ملتان کی ثقافتی میراث اور دم توڑتی دستکاریاں: جدید دور میں بقا کی جنگ
ملتان، جسے بجا طور پر مدینۃ الاولیاء یا صوفیا کا شہر کہا جاتا ہے، محض ایک جغرافیائی خطے کا نام نہیں بلکہ ہزاروں سال پر محیط ایک زندہ تاریخ ہے۔ وادیِ سندھ کی تہذیب کے اس قدیم ترین اور مسلسل آباد رہنے والے شہر کی پہچان صرف اس کی تاریخی عمارات، قلعہ کہنہ یا مزارات تک محدود نہیں، بلکہ اس کی اصل روح ان روایتی دستکاریوں اور فنون میں پوشیدہ ہے جو صدیوں سے سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے آ رہے ہیں۔ تاہم، آج کی تیز رفتار اور مشینی دنیا میں، ملتان کی یہ عظیم ثقافتی میراث بقا کی ایک کٹھن جنگ لڑ رہی ہے۔
جنوبی پنجاب کے اس تاریخی شہر کی سب سے بڑی اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ پہچان کاشی کاری یعنی نیلی ظروف سازی ہے۔ نیلی اور فیروزی رنگت میں رنگے ہوئے مٹی کے برتن، گلدان اور ٹائلیں محض آرائشی اشیاء نہیں بلکہ ایک انتہائی پیچیدہ اور نفاست طلب فن کا شاہکار ہیں۔ کاشی کاری کے ایک برتن کو تیار ہونے میں مٹی گوندھنے سے لے کر بھٹی میں پکنے اور اس پر باریک نقش و نگار بنانے تک کئی کٹھن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ مخصوص کیمیائی اجزا اور تانبے کی آمیزش سے تیار کردہ اس کے خاص نیلے رنگ کی چمک صدیوں تک ماند نہیں پڑتی۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ آج یہ فن تیزی سے زوال پذیر ہے۔ خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، گیس کی عدم دستیابی، اور جدید دور کے سستے پلاسٹک اور شیشے کے برتنوں نے اس روایتی ہنرمندی کو معاشی طور پر غیر منافع بخش بنا دیا ہے۔ آج کاشی گروں کی نئی نسل اس محنت طلب اور کم آمدنی والے پیشے کو اپنانے سے گریزاں ہے۔
اسی طرح، ملتان کا ایک اور بے مثال اور نادر فن اونٹ کی کھال کے قمقمے اور ان پر کی جانے والی نقاشی ہے۔ یہ فن دنیا میں چند ہی مقامات پر پایا جاتا ہے جن میں ملتان سرِفہرست ہے۔ اونٹ کی کھال کو صاف کر کے، اسے مٹی کے سانچوں پر چڑھا کر چراغ یا قمقمے کی شکل دینا اور پھر اس پر انتہائی باریک اور دلفریب نقش و نگار بنانا ایک ایسا ہنر ہے جو دیکھنے والے کو سحر زدہ کر دیتا ہے۔ جب ان قمقموں کے اندر روشنی جلتی ہے تو کھال کی شفافیت اور نقاشی کے رنگ ایک جادوئی منظر پیش کرتے ہیں۔ مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اب ملتان میں بمشکل چند ہی خاندان باقی رہ گئے ہیں جو اس فن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ہنرمندوں کا شکوہ ہے کہ جو قمقمے وہ ہفتوں کی محنت سے تیار کرتے ہیں، درمیانی لوگ اور آڑھتی اسے سستے داموں خرید کر آگے بھاری منافع پر بیچتے ہیں، جبکہ اصل فنکار غربت کی چکی میں پس رہا ہے۔
ملتان کی ثقافتی پہچان صرف ان دستکاریوں تک ہی محدود نہیں، بلکہ اس کی تنگ اور قدیم گلیوں میں بستا روایتی کلچر، تاریخی دروازے اور مقامی کھابے بھی اس کی تاریخ کا ایک اہم باب ہیں۔ یہاں کے گلی محلوں کے خاص پکوان، چاہے وہ حافظ کا سوہن حلوہ ہو، روایتی دال مونگ ہو، یا صدیوں پرانی ترکیبوں سے بننے والی دیگر سوغاتیں، سب کے سب اس خطے کے مخصوص ذائقوں اور روایات کے امین ہیں۔ لیکن جدید طرزِ زندگی کی اندھا دھند دوڑ میں شہر کا یہ تاریخی اور ثقافتی حسن آہستہ آہستہ سیمنٹ اور بجری کے بے ہنگم جنگل میں گم ہوتا جا رہا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس زوال کو روکا جا سکتا ہے؟ آج کے اس جدید دور میں ان دم توڑتی دستکاریوں کو بچانے کے لیے محض حکومتی سرپرستی یا نمائشی میلوں کا انعقاد کافی نہیں ہے۔ اس ورثے کے احیاء کے لیے اب جدید ذرائع ابلاغ، مناظر کے ذریعے کہانی بیان کرنے کے فن اور دستاویزی فلم سازی کا کردار انتہائی کلیدی ہو چکا ہے۔ دنیا کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ کاشی کاری کا ایک برتن یا اونٹ کی کھال کا ایک قمقمہ محض کوئی عام شے نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ایک فنکار کی مہینوں کی ریاضت اور صدیوں کی تاریخ پوشیدہ ہے۔
اگر اعلیٰ معیار کی عکس بندی اور جدید طرزِ تشہیر کے ذریعے ان مقامی ہنرمندوں کی داستانیں، ان کے کام کرنے کے کٹھن مراحل، اور ان فن پاروں کی اصل قدر و قیمت کو بین الاقوامی سطح پر پیش کیا جائے، تو نہ صرف ان فنون کی مانگ میں اضافہ کیا جا سکتا ہے بلکہ ہنرمندوں کو براہِ راست خریداروں سے جوڑا بھی جا سکتا ہے۔ آن لائن تجارت اور عالمی برقی منڈیاں ان ہنرمندوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن ثابت ہو سکتی ہیں۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جب کوئی روایتی ہنر دم توڑتا ہے، تو اس کے ساتھ محض ایک روزگار ختم نہیں ہوتا، بلکہ ایک پوری تاریخ، ایک ثقافت اور ایک خطے کی شناخت ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتی ہے۔ ملتان کی ان دستکاریوں کو محض عجائب گھروں کی زینت بننے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم انہیں اپنی روزمرہ زندگی، اپنے جدید طرزِ تعمیر، اور اپنے آج کے بیانیے کا حصہ بنائیں۔ اگر ہم نے آج اپنی اس ثقافتی میراث کی قدر نہ کی اور اسے جدید دور کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ نہ کیا، تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔





