کسی بھی معاشرے میں عدالت صرف ایک عمارت یا جج کا نام نہیں؛ عدالت دراصل شہری کے اس یقین کی علامت ہوتی ہے کہ اگر اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی تو ریاست اس کی داد رسی کرے گی۔ جب ایک شہری اپنی زمین، گھر، کاروبار، عزت، جان یا آزادی سے متعلق تنازع لے کر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو وہ صرف ایک مقدمہ دائر نہیں کرتا بلکہ ریاست کے نظامِ انصاف پر اپنا اعتماد بھی ظاہر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عدالتی نظام کی رفتار، شفافیت اور معیار کسی بھی معاشرے کی مجموعی صحت کا پیمانہ سمجھے جاتے ہیں۔
پنجاب، جو پاکستان کا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے، اس حوالے سے ایک بڑے امتحان سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف عدالتوں میں مقدمات کے بوجھ اور طویل التوا کا مسئلہ موجود ہے، دوسری طرف یہ حقیقت بھی سامنے آ رہی ہے کہ عدلیہ نے کیس مینجمنٹ، ڈیجیٹلائزیشن اور تیز رفتار فیصلوں کے ذریعے اصلاح کی سمت میں قابلِ ذکر اقدامات کیے ہیں۔ 2025 میں پنجاب کی ضلعی عدلیہ نے 38 لاکھ 80 ہزار سے زیادہ مقدمات نمٹائے، جبکہ دیوانی اور سیشن عدالتوں میں مجموعی زیرِ التوا مقدمات کی تعداد تقریباً 14 لاکھ 42 ہزار تک لائی گئی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر لاکھوں مقدمات نمٹائے بھی جا رہے ہیں تو عام شہری کو انصاف کے حصول میں اتنا وقت کیوں لگتا ہے؟ اس سوال کا جواب صرف عدالتوں کے اعداد و شمار میں نہیں بلکہ پورے نظامِ انصاف کے مختلف حصوں—پولیس، پراسیکیوشن، وکلا، عدالتی عملہ، قانون سازی اور عمل درآمد—میں تلاش کرنا ہوگا۔
مقدمات کا بوجھ: مسئلے کی اصل تصویر
پنجاب کی عدلیہ میں زیرِ التوا مقدمات کا مسئلہ نیا نہیں۔ قانون و انصاف کمیشن پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری تا جون 2025 پنجاب کی ضلعی عدلیہ میں تقریباً 15 لاکھ مقدمات زیرِ التوا تھے۔ اسی عرصے میں 21 لاکھ سے زیادہ مقدمات دائر ہوئے اور تقریباً 21 لاکھ 96 ہزار مقدمات نمٹائے گئے، جس کے نتیجے میں زیرِ التوا مقدمات کی تعداد تقریباً 14 لاکھ 33 ہزار رہ گئی۔
یہ اعداد و شمار ایک طرف عدالتی کارکردگی میں بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں، مگر دوسری طرف اس حقیقت کو بھی واضح کرتے ہیں کہ نئے مقدمات کی آمد مسلسل جاری ہے۔ اگر ایک سال میں عدالتیں لاکھوں مقدمات نمٹائیں لیکن نئے مقدمات تقریباً اسی رفتار سے داخل ہوتے رہیں تو پرانا بوجھ مکمل طور پر ختم کرنا مشکل ہوگا۔
اس کے علاوہ مقدمات کی عمر بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ 2025 کے آغاز میں پنجاب کی ضلعی عدالتوں میں 8 لاکھ 45 ہزار سے زیادہ مقدمات زیرِ التوا ہونے کی رپورٹ سامنے آئی، جن میں تقریباً 62 فیصد مقدمات ایک سال سے زیادہ پرانے تھے۔ 2026 کے آغاز میں بھی نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گرڈ کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا کہ پنجاب کی ضلعی عدالتوں میں 9 لاکھ سے زائد مقدمات زیرِ التوا تھے، جن میں 55 فیصد سے زیادہ ایک سال سے پرانے تھے۔
یہ صورتحال بتاتی ہے کہ مسئلہ صرف فیصلوں کی تعداد نہیں بلکہ فیصلے تک پہنچنے کے وقت کا بھی ہے۔
بار بار تاریخیں: انصاف کی رفتار کا سب سے بڑا دشمن
پاکستانی عدالتوں کے بارے میں عام شہری کی سب سے بڑی شکایت “تاریخ پر تاریخ” ہے۔ ہر تاریخ بذاتِ خود غلط نہیں ہوتی۔ مقدمے کے ہر فریق کو تیاری، گواہوں کی موجودگی اور قانونی حقوق کے تحفظ کا موقع ملنا چاہیے۔ لیکن جب غیر ضروری التوا معمول بن جائے تو یہی قانونی سہولت انصاف کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔
وکیل کی عدم دستیابی، گواہ کی غیر حاضری، پولیس رپورٹ کی عدم تکمیل، ریکارڈ کی عدم دستیابی، فریقین کی غیر حاضری یا غیر ضروری درخواستیں مقدمے کو ایک تاریخ سے دوسری تاریخ تک لے جاتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک مختصر نوعیت کا مقدمہ بھی کئی سال تک چل سکتا ہے۔
اس مسئلے کا حل یہ نہیں کہ ہر مقدمہ جلد بازی میں نمٹا دیا جائے، بلکہ کیس مینجمنٹ کو مضبوط بنایا جائے۔ مقدمہ دائر ہوتے ہی اس کی نوعیت، پیچیدگی اور متوقع مدت کا تعین کیا جائے۔ غیر ضروری التوا کی وجوہات ریکارڈ کی جائیں اور مسلسل تاخیر کی صورت میں ذمہ داری بھی طے ہو۔
پولیس تفتیش اور پراسیکیوشن میں اصلاح ناگزیر
فوجداری مقدمات میں عدالت کا کردار تفتیش کے بعد شروع ہوتا ہے، لیکن اگر تفتیش ہی کمزور ہو تو عدالت کے لیے انصاف تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ناقص ایف آئی آر، غیر معیاری تفتیش، شواہد جمع کرنے میں کوتاہی، فرانزک سہولتوں کی کمی اور پولیس و پراسیکیوشن کے درمیان مؤثر رابطے کا فقدان فوجداری انصاف کو متاثر کرتے ہیں۔





