مہنگائی، بے روزگاری اور مایوسی؛ پاکستانی معاشرہ ذہنی دباؤ کے شکنجے میں

تحریر: کلب عابد خان

کسی بھی معاشرے کی خوشحالی کا اندازہ صرف بلند عمارتوں، کشادہ سڑکوں، بڑے کاروباروں اور ترقیاتی منصوبوں سے نہیں لگایا جا سکتا، بلکہ اصل خوشحالی اس وقت نظر آتی ہے جب وہاں رہنے والا عام شہری ذہنی سکون، معاشی تحفظ اور بہتر مستقبل کی امید رکھتا ہو۔ بدقسمتی سے آج پاکستان میں ایک عام آدمی کی زندگی مشکلات کے ایسے حصار میں گھرتی جا رہی ہے جہاں مہنگائی، بے روزگاری، معاشی غیر یقینی اور معاشرتی مسائل نے نہ صرف اس کی جیب بلکہ اس کے ذہن اور اعصاب کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

وزارتِ صحت سے منسوب اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ذہنی صحت کے مسائل سے متاثرہ افراد کی تعداد 3 کروڑ 24 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ اسلام آباد میں بھی 3 لاکھ سے زائد افراد ذہنی امراض کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار محض ایک رپورٹ کا حصہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سے حالات ہیں جنہوں نے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو ذہنی دباؤ، بے چینی اور نفسیاتی مسائل کی طرف دھکیل دیا ہے؟

اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں ایک عام پاکستانی گھر کے حالات کو سمجھنا ہوگا۔ ایک متوسط طبقے کا شخص صبح گھر سے نکلتا ہے تو اس کے ذہن میں کئی سوالات گردش کر رہے ہوتے ہیں۔ بجلی کا بل کیسے ادا ہوگا؟ بچوں کی اسکول فیس کہاں سے آئے گی؟ گھر کا راشن پورا ہوگا یا نہیں؟ پٹرول اور سفر کے اخراجات کیسے برداشت کیے جائیں گے؟ اگر کاروبار کرتا ہے تو بجلی، کرایہ، ملازمین کی تنخواہیں اور ٹیکس کیسے ادا کرے گا؟ اگر ملازمت پیشہ ہے تو محدود تنخواہ میں پورا مہینہ کیسے گزارے گا؟ یہ وہ سوالات ہیں جو روزانہ لاکھوں پاکستانیوں کے ذہنوں پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔

مہنگائی نے زندگی کے بنیادی تقاضوں کو بھی مشکل بنا دیا ہے۔ اشیائے خورونوش، بجلی، گیس، پٹرول، ادویات اور تعلیم کے اخراجات میں اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کیا ہے۔ ایک وقت تھا جب ایک گھر کا سربراہ اپنی ماہانہ آمدنی میں گھر کے اخراجات پورے کرنے کے بعد کچھ رقم بچانے کی امید بھی رکھتا تھا، لیکن آج بہت سے خاندانوں کے لیے مہینے کا اختتام ایک نئے مالی بحران کا آغاز بن جاتا ہے۔ جب مسلسل محنت کے باوجود ضروریات پوری نہ ہوں تو انسان صرف معاشی مشکلات کا شکار نہیں ہوتا بلکہ اس کی ذہنی کیفیت بھی متاثر ہونے لگتی ہے۔

بے روزگاری اس صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ ہمارے نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد روزگار کی تلاش میں دربدر پھر رہے ہیں۔ ڈگریاں ہاتھ میں ہیں، صلاحیتیں موجود ہیں، خواب آنکھوں میں ہیں، مگر مناسب مواقع میسر نہیں۔ بعض نوجوان برسوں کی تعلیم کے بعد بھی اپنے والدین پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ دوسری طرف والدین اپنی جمع پونجی بچوں کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ایک دن ان کے بچے خاندان کا سہارا بنیں گے۔ جب یہ امید پوری نہیں ہوتی تو نوجوانوں کے ساتھ والدین بھی ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ اگر نوجوان نسل کو روزگار، کاروبار اور ترقی کے مناسب مواقع نہ ملے تو ملک کا مستقبل کیسے محفوظ ہوگا؟

کاروباری طبقہ بھی غیر یقینی حالات سے دوچار ہے۔ بجلی اور گیس کے اخراجات، ٹیکسوں کا بوجھ، کاروباری لاگت اور قوتِ خرید میں کمی نے چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے لیے کاروبار چلانا مشکل بنا دیا ہے۔ ایک تاجر جب سارا دن دکان پر بیٹھنے کے باوجود مناسب فروخت نہ دیکھے تو اس کی پریشانی صرف کاروبار تک محدود نہیں رہتی بلکہ گھر کے اخراجات، ملازمین کی تنخواہوں اور مستقبل کی ذمہ داریاں بھی اس کے ذہن پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشی بحران کا اثر معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچ رہا ہے۔

اس تمام صورتحال کا سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو نوجوانوں کی ذہنی صحت ہے۔ سوشل میڈیا نے ایک نئی نفسیاتی دوڑ پیدا کر دی ہے۔ ہر شخص دوسروں کی کامیابی، خوشحالی، مہنگی گاڑیوں، بیرون ملک دوروں اور آسائشوں کو دیکھ رہا ہے۔ نوجوان اپنی حقیقی زندگی کا موازنہ دوسروں کی دکھائی جانے والی زندگی سے کرنے لگتے ہیں۔ نتیجتاً احساسِ محرومی، مایوسی اور ناکامی کا خوف بڑھنے لگتا ہے۔ ہمیں نوجوانوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ زندگی کا معیار صرف دولت، شہرت اور ظاہری آسائشوں سے نہیں بلکہ کردار، محنت، صلاحیت اور ذہنی سکون سے بھی متعین ہوتا ہے۔

گھریلو زندگی میں بھی ذہنی دباؤ کے اثرات واضح دکھائی دیتے ہیں۔ معاشی مشکلات کے باعث میاں بیوی کے درمیان اختلافات، بچوں کی ضروریات پوری نہ ہونے پر پریشانی، والدین کی بڑھتی عمر اور علاج کے اخراجات خاندانوں کو ذہنی طور پر متاثر کرتے ہیں۔ پہلے خاندان کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر اپنے مسائل بیان کرتے تھے، لیکن اب مصروفیت، موبائل فون اور سوشل میڈیا نے باہمی رابطوں کو کمزور کر دیا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے دکھ دوسروں سے چھپاتے ہیں اور خاموشی سے پریشانی برداشت کرتے رہتے ہیں۔

خواتین اور بچوں کی ذہنی صحت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ گھریلو ذمہ داریوں، معاشرتی توقعات، عدم تحفظ اور معاشی مشکلات کا بوجھ خواتین پر بھی پڑتا ہے۔ دوسری طرف بچوں کو تعلیمی مقابلے، والدین کی توقعات اور گھریلو ماحول کے دباؤ کا سامنا ہے۔ اگر گھر کا ماحول مسلسل پریشانی اور تنازعات کا شکار رہے تو اس کے اثرات بچوں کی شخصیت، تعلیم اور اعتماد پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ذہنی بیماری کو آج بھی غلط انداز میں دیکھا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص مسلسل اداس رہے، نیند نہ آئے، بے چینی محسوس کرے یا زندگی سے مایوس ہونے لگے تو بعض لوگ اسے کمزور اعصاب یا محض وہم قرار دے دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈپریشن، اضطراب اور دیگر نفسیاتی مسائل طبی نوعیت کے مسائل ہیں جن کی تشخیص اور علاج ممکن ہے۔ ذہنی بیماری شرمندگی نہیں اور نہ ہی کسی انسان کی کمزوری کی علامت ہے۔ ایسے افراد کو تنقید کے بجائے ہمدردی، توجہ اور مناسب طبی سہولتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ذہنی صحت کو قومی صحت پالیسی کا بنیادی حصہ بنایا جائے۔ ضلعی سطح پر سرکاری ہسپتالوں میں نفسیاتی علاج کے شعبے فعال کیے جائیں، ماہر نفسیات کی تعداد بڑھائی جائے اور کم آمدنی والے خاندانوں کو مفت یا کم خرچ علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔ اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں نفسیاتی مشاورت کا نظام ہونا چاہیے تاکہ نوجوانوں کے مسائل ابتدائی مرحلے پر سامنے آ سکیں۔ اسی طرح روزگار کے مواقع پیدا کرنا، کاروبار کے لیے آسانیاں فراہم کرنا اور عام شہری کی قوتِ خرید بہتر بنانا بھی ذہنی دباؤ کم کرنے کی اہم حکمت عملی ہے۔

میڈیا، سماجی تنظیموں، تعلیمی اداروں اور خاندانوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں ایسا معاشرتی ماحول پیدا کرنا چاہیے جہاں کوئی شخص اپنی پریشانی بیان کرنے سے خوف محسوس نہ کرے۔ کسی کی بات توجہ سے سننا، مشکل وقت میں اس کا ساتھ دینا اور ضرورت کے وقت اسے مستند ڈاکٹر تک پہنچانا ایک بڑی سماجی خدمت ہے۔

آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ قومیں صرف معاشی اعداد و شمار سے خوشحال نہیں ہوتیں بلکہ ان کے شہریوں کا اطمینان، تحفظ اور ذہنی سکون بھی ترقی کا پیمانہ ہوتا ہے۔ اگر ایک شخص دن رات محنت کرے لیکن اسے اپنے بچوں کے مستقبل، گھر کے اخراجات اور روزگار کے تحفظ کی فکر ہی لاحق رہے تو اس کی زندگی میں خوشحالی کا احساس کیسے پیدا ہوگا؟

پاکستان کو آج صرف معاشی استحکام ہی نہیں بلکہ معاشرتی اور ذہنی استحکام کی بھی ضرورت ہے۔ مہنگائی پر قابو، روزگار کے مواقع، بہتر تعلیمی نظام، سستا علاج اور انسانی احترام پر مبنی معاشرتی رویے ہی اس بحران سے نکلنے کا راستہ ہیں۔

یاد رکھیے! خالی جیب انسان کو پریشان ضرور کرتی ہے، لیکن بے یقینی، مایوسی اور مستقبل کا خوف اسے اندر سے توڑ دیتا ہے۔ ہمیں ایک ایسا پاکستان بنانا ہوگا جہاں شہری صرف زندہ رہنے کی جدوجہد نہ کریں بلکہ عزت، امید اور ذہنی سکون کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ کیونکہ حقیقی ترقی وہی ہے جس میں ملک کے ساتھ اس کے شہری بھی خوشحال ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں