سندھ کی نابینا ڈولفن: ماحولیاتی تحفظ اور انسانی المیہ

تحریر : فضہ مریم
تونسہ بیراج کے مقام پر دریائے سندھ کا مٹیالا پانی جب سردیوں کی دھند میں خاموشی سے بہہ رہا ہوتا ہے، تو سطحِ آب پر اچانک ایک ہلچل سی ہوتی ہے۔ ایک سرمئی رنگ کا چمکدار جسم چند سیکنڈ کے لیے پانی سے باہر آتا ہے، ایک مخصوص آواز کے ساتھ ہوا کھینچتا ہے اور دوبارہ دریا کی گہرائیوں میں غائب ہو جاتا ہے۔ مقامی لوگ اسے ‘بھلن’ کہتے ہیں، جبکہ دنیا اسے دریائے سندھ کی نابینا ڈولفن کے نام سے جانتی ہے۔ لیکن اسی دریا کے کنارے، لکڑی کی چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں بیٹھے ماہی گیروں کے لیے یہ خوبصورت اور نایاب آبی حیات اب ایک ایسا خوف بن چکی ہے جس نے ان کے صدیوں پرانے روزگار اور بقا کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
یہ کہانی صرف ایک معدوم ہوتی ہوئی جنگلی حیات کی نہیں ہے، بلکہ یہ ماحولیاتی تحفظ کے ان عالمی قوانین اور مقامی لوگوں کی معاشی مجبوریوں کے درمیان تصادم کی ایک تلخ حقیقت ہے جو مظفر گڑھ، کوٹ ادو اور ڈیرہ غازی خان کے سرحدی علاقوں میں روزانہ لکھی جا رہی ہے۔دریائے سندھ کی ڈولفن دنیا میں پائی جانے والی میٹھے پانی کی صرف چار اقسام کی ڈولفنز میں سے ایک ہے اور یہ مچھلی نہیں بلکہ ایک ممالیہ جانور ہے جو بچوں کو جنم دیتی ہے اور اسے سانس لینے کے لیے ہر چند منٹ بعد پانی کی سطح پر آنا پڑتا ہے۔ لاکھوں سال پہلے جب سمندر کا پانی پیچھے ہٹا تو یہ ڈولفن دریائے سندھ کے نظام میں ہی رہ گئی۔ چونکہ دریا کا پانی ریت اور مٹی کی وجہ سے ہمیشہ گدلا رہتا ہے، اس لیے ارتقائی عمل کے دوران اس ڈولفن کی آنکھوں کی روشنی ختم ہو گئی اور یہ مکمل طور پر نابینا ہو گئی۔ یہ اپنے شکار کو تلاش کرنے اور راستہ دیکھنے کے لیے آواز کی لہروں کا استعمال کرتی ہے۔
ایک وقت تھا جب یہ ڈولفن بحیرہ عرب سے لے کر ہمالیہ کے دامن تک پورے دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں میں آزادانہ تیرتی تھی۔ لیکن برطانوی دور اور پھر قیامِ پاکستان کے بعد بننے والے بیراجوں کے نظام نے اس کے مسکن کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔ 1958 میں جب تونسہ بیراج کی تعمیر مکمل ہوئی، تو ڈولفن کی آبادی چشمہ بیراج اور تونسہ بیراج کے درمیانی حصے، اور تونسہ سے گڈو بیراج کے درمیان قید ہو کر رہ گئی۔ مارچ 1996 میں تونسہ بیراج کو اس کی آبی حیات اور پرندوں کی وجہ سے عالمی اہمیت کے حامل مقام کا درجہ دے دیا گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پورے پاکستان میں ان ڈولفنز کی کل تعداد بمشکل 2000 سے 2500 کے درمیان رہ گئی ہے، جس کی وجہ سے عالمی ادارہ برائے تحفظِ فطرت نے اسے معدومیت کے شدید خطرے سے دوچار جانوروں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔اس کہانی کا دوسرا اور تاریک پہلو وہ انسانی المیہ ہے جسے اکثر بین الاقوامی تنظیمیں اور ماحولیاتی ادارے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ تونسہ بیراج اور دریائے سندھ کے کناروں پر صدیوں سے ‘موہانہ’ اور دیگر ماہی گیر قبائل آباد ہیں۔ ان کا اوڑھنا بچھونا، روزگار اور ثقافت اسی دریا سے جڑی ہے۔ ماضی میں ماہی گیر اور بھلن ایک دوسرے کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے تحت رہتے تھے۔ ڈولفن ماہی گیروں کی دوست سمجھی جاتی تھی جو مچھلیوں کے جھنڈ کو ہانک کر کناروں کی طرف لاتی تھی۔ لیکن آج صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔حالیہ برسوں میں محکمہ جنگلی حیات اور مختلف غیر سرکاری تنظیموں نے ڈولفن کو بچانے کے لیے قوانین کو انتہائی سخت کر دیا ہے۔ اگر کسی ماہی گیر کے جال میں حادثاتی طور پر ڈولفن پھنس کر مر جائے تو اس غریب ماہی گیر پر مقدمہ درج کر دیا جاتا ہے اور اسے لاکھوں روپے جرمانے اور قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔زمینی حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی ماہی گیر جان بوجھ کر ڈولفن کا شکار نہیں کرتا کیونکہ اس کے گوشت یا چربی کی کوئی تجارتی مالیت یا مانگ نہیں ہے۔ ہوتا دراصل یہ ہے کہ ماہی گیر رات کے وقت دریا میں اپنے جال بچھا کر سو جاتے ہیں۔ نابینا ڈولفن ایکو لوکیشن کے باوجود بعض اوقات باریک نائیلون کے جالوں میں الجھ جاتی ہے۔ چونکہ ڈولفن کو سانس لینے کے لیے پانی کی سطح پر آنا ہوتا ہے، جال میں الجھنے کی وجہ سے وہ سطح تک نہیں پہنچ پاتی اور پانی کے اندر ہی دم گھٹنے سے اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ صبح جب ماہی گیر جال کھینچتا ہے تو اس میں مری ہوئی ڈولفن دیکھ کر اس کے ہوش اڑ جاتے ہیں۔ جرمانے اور پولیس کے خوف سے وہ اکثر اس مردہ ڈولفن کو چھپانے کے لیے اس کے پیٹ میں پتھر باندھ کر دریا میں ڈبو دیتے ہیں یا ریت میں دبا دیتے ہیں۔
محکمہ جنگلی حیات کے پاس ڈولفن کے تحفظ کے لیے صرف ایک ہی حکمتِ عملی ہے اور وہ ہے ‘سزا اور ڈر’۔ ڈولفن کی ہلاکت پر ماہی گیر کو پچاس ہزار سے لے کر پانچ لاکھ روپے تک کا جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ ایک ماہی گیر جو سارا دن چلچلاتی دھوپ یا کڑاکے کی سردی میں دریا میں جال پھینک کر بمشکل پانچ سو سے ہزار روپے کماتا ہے، وہ بھلا لاکھوں روپے کا جرمانہ کہاں سے ادا کر سکتا ہے؟

مزید برآں، ڈولفن کی حفاظت کے نام پر دریا کے کئی حصوں کو ممنوعہ علاقہ قرار دے دیا گیا ہے۔ ماہی گیروں کو ان کے اپنے ہی دریا میں اجنبی اور مجرم بنا دیا گیا ہے۔ پہرے داروں کی بلیک میلنگ اور رشوت ستانی نے اس طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ دوسری طرف، کارخانوں کا زہریلا کیمیکل، زرعی ادویات ملا پانی اور شہروں کا سیوریج جو براہِ راست ڈیرہ غازی خان اور مظفر گڑھ سے دریا میں گرایا جا رہا ہے، وہ مچھلیوں کی افزائش کو تباہ کر رہا ہے۔ دریا میں مچھلی ویسے ہی کم ہو چکی ہے، اور رہی سہی کسر ان پابندیوں نے پوری کر دی ہے۔اگر ہم حقائق کا غیر جانبداری سے جائزہ لیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ صرف قوانین بنا دینے اور غریب ماہی گیروں کو جیلوں میں ڈالنے سے ڈولفن نہیں بچے گی۔ نابینا ڈولفن کی بقا کے لیے سب سے بڑا خطرہ ماہی گیروں کے جال نہیں، بلکہ سردیوں کے موسم میں بیراجوں سے پانی کا روکا جانا، دریا میں آلودگی اور ڈیموں کی تعمیر ہے۔ جب نہروں کی بھل صفائی کے لیے دریا کا پانی کم کیا جاتا ہے تو ڈولفنز گہرے پانی کی تلاش میں نہروں میں چلی جاتی ہیں اور وہاں پانی سوکھنے پر کیچڑ میں پھنس کر مر جاتی ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ عطیہ دہندگان اور حکومت ماہی گیروں کو ڈولفن کا دشمن سمجھنے کے بجائے انہیں اس کے تحفظ کا شراکت دار بنائیں۔ ماہی گیروں پر پابندیاں اور جرمانے عائد کرنے کے بجائے انہیں ایسے مخصوص، جدید اور محفوظ جال فراہم کیے جائیں جن میں ڈولفن نہ الجھے۔ اگر حکومت کسی علاقے کو ڈولفن کے لیے محفوظ زون قرار دیتی ہے تو وہاں کے مقامی ماہی گیروں کو متبادل روزگار فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

تونسہ بیراج کی لہروں میں ڈبکیاں لگاتی یہ نابینا ڈولفن قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے جسے ہر قیمت پر بچانا ضروری ہے، لیکن اس کی قیمت دریا کنارے بسنے والے غریب ماہی گیروں کے بچوں کو بھوکا مار کر نہیں چکائی جا سکتی۔ قدرت نے دریا انسان اور آبی حیات دونوں کے لیے بنائے ہیں۔ ماحولیات اور انسانی بقا کا یہ توازن اسی وقت قائم رہ سکتا ہے جب قوانین زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر بنائے جائیں اور غریب انسان کو بھی جینے کا اتنا ہی حق دیا جائے جتنا ایک جنگلی حیات کو دیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں