عالمی بساط: پراکسی وار کا خفیہ کھیل، پاکستان کے خلاف دشمن کی حکمتِ عملی

کبھی کبھار سب سے خطرناک جنگ وہ ہوتی ہے جس میں کبھی باقاعدہ اعلانِ جنگ نہیں کیا جاتا۔ اس جنگ میں نہ تو سائرن بجتے ہیں، نہ سرحدوں پر فوجیں آمنے سامنے آتی ہیں اور نہ ہی آسمان پر لڑاکا طیارے اڑان بھرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود شہروں کی سڑکیں، چوراہے اور اہم تنصیبات میدانِ جنگ کا منظر پیش کر رہی ہوتی ہیں۔ عالمی بساط کی اس تیسری نشست میں ہم جنگ کے اس خوفناک ترین اور پیچیدہ مہرے کا جائزہ لیں گے جسے عسکری اصطلاح میں “پراکسی وارفیئر” (Proxy Warfare) یا بالواسطہ جنگ کہا جاتا ہے۔

جدید دنیا میں جب دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان روایتی جنگ کا مطلب مکمل تباہی (Mutually Assured Destruction) بن چکا ہے، تو بزدل دشمن نے اپنے اہداف کے حصول کے لیے ایک نیا اور انتہائی مکروہ راستہ چن لیا ہے۔ اب دشمن خود میدان میں اترنے کے بجائے کرائے کے قاتلوں، دہشت گرد تنظیموں اور تخریب کاروں کو اپنا ہتھیار بناتا ہے۔

اس پوشیدہ اور خطرناک جنگ کی نفسیات کو سمجھنے کے لیے معروف آسٹریلوی سٹریٹجسٹ اور انسدادِ دہشت گردی کے ماہر ڈیوڈ کِلکولن کا تجزیہ پڑھنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے اپنی مشہور کتاب “دی ڈریگنز اینڈ دی سنیکس: ہاؤ دی ریسٹ لرنڈ ٹو فائٹ دی ویسٹ” میں اس بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے کی بڑی شاندار اور ہولناک منظر کشی کی ہے۔ کِلکولن نے واضح طور پر لکھا ہے کہ جدید دور میں روایتی جنگیں انتہائی مہنگی، خطرناک اور بین الاقوامی سطح پر ناقابلِ قبول ہو چکی ہیں، اس لیے ریاستوں نے اب دہشت گرد گروہوں اور غیر ریاستی عناصر (نان سٹیٹ ایکٹرز) کو اپنے سستے اور قابلِ تردید ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ دشمن اب سامنے سے وار کرنے کے بجائے آستین کے سانپوں کو پالتا ہے، انہیں فنڈنگ اور جدید اسلحہ فراہم کرتا ہے تاکہ مخالف ریاست کو اندرونی طور پر مسلسل خون بہنے کی اذیت میں مبتلا رکھا جا سکے۔

اس نظریے کی جڑیں دراصل صدیوں پرانی عسکری حکمتِ عملی میں پیوست ہیں۔ اگر ہم آج سے لگ بھگ ڈھائی ہزار سال قبل کے عظیم چینی عسکری مفکر سن زو کی شہرہ آفاق تصنیف “دی آرٹ آف وار” کا مطالعہ کریں، تو اس نے صدیوں پہلے یہ بنیادی اصول وضع کر دیا تھا کہ سب سے اعلیٰ اور بہترین جنگی حکمتِ عملی وہ ہے جس میں دشمن کی فوج سے براہ راست لڑے بغیر ہی اس کی مزاحمت کو توڑ دیا جائے۔ دشمن کے عوام میں خوف پھیلانا، اس کے انفراسٹرکچر کو تباہ کرنا اور اس کی فوج کو اندرونی شورشوں میں الجھا کر تھکا دینا، یہ سب اسی قدیم حکمتِ عملی کی جدید شکلیں ہیں۔

جب ہم اس عالمی بساط پر پاکستان کی پوزیشن کو دیکھتے ہیں، تو یہ تلخ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ ہمارا ازلی دشمن بھارت پچھلی کئی دہائیوں سے اسی حکمتِ عملی کے تحت پاکستان کے خلاف ایک منظم پراکسی وار لڑ رہا ہے۔ بھارت کی بدنامِ زمانہ خفیہ ایجنسی ‘را’ (RAW) نے افغانستان کی سرزمین اور دیگر خفیہ راستوں کو استعمال کرتے ہوئے ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو اربوں ڈالرز کی فنڈنگ اور جدید ترین امریکی و نیٹو اسلحہ فراہم کیا ہے۔ دشمن کا مقصد بالکل واضح ہے: پاک فوج کو سرحدوں کی حفاظت کے بجائے اندرونی محاذوں پر الجھا کر رکھنا اور پاکستان میں اتنا عدم استحکام پیدا کرنا کہ کوئی بیرونی سرمایہ کار ادھر کا رخ نہ کرے۔ یہ وہی نظریہ ہے جسے بھارتی عسکری حلقوں میں “ڈیتھ بائے اے تھاؤزنڈ کٹس” (Death by a thousand cuts) یعنی ہزاروں زخم لگا کر مارنے کی پالیسی کہا جاتا ہے۔

لیکن دشمن اپنے غرور اور تکبر میں یہ بھول گیا کہ اس کا سامنا کسی عام فوج سے نہیں بلکہ ان سپوتوں سے ہے جن کی رگوں میں شہادت کا خون دوڑتا ہے۔ جب ہم عالمی تاریخ پر نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ امریکہ اور نیٹو کی جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس لاکھوں کی فوج افغانستان اور عراق میں شہری گوریلا جنگ اور دہشت گردی کے سامنے بری طرح ناکام ہو گئی اور انہیں بالآخر انخلاء کا راستہ چننا پڑا۔ لیکن اس کے برعکس، یہ صرف اور صرف پاکستان کی مسلح افواج اور ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں کا طرہ امتیاز ہے کہ انہوں نے ضربِ عضب، ردالفساد اور روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کے ذریعے دہشت گردی کے اس ناسور کو اس کی جڑوں سے اکھاڑ پھینکا۔

آج خیبر پختونخوا کے دشوار گزار پہاڑوں سے لے کر بلوچستان کے تپتے ہوئے صحراؤں تک، پاک فوج کے جوان اور افسران روزانہ کی بنیاد پر اپنے لہو سے اس مٹی کی حفاظت کی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیز، خصوصاً آئی ایس آئی نے دشمن کے ان کرائے کے قاتلوں کا وہ نیٹ ورک تباہ کیا ہے جس کی منصوبہ بندی دہلی اور دیگر عالمی دارالحکومتوں میں بیٹھے ماسٹر مائنڈز کر رہے تھے۔
ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ پراکسی وار اور دہشت گردی کا یہ مہرہ اسی وقت کامیاب ہوتا ہے جب ریاست اور عوام کے درمیان دراڑ پیدا ہو جائے۔ جب تک اس قوم کا بچہ بچہ اپنی افواجِ پاکستان کی پشت پر ایک چٹان کی طرح کھڑا ہے، دنیا کی کوئی خفیہ ایجنسی اور ان کے پالے ہوئے غدار اس ملک کا بال بیکا نہیں کر سکتے۔ یہ عالمی بساط ابھی بچھی ہوئی ہے اور کھیل جاری ہے، مگر پاکستان نے اپنے دفاع کی جو فصیل کھڑی کی ہے، وہ دشمن کے ہر ناپاک ارادے کو خاک میں ملانے کے لیے کافی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں