دنیا کی سیاست میں بعض اوقات ایک جملہ کئی برس کی سفارت کاری پر بھاری پڑ جاتا ہے۔ ایک ایسا ہی جملہ امریکی سفیر برائے بھارت اور جنوبی و وسطی ایشیا کے خصوصی ایلچی سرجیو گور کی جانب سے سامنے آیا، جس نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان سفارتی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سرجیو گور نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے دورے کے دوران کشمیر کو ’’بھارت کا ایک اہم حصہ‘‘ قرار دیا، جس کے بعد پاکستان نے فوری طور پر امریکی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے سخت سفارتی احتجاج ریکارڈ کرایا۔یہ محض ایک سفارتی جملہ نہیں تھا، کیونکہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک متنازع مسئلہ ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، جس کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی امریکی سفیر کے بیان کو نہ صرف حقائق کے منافی قرار دیا بلکہ کہا کہ یہ امریکہ کے طویل عرصے سے چلے آنے والے مؤقف سے بھی متصادم ہے۔
اب یہاں اصل سوال پیدا ہوتا ہے کہ سرجیو گور کون ہیں اور ان کے ایک جملے کی اہمیت اتنی زیادہ کیوں ہے؟
سرجیو گور صرف بھارت میں تعینات امریکی سفیر نہیں بلکہ جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے امریکی خصوصی ایلچی بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے الفاظ کو ایک عام سفارتی بیان سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی ذمہ داریوں کا دائرہ بھارت اور پاکستان سمیت خطے کے اہم معاملات تک پھیلا ہوا ہے۔
یہاں ہمیں جذبات سے زیادہ سفارت کاری کی زبان سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی عام امریکی شہری کشمیر کے بارے میں کوئی رائے دے تو شاید اس کی کوئی خاص سفارتی اہمیت نہ ہو، لیکن جب ایک ایسے شخص کی زبان سے یہ الفاظ نکلیں جو امریکی صدر کی انتظامیہ میں جنوبی و وسطی ایشیا کے لیے خصوصی ذمہ داری رکھتا ہو تو فطری طور پر سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ صرف ایک ذاتی تبصرہ تھا، سفارتی لغزش تھی، یا پھر واشنگٹن کی کشمیر پالیسی میں کسی ممکنہ تبدیلی کا اشارہ ہے؟
پاکستان نے اسی لیے خاموش رہنے کے بجائے فوری ردعمل دیا۔ امریکی ناظم الامور کو طلب کرکے ’’سخت احتجاج‘‘ ریکارڈ کرانا اس بات کا واضح اظہار تھا کہ اسلام آباد اس بیان کو معمولی معاملہ نہیں سمجھتا۔ پاکستان نے واضح کیا کہ کشمیر کی حیثیت کے بارے میں کسی بھی ایسے بیان کو قبول نہیں کیا جا سکتا جو اسے یک طرفہ طور پر بھارت کا حصہ قرار دے۔
لیکن اس معاملے کا دوسرا پہلو بھی انتہائی اہم ہے۔
امریکہ ایک عالمی طاقت ہے اور جنوبی ایشیا میں بھارت اور پاکستان دونوں کے ساتھ اس کے اپنے مفادات ہیں۔ واشنگٹن کے لیے بھارت ایک بڑی معاشی اور تزویراتی طاقت ہے، جبکہ پاکستان بھی خطے کے امن، افغانستان، دہشت گردی کے خلاف تعاون اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے اہم ملک ہے۔ ایسے ماحول میں امریکی سفارت کاری سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ حساس ترین تنازعات پر الفاظ کا انتخاب انتہائی محتاط ہو۔
کشمیر ایسا ہی حساس مسئلہ ہے۔سرجیو گور کا یہ کہنا کہ کشمیر بھارت کا اہم حصہ ہے، بھارت میں یقیناً خوش آئند سمجھا گیا، لیکن پاکستان میں اس پر شدید ردعمل آیا۔ بھارتی ذرائع ابلاغ اور بعض تجزیہ کاروں نے بھی اس بیان کو نئی دہلی کے مؤقف کے لیے اہم سفارتی تائید کے طور پر دیکھا۔
اب پاکستان کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ احتجاج کے ساتھ اپنی سفارتی حکمت عملی کو بھی آگے بڑھائے۔ صرف بیان جاری کرنا کافی نہیں۔ پاکستان کو واشنگٹن سے یہ وضاحت ضرور طلب کرنی چاہیے کہ کیا سرجیو گور کا بیان امریکی حکومت کی باقاعدہ پالیسی کی نمائندگی کرتا ہے یا یہ ایک سفارتی سطح کی غلطی تھی؟اگر یہ ذاتی یا غیر محتاط بیان تھا تو امریکہ کو وضاحت دینی چاہیے۔ اگر یہ امریکی پالیسی کی تبدیلی کا اشارہ ہے تو پھر واشنگٹن کو اپنی پالیسی باضابطہ طور پر واضح کرنی چاہیے۔کیونکہ عالمی سیاست میں ابہام بھی ایک پیغام ہوتا ہے۔یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات صرف کشمیر تک محدود نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر تزویراتی، معاشی اور سلامتی کے معاملات موجود ہیں۔ اس لیے پاکستان کے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ احتجاج مضبوط ہو، مگر سفارتی دروازے بند نہ ہوں۔ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کشمیر کا مقدمہ صرف جذبات سے نہیں بلکہ مضبوط سفارتی، قانونی اور سیاسی دلائل سے آگے بڑھتا ہے۔ دنیا کو بار بار یہ باور کرانا ضروری ہے کہ پاکستان کشمیر کو محض دو طرفہ سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک دیرینہ بین الاقوامی تنازع سمجھتا ہے۔
سرجیو گور کے بیان نے ایک اور اہم سوال بھی پیدا کیا ہے: اگر امریکہ واقعی جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام چاہتا ہے تو کیا ایسے بیانات کشیدگی کم کریں گے یا مزید بڑھائیں گے؟
امن کے لیے ضروری ہے کہ طاقتور ممالک اپنے الفاظ کا وزن سمجھیں۔ خاص طور پر ایسے خطے میں جہاں ایک معمولی غلط فہمی بھی بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
پاکستان کا احتجاج اس حوالے سے ضروری تھا۔ اب اگلا قدم واشنگٹن کی طرف سے آنا چاہیے۔اگر امریکہ کشمیر کے بارے میں اپنی دیرینہ پالیسی تبدیل نہیں کر رہا تو اسے واضح کرنا چاہیے کہ سرجیو گور کا بیان کیا تھا۔ اور اگر امریکی پالیسی واقعی تبدیل ہو رہی ہے تو دنیا کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ یہ تبدیلی کیوں آئی۔کیونکہ کشمیر صرف نقشے پر کھینچی ہوئی ایک لکیر کا نام نہیں۔ یہ لاکھوں انسانوں، کئی دہائیوں کی کشیدگی اور خطے کے مستقبل سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ایک سفیر کا ایک جملہ شاید چند سیکنڈ میں ادا ہو جائے، مگر اس کے سفارتی اثرات کئی برس تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ واشنگٹن اس جملے کو ایک سفارتی لغزش قرار دیتا ہے یا اسے اپنی بدلتی ہوئی کشمیر پالیسی کا اشارہ بننے دیتا ہے۔پاکستان نے احتجاج ریکارڈ کرا دیا ہے، اب دنیا کی نظریں واشنگٹن کے جواب پر ہیں۔





