تحریر: شہزاد فرید
جنوبی پنجاب بالخصوص ملتان اور شجاع آباد کی تاریخ صرف اولیاء، درگاہوں اور آم کے باجات تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ خطہ صدیوں تک دنیا بھر میں نیل یعنی قدرتی انڈیگو کی پیداوار اور تجارت کا سب سے بڑا مرکز رہا ہے۔ ایک دور تھا جب شجاع آباد کے سرسبز کھیتوں میں اگنے والے نیل کے پودے کو نیلا سونا کہا جاتا تھا اور یہ دنیا کی سب سے قیمت اور نایاب زرعی مصنوعات میں شمار ہوتا تھا۔ ملتان شاہراہِ ریشم پر واقع ایک اہم تجارتی منڈی تھی جہاں سے عرب، وسطی ایشیا اور یورپ کے تاجر نیل خریدنے کے لیے قافلوں کی صورت میں آیا کرتے تھے۔
ملتان اور دریائے چناب کی زرخیز مٹی اور مخصوص گرم آب و ہوا نیل کے پودے کی کاشت کے لیے دنیا کی سب سے بہترین سرزمین سمجھی جاتی تھی۔ نیل کی کاشت اور اس سے رنگ تیار کرنے کا عمل محض ایک زراعت نہیں بلکہ ایک انتہائی پیچیدہ سائنسی فن اور ہنر تھا جو نسل در نسل مقامی کسانوں اور رنگریزوں کے سینوں میں محفوظ چلا آ رہا تھا۔ نیل کا پودا جب تیار ہوتا تو اسے پھول آنے سے پہلے ہی کاٹ لیا جاتا تھا اور پھر اس کے پتے اور شاخیں اینٹوں اور چنے سے بنے ہوئے بڑے بڑے حوضوں میں ڈال دی جاتی تھیں۔ ان حوضوں میں نہر یا کنویں کا پانی بھر کر نیل کے پودوں کو گھنٹوں بھگویا جاتا تھا تاکہ ان میں تخمیر یعنی فرمنٹیشن کا عمل شروع ہو۔
اس کے بعد خمیر شدہ سبز رنگ کے پانی کو دوسرے حوض میں منتقل کر کے لکڑی کے بڑے بڑے ڈنڈوں یا ہاتھوں سے گھنٹوں ہلا کر ہوا دی جاتی تھی جسے مقامی زبان میں جھلوائی کہتے تھے۔ اس عمل سے پانی میں موجود کیمیائی مادے آکسیجن کے ساتھ مل کر سبز سے گہرے نیلے رنگ میں تبدیل ہونا شروع ہو جاتے تھے۔ جب نیلا رنگ حوض کی تہہ میں گاڑھے مٹیالے مادے کی صورت میں بیٹھ جاتا تو اوپر کا شفاف پانی نکال دیا جاتا تھا اور اس نیلے مادے کو باریک کپڑے سے چھان کر کپڑوں کی تھائیوں پر خشک کیا جاتا تھا اور بعد میں اس کی چھوٹی چھوٹی ٹکیاں یا کیک بنا لیے جاتے تھے۔
یہ قدرتی نیل ملتان کی کاشی کاری، اندرون سندھ کی اجرک، کہروڑ پکا کے ٹھپے کی چھپائی یعنی بلاک پرنٹنگ اور روایتی کھڈی کے کپڑوں کو رنگنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ قدرتی نیل سے رنگا ہوا کپڑا نہ صرف دھوپ میں خراب نہیں ہوتا تھا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی چمک میں اضافہ ہوتا تھا اور اس میں قدرتی طور پر جراثیم کش خصوصیات بھی موجود ہوتی تھیں۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی نے ملتان اور شجاع آباد کے اس نیل پر مکمل قبضہ کر کے اسے برآمد کرنا شروع کیا لیکن انیسویں صدی کے آخر میں جرمنی میں سنتھیٹک یعنی مصنوعی نیل کی کیمیائی دریافت نے اس تاریخی صنعت پر موت کا کوڑا برسا دیا۔
مصنوعی کیمیائی رنگ انتہائی سستے اور منٹوں میں تیار ہو جاتے تھے جس کی وجہ سے قدرتی نیل کی طلب عالمی منڈی میں تیزی سے گرنے لگی۔ شجاع آباد اور ملتان کے کسانوں نے نیل کی کاشت چھوڑ کر کپاس اور گندم جیسی فصلیں اگانا شروع کر دیں اور نیل کے وہ قدیم حوض جن میں ہزاروں مزدور کام کرتے تھے، وقت کے ساتھ ساتھ ٹوٹ پھوٹ کر مٹی کے ڈھیروں میں تبدیل ہو گئے۔ آج جنوبی پنجاب میں نیل کی روایتی زراعت مکمل طور پر معدوم ہو چکی ہے اور اس سے وابستہ صدیوں پرانا قدرتی رنگ سازی کا علم اور ہنر ہمیشہ کے لیے دفن ہو چکا ہے۔
آج ہمارے کپڑوں اور کاشی کاری میں جو نیلا رنگ استعمال ہوتا ہے وہ زہریلے کیمیکلز اور فاسفیٹس سے بنتا ہے جو ماحول اور انسان دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ اگر حکومت اور زرعی تحقیقاتی ادارے شجاع آباد اور ملتان میں قدرتی نیل کی ارگینک بنیادوں پر دوبارہ کاشت شروع کروائیں تو نہ صرف دنیا بھر میں ارگینک ٹیکسٹائل کی بڑھتی ہوئی مانگ سے کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے بلکہ جنوبی پنجاب کے اس گمشدہ اور تاریخی ورثے کو بھی ایک نئی زندگی دی جا سکتی ہے۔





