاستی اداروں کو بدنام کرنا تھا۔

لیکن دشمن کے ہر وار کی طرح اس جدید ترین محاذ پر بھی اسے منہ کی کھانا پڑ رہی ہے۔ ہمارے عوام شاید اس بات سے پوری طرح واقف نہ ہوں، مگر جس طرح ہماری بری، بحری اور فضائی افواج ملکی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے جاگتی ہیں، بالکل اسی طرح پاکستان کی مسلح افواج کا “سائبر کمانڈ” (Cyber Command) دن رات ہماری ڈیجیٹل سرحدوں کا دفاع کر رہا ہے۔ ہمارے انٹیلی جنس اداروں کے گمنام ہیروز اور آئی ٹی ماہرین سکرینوں کے پیچھے ایک ایسی خاموش جنگ لڑ رہے ہیں جس کی خبر عام شہری کو کبھی نہیں ہوتی، لیکن وہ ہر روز دشمن کے سینکڑوں خطرناک سائبر حملوں کو ناکام بنا کر ملکی سلامتی اور ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنا رہے ہیں۔
آج کے اس ڈیجیٹل دور میں قومی سلامتی کا تصور مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ اس عالمی بساط پر اب کوئی ملک صرف ٹینکوں اور میزائلوں کے زور پر خود کو محفوظ قرار نہیں دے سکتا۔ بقا اور سلامتی کے لیے اب تکنیکی برتری (Technological Supremacy) لازم ہو چکی ہے۔ وقت کی اہم ترین ضرورت یہ ہے کہ ہماری ریاست آرٹیفیشل انٹیلی جنس، سائبر سیکیورٹی اور جدید ٹیکنالوجی میں اپنے نوجوانوں کی بڑے پیمانے پر تربیت کرے، کیونکہ کل کی جنگوں کے سپاہی خندقوں میں نہیں، بلکہ کمپیوٹر سکرینوں کے پیچھے بیٹھے ہوں گے۔

جب ہماری قوم کا باشعور نوجوان جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہو کر اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا، تو ڈیجیٹل دنیا کی یہ غیر مرئی دیوار اتنی ناقابلِ تسخیر ہو جائے گی کہ دشمن کا کوئی بھی سائبر وارفیئر یا ہائبرڈ وار کا نظریہ پاکستان کی سالمیت کو رتی برابر بھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں