تحریر: کلب عابد خان
پاکستان میں بجلی اب صرف گھروں کو روشن کرنے والی سہولت نہیں رہی بلکہ یہ عام آدمی کی جیب پر پڑنے والا ایسا بوجھ بن چکی ہے جس سے کوئی فرار ممکن نہیں۔ گھر میں پنکھا کم چلے، اے سی بند رہے، دکان پر کاروبار کم ہو، فیکٹری میں مشینیں خاموش رہیں یا بجلی کی طلب ہی کم ہوجائے، بجلی کے شعبے کے اخراجات اپنی جگہ موجود رہتے ہیں اور ان کا بوجھ بالآخر کسی نہ کسی شکل میں عوام کے بلوں اور قومی خزانے پر منتقل ہوتا رہتا ہے۔ یہی وہ تلخ حقیقت ہے جس نے پاکستان کے بجلی کے بحران کو محض لوڈشیڈنگ یا مہنگے یونٹوں کا مسئلہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے قومی معیشت، صنعت، تجارت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سوال بنا دیا ہے۔
اب پارلیمنٹ میں پاور ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی معلومات نے ایک مرتبہ پھر اس پورے معاملے پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق پاکستان کے 105 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے موجود ہیں۔ گزشتہ سال بھی بعض پاور پلانٹس کے ساتھ نئے یا توسیعی معاہدوں کی تفصیلات سامنے آئیں۔ جامشورو کول پاور پلانٹ کے ساتھ 30 جولائی 2025 کو ہونے والے معاہدے کا ذکر سامنے آیا جبکہ کوٹ ادو پاور پلانٹ کے ساتھ 3 جون 2025 کے معاہدے کی تفصیلات بھی زیر بحث آئیں۔ ان معاہدوں کی اصل شرائط، مدت اور مالی ذمہ داریوں کو عوام کے سامنے رکھنا اس لیے ضروری ہے کہ یہ صرف آج کی حکومت کے فیصلے نہیں بلکہ ان کے اثرات آنے والے کئی برسوں تک پاکستان کے مالی معاملات پر پڑ سکتے ہیں۔
یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان کو بجلی پیدا کرنے کے لیے سرمایہ کاری چاہیے یا نہیں۔ یقیناً پاکستان کو بجلی چاہیے، صنعت کو توانائی چاہیے، زراعت کو بجلی چاہیے اور ملک کی معاشی ترقی کے لیے مستحکم توانائی کا نظام ناگزیر ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ بجلی پیدا کرنے کے لیے کیے جانے والے معاہدوں کی قیمت کون ادا کر رہا ہے اور ان معاہدوں سے پیدا ہونے والی مالی ذمہ داری کتنی ہے۔ اگر کوئی پاور پلانٹ بجلی پیدا کرتا ہے تو اس کی قیمت ادا کرنا سمجھ میں آتا ہے، لیکن جب پیداواری صلاحیت کی ادائیگی کا نظام موجود ہو اور بجلی کی طلب کم ہونے کے باوجود مالی ذمہ داریاں برقرار رہیں تو عام آدمی یہ سوال ضرور کرے گا کہ آخر اس اضافی بوجھ کی وجہ کیا ہے اور اسے کب تک برداشت کرنا ہوگا۔
Capacity Payments کا معاملہ اسی لیے اتنا اہم ہے۔ عام شہری کے لیے یہ اصطلاح شاید مشکل ہو، لیکن اس کا اثر اسے ہر ماہ بجلی کے بل میں محسوس ہوتا ہے۔ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے کیے گئے معاہدوں کے نتیجے میں بعض صورتوں میں حکومت کو اس صلاحیت کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، چاہے اس وقت پوری بجلی خریدی جائے یا نہ خریدی جائے۔ جب ملک کی بجلی کی طلب اور دستیاب پیداواری صلاحیت میں فرق بڑھ جائے تو یہ مالی بوجھ مزید نمایاں ہوجاتا ہے۔ یوں بجلی کا صارف صرف اپنے استعمال شدہ یونٹ کی قیمت نہیں دیتا بلکہ پورے بجلی کے نظام کے اخراجات کا حصہ بھی ادا کرتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ملک میں بجلی کی طلب کم ہے تو کیا نئی یا طویل المدت مالی ذمہ داریوں کے فیصلے کرتے وقت اس حقیقت کو پوری طرح مدنظر رکھا جا رہا ہے؟ کیا حکومت کے پاس یہ واضح منصوبہ ہے کہ آنے والے برسوں میں بجلی کی طلب کتنی ہوگی، کتنی پیداواری صلاحیت درکار ہوگی اور موجودہ معاہدوں کے تحت پاکستان کو کتنی ادائیگیاں کرنا پڑیں گی؟ اگر یہ سب حساب موجود ہے تو اسے عوام کے سامنے لانے میں ہچکچاہٹ کیوں؟
پاکستانی عوام اب صرف یہ سننا نہیں چاہتے کہ بجلی مہنگی ہونے کی وجہ پچھلی حکومت ہے۔ یہ دلیل ہر حکومت نے دی اور ہر حکومت کے بعد بجلی کے بل مزید بھاری ہوتے گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کا سلسلہ کسی ایک سیاسی جماعت یا ایک حکومت تک محدود نہیں رہا۔ مسلم لیگ نون کے مختلف ادوار میں معاہدے ہوئے تو پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں بھی آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے کیے گئے۔ دیگر حکومتیں بھی اپنے اپنے ادوار میں بجلی کے شعبے سے متعلق فیصلے کرتی رہی ہیں۔ اس لیے اب اس معاملے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے نکال کر قومی پالیسی کا مسئلہ بنانا ہوگا۔
حکومتیں پانچ سال کے لیے آتی ہیں لیکن بجلی کے معاہدے کئی دہائیوں تک چل سکتے ہیں۔ وزیر تبدیل ہوجاتا ہے، کابینہ تبدیل ہوجاتی ہے، سیاسی جماعت اقتدار سے باہر ہوجاتی ہے لیکن معاہدہ اپنی جگہ موجود رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے فیصلوں کی ذمہ داری صرف موجودہ حکومت پر نہیں بلکہ اس پورے سیاسی اور انتظامی نظام پر عائد ہوتی ہے جس نے برسوں تک بجلی کے شعبے کی منصوبہ بندی کی۔
اب وقت آگیا ہے کہ حکومت تمام آئی پی پیز کے معاہدوں کو عوام کے سامنے لائے۔ ہر معاہدے کی مدت، پیداواری صلاحیت، بجلی کی قیمت، Capacity Payments، ایندھن کی قیمت کے فارمولے، ڈالر سے منسلک شرائط، اب تک کی مجموعی ادائیگی اور آنے والے برسوں کی مالی ذمہ داری واضح کی جائے۔ عوام کو یہ بھی بتایا جائے کہ پاکستان نے ان معاہدوں کے تحت اب تک کتنی رقم ادا کی اور مستقبل میں مزید کتنی رقم ادا کرنا ہوگی۔ اگر کسی معاہدے میں قومی مفاد محفوظ ہے تو اسے عوام کے سامنے لانے میں کوئی نقصان نہیں، اور اگر کسی معاہدے کی شرائط موجودہ معاشی حالات میں ناقابل برداشت ہوچکی ہیں تو حکومت کو قومی مفاد میں مذاکرات اور قانونی راستے تلاش کرنے چاہئیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف آئی پی پیز کو ذمہ دار قرار دینے سے بجلی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ بجلی چوری، لائن لاسز، ناقص تقسیم کار کمپنیاں، بلنگ کے مسائل، گردشی قرضہ، مہنگا ایندھن اور انتظامی نااہلی بھی اس بحران کے بڑے حصے ہیں۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ جب تک بجلی پیدا کرنے اور خریدنے کے بنیادی مالی ڈھانچے کا جائزہ نہیں لیا جائے گا، محض چند ماہ کے لیے بجلی سستی کرنے یا سبسڈی دینے سے مسئلہ مستقل طور پر حل نہیں ہوگا۔
پاکستان کو اب وقتی ریلیف نہیں بلکہ بنیادی اصلاحات چاہئیں۔ حکومت کو ایک غیرجانبدارانہ اور جامع پاور سیکٹر ریویو کرانا چاہیے جس میں تمام معاہدوں، ادائیگیوں اور مستقبل کی ذمہ داریوں کا حساب سامنے آئے۔ جہاں معاہدے قابلِ اصلاح ہیں وہاں مذاکرات کیے جائیں، جہاں مالی شرائط پر نظرثانی ممکن ہے وہاں قومی مفاد کو ترجیح دی جائے اور جہاں کسی ادارے یا کمپنی کے ساتھ معاہدہ برقرار رکھنا ضروری ہے وہاں بھی عوام کو اس کی اصل قیمت سے آگاہ کیا جائے۔
آخر عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے بجلی کے بل میں وہ کون کون سی قیمتیں شامل ہیں جن کا فیصلہ انہوں نے کبھی کیا ہی نہیں۔ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ بجلی مہنگی ہونے کے باوجود صنعت کیوں مشکلات میں ہے، کاروبار کیوں دباؤ کا شکار ہے، کسان کی پیداواری لاگت کیوں بڑھ رہی ہے اور گھریلو صارف ہر ماہ بل دیکھ کر پریشان کیوں ہوتا ہے۔ اگر بجلی ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے تو پھر اس شعبے کو ایسے معاہدوں اور پالیسیوں کے حوالے نہیں کیا جاسکتا جن کی مکمل قیمت عوام کو معلوم ہی نہ ہو۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آج کیا گیا ہر طویل المدت فیصلہ صرف آج کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ اگر کسی حکومت نے ایسا معاہدہ کیا جس کی مالی ذمہ داری کئی دہائیوں تک برقرار رہتی ہے تو اس کا اثر اس وقت بھی ہوگا جب موجودہ حکمران اقتدار میں نہیں ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پوچھیں کہ آج کے فیصلوں کی قیمت کل کون ادا کرے گا۔
حکومتیں بدلتی رہیں گی، سیاسی جماعتیں آتی جاتی رہیں گی، وزراء کے نام بدلتے رہیں گے، مگر اگر بجلی کے شعبے کا بنیادی نظام نہ بدلا تو عوام کے بل اسی طرح بڑھتے رہیں گے۔ آج ایک پاکستانی اپنے بجلی کے بل کے لیے پریشان ہے، کل اس کا بچہ بھی اسی بل کے سامنے کھڑا ہوگا۔ فرق صرف اتنا ہوگا کہ آج ہم اپنے استعمال کی بجلی کی قیمت دے رہے ہیں، ممکن ہے کل ہماری نسلیں ان فیصلوں کی قیمت بھی ادا کر رہی ہوں جو انہوں نے کیے ہی نہیں۔
اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ حکومت عوام کو صرف یہ نہ بتائے کہ بجلی کتنی مہنگی ہے، بلکہ یہ بھی بتائے کہ بجلی مہنگی کیوں ہے، کس معاہدے نے اسے مہنگا کیا، اس معاہدے سے کس کو فائدہ پہنچ رہا ہے اور پاکستان کو آئندہ کتنی رقم ادا کرنا ہوگی۔
کیونکہ سوال اب صرف بجلی کے بل کا نہیں رہا۔
سوال یہ ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بجلی دے رہے ہیں یا ان کے ہاتھ میں قرض کا بل پکڑا رہے ہیں؟
اور اگر آج کے حکمران اس سوال کا جواب دینے سے گریز کرتے رہے تو کل آنے والی نسلیں شاید ہم سے صرف ایک سوال کریں گی:
’’ملک ہمارے لیے چھوڑا تھا یا معاہدوں کے بل؟‘‘





