تحریر: خالد بیگ (دفاعی و سیکیورٹی تجزیہ کار)
تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو ایک بات بڑی صراحت کے ساتھ ابھر کر سامنے آتی ہے کہ جس طاقت نے سمندروں اور تجارتی راستوں پر حکمرانی کی، اسی نے دنیا پر راج کیا۔ آج کی اکیسویں صدی میں بھی طاقت کے اس کھیل کا میدان تبدیل نہیں ہوا، بس اس میں استعمال ہونے والے ہتھیار بدل گئے ہیں۔ اب بڑی طاقتوں کی نظریں محض زمین کے ٹکڑوں پر نہیں، بلکہ ان تجارتی گزرگاہوں اور معاشی راہداریوں پر ہیں جہاں سے دنیا کی معیشت کی شہ رگ گزرتی ہے۔ اس عالمی بساط پر اب روایتی جیو پولیٹکس کی جگہ جیو اکنامکس (Geo-economics) نے لے لی ہے، جہاں جنگیں توپوں سے زیادہ کرنسی، تجارت اور معاشی پابندیوں کے ذریعے لڑی جا رہی ہیں۔
اس بدلتی ہوئی عالمی حرکیات اور طاقت کے نئے مراکز کو سمجھنے کے لیے معروف امریکی صحافی اور عالمی امور کے ماہر رابرٹ ڈی کپلان کا تجزیہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے 2010 میں شائع ہونے والی اپنی معرکہ آراء کتاب “مانسون: دی انڈین اوشین اینڈ دی فیوچر آف امریکن پاور” میں تفصیلاً لکھا ہے کہ اکیسویں صدی میں عالمی طاقت کے توازن کا فیصلہ بحر اوقیانوس یا یورپ میں نہیں، بلکہ بحر ہند کے گرم پانیوں میں ہوگا۔ انہوں نے اپنی اس تحقیق میں نشاندہی کی کہ جو بھی طاقت بحر ہند، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عرب کے تجارتی راستوں پر اپنا کنٹرول اور اثر و رسوخ قائم کر لے گی، وہی مستقبل کی حقیقی سپر پاور کہلائے گی۔ کپلان کے اس تجزیے نے دنیا بھر کے سٹریٹجک حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی تھی، اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ، چین اور خطے کی دیگر طاقتیں بحر ہند میں اپنی بحری بالادستی قائم کرنے کے لیے کس طرح دست و گریبان ہیں۔
اس تناظر میں جب ہم پاکستان کے جغرافیے پر نظر ڈالتے ہیں، تو گوادر کی گہری بندرگاہ اور پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) ہمیں اسی عالمی بساط کے عین مرکز میں لا کھڑا کرتے ہیں۔ گوادر محض ایک بندرگاہ نہیں ہے، بلکہ یہ دنیا کی ابھرتی ہوئی معاشی طاقت چین کو مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے گرم پانیوں تک رسائی دینے والا سب سے مختصر اور محفوظ ترین راستہ ہے۔ یہی وہ جغرافیائی اور سٹریٹجک اہمیت ہے جو ہمارے دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹکتی ہے۔ بھارت اور اس کے مغربی حواری اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اگر پاکستان اس معاشی راہداری کے ثمرات سمیٹنے میں کامیاب ہو گیا، تو اسے خطے کی ایک ناقابلِ تسخیر معاشی اور دفاعی قوت بننے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔
لیکن دشمن یہ بھی جانتا ہے کہ پاکستان کو روایتی جنگ میں جھکانا یا اس کے جغرافیے پر میلی آنکھ ڈالنا اب کسی کے بس کی بات نہیں۔ ہماری بہادر مسلح افواج ملکی سرحدوں اور سمندری حدود کی حفاظت کے لیے ایک ایسی آہنی دیوار بن چکی ہیں جسے عبور کرنے کا تصور بھی دشمن کے لیے کسی بھیانک خواب سے کم نہیں۔ جب دشمن کو روایتی میدانِ جنگ میں اپنی یقینی شکست کا اندازہ ہو گیا، تو اس نے وار کا طریقہ بدل دیا۔ اب اس نے فنانشل وارفیئر، اقتصادی پابندیوں اور معاشی دباؤ کو اپنا سب سے مہلک ہتھیار بنا لیا ہے۔اس غیر روایتی معاشی جنگ کی ہولناکی اور اس کے طریقہ کار کو سمجھنے کے لیے ہمیں جان پرکنز کی شہرہ آفاق کتاب “کنفیشنز آف این اکنامک ہٹ مین” کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ جان پرکنز، جو خود ایک بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے لیے کام کرتے رہے، انہوں نے اپنی اس تہلکہ خیز کتاب میں واضح طور پر لکھا ہے کہ جدید دور میں سامراجی طاقتیں ترقی پذیر ممالک کو غلام بنانے کے لیے اپنی فوجیں نہیں بھیجتیں، بلکہ وہ انہیں قرضوں کے ایسے جال میں پھنساتی ہیں جس سے نکلنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ پرکنز نے انکشاف کیا کہ معاشی ہٹ مین غریب اور ترقی پذیر ممالک کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے انہیں غیر ضروری اور شرائط پر مبنی قرضے دیتے ہیں، اور جب وہ ممالک قرض ادا کرنے کے قابل نہیں رہتے، تو ان سے ان کی خارجہ پالیسی، ملکی سلامتی کے حساس فیصلوں اور اہم سٹریٹجک اثاثوں کا سودا کیا جاتا ہے۔
آج پاکستان کو جس شدید معاشی عدم استحکام اور اندرونی خلفشار کا سامنا ہے، اسے محض چند پالیسیوں کی ناکامی قرار دینا سادگی ہوگی۔ یہ دراصل اسی بین الاقوامی فنانشل اور ہائبرڈ وارفیئر کا تسلسل ہے۔ دشمن کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر اتنا کمزور کر دیا جائے کہ وہ اپنے دفاعی اخراجات پورے نہ کر سکے اور سی پیک جیسے عظیم منصوبوں سے دستبردار ہونے پر مجبور ہو جائے۔ بھارتی خفیہ ایجنسیاں اور ان کے گٹھ جوڑ میں شامل ملک دشمن عناصر اربوں روپے خرچ کر کے گوادر اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کر کے ملکی ترقی کا پہیہ روکا جا سکے۔لیکن ان تمام تر سازشوں، غنڈہ گردی اور معاشی دہشت گردی کے باوجود، ہماری عسکری قیادت اور جوانوں نے اس کثیرالجہتی چیلنج کا بے مثال دلیری سے مقابلہ کیا ہے۔ سی پیک کی حفاظت کے لیے پاک فوج کی جانب سے خصوصی طور پر کھڑی کی گئی اسپیشل سیکیورٹی ڈویژن (SSD) ہو، یا بحیرہ عرب میں ملکی بحری مفادات کی نگرانی کرنے والی پاک بحریہ، ہمارے محافظ دن رات اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ دشمن کا کوئی بھی ناپاک منصوبہ کامیاب نہ ہو سکے۔ دہشت گردی کے خلاف حالیہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اسی عزم کا ثبوت ہیں کہ ریاست اپنی معاشی شہ رگ کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔
ہمیں بحیثیت قوم یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ آج کی اس پیچیدہ جنگ کا ایک بڑا محاذ ہماری معیشت اور ہمارے عوام کا مورال ہے۔ دشمن کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہوگی کہ وہ ہمیں معاشی حالات سے مایوس کر کے اپنی ہی ریاست اور اپنی ہی افواج سے بدظن کر دے۔ اس معاشی اور نفسیاتی وارفیئر کا مقابلہ صرف توپوں اور ٹینکوں سے نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پوری قوم ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد ہو۔ جب تک عوام اور افواجِ پاکستان ایک مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور دشمن کے اس معاشی پروپیگنڈے کو اپنے شعور سے ناکام بناتے رہیں گے، تب تک عالمی بساط کی کوئی بھی شیطانی چال اس مٹی کے دفاع اور ترقی کو رتی برابر بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔





