حکمرانوں کے بچوں کی لندن گریجویشن، عوام کے بچوں کا تعلیمی مستقبل

تحریر: کلب عابد خان

پاکستان میں تعلیم کا بحران اب صرف اسکول، کتاب اور استاد کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ہماری حکمرانی، ترجیحات اور معاشرتی تقسیم کا آئینہ بن چکا ہے۔ ایک طرف ہمارے حکمرانوں اور بااثر خاندانوں کے بچے دنیا کی بہترین جامعات میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، لندن اور آکسفورڈ سے ڈگریاں لیتے ہیں، ان کی گریجویشن تقریبات میں والدین شریک ہوتے ہیں اور پوری دنیا ان کی کامیابی دیکھتی ہے، جبکہ دوسری طرف پاکستان کے کروڑوں بچے ایسے ہیں جو آج بھی اسکول کے دروازے تک نہیں پہنچ سکے۔ یہی تضاد آج ہمارے سامنے سب سے بڑا سوال بن کر کھڑا ہے کہ اگر اعلیٰ اور معیاری تعلیم ہمارے حکمران اپنے بچوں کے لیے ضروری سمجھتے ہیں تو پاکستان کے عام شہری کے بچے کو بھی وہی معیار کیوں میسر نہیں؟

حالیہ دنوں پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے لندن جانے کی خبریں سامنے آئیں، جہاں وہ اپنی بیٹی کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے گئی ہیں۔ ایک ماں کا اپنی بیٹی کی کامیابی پر خوش ہونا اور اس کی گریجویشن میں شریک ہونا یقیناً ایک فطری اور خوشی کا موقع ہے، اس پر اعتراض کی کوئی وجہ نہیں۔ لیکن جب یہی شخصیت صوبے کی سربراہ ہو تو اس موقع پر عوامی سطح پر ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ جس معیار کی تعلیم حکمران اپنے بچوں کے لیے پسند کرتے ہیں، کیا پنجاب کے عام بچوں کو بھی اسی معیار کی تعلیم دینے کی کوئی سنجیدہ کوشش ہو رہی ہے؟

سوشل میڈیا پر اس دورے کے اخراجات اور خصوصی طیارے کے حوالے سے مختلف اعداد و دعوے گردش کر رہے ہیں، جن میں گیارہ ارب روپے کی رقم بھی بیان کی جا رہی ہے۔ لیکن صحافتی دیانت کا تقاضا ہے کہ جب تک اس رقم کے بارے میں سرکاری یا قابلِ اعتماد دستاویزی ثبوت سامنے نہ آئے، اسے حقیقت کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔ سوال اٹھانا ہر شہری کا حق ہے، سرکاری اخراجات کی تفصیل مانگنا بھی جائز ہے، لیکن غیرمصدقہ رقم کو قطعی الزام بنا دینا درست نہیں۔ اصل مسئلہ کسی ایک سفر یا کسی ایک طیارے کی قیمت سے کہیں بڑا ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم کے معاملے میں ترجیحات کیا ہیں۔
یونیسیف کے مطابق پاکستان میں پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تقریباً دو کروڑ پچاس لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ یہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ دو کروڑ پچاس لاکھ مستقبل ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جن میں سے کوئی ڈاکٹر بن سکتا تھا، کوئی انجینئر، کوئی استاد، کوئی سائنس دان، کوئی کاروباری شخص اور کوئی ملک کا بہترین منتظم۔ لیکن اگر یہ بچے اسکول ہی نہ پہنچ سکیں تو ہم ان کی صلاحیتوں کو کیسے دریافت کریں گے؟ پنجاب بھی اس بحران سے محفوظ نہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں بھی اسکول سے باہر بچوں کی تعداد کئی ملین میں ہے۔ یہ صورتحال کسی ایک حکومت یا ایک سیاسی جماعت کی ناکامی نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر پھیلی ہوئی قومی غفلت کا نتیجہ ہے۔
اب دوسری طرف ان بچوں کو دیکھیں جو اسکول پہنچ گئے، کلاس روم میں بیٹھے، کتابیں پڑھیں، امتحان دیا اور پھر نویں جماعت کے نتائج نے ان کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ حالیہ نویں جماعت کے نتائج کے حوالے سے مختلف اعداد سامنے آئے ہیں۔ سوشل میڈیا اور بعض رپورٹس میں پنجاب میں تقریباً پچپن فیصد طلبہ کے ناکام ہونے اور لاہور میں کامیابی کی شرح تقریباً چالیس فیصد کے قریب ہونے کے دعوے بھی گردش کرتے رہے ہیں۔ تاہم ان اعداد کو مختلف بورڈز، سرکاری و نجی اداروں اور طلبہ کی کیٹیگری کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے، اس لیے کسی ایک عدد کو پورے پنجاب یا پورے تعلیمی نظام کا حتمی نتیجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
لیکن اعداد میں معمولی فرق بھی اصل سوال کو ختم نہیں کرتا۔ اگر کسی تعلیمی نظام میں نویں جماعت کے امتحان میں طلبہ کی ایک بڑی تعداد ناکام ہو رہی ہے تو ہمیں صرف یہ نہیں کہنا چاہیے کہ بچے نے محنت نہیں کی۔ ہمیں یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ وہ بچہ پہلی سے آٹھویں جماعت تک کیا سیکھتا رہا؟ اس کی بنیادی ریاضی کتنی مضبوط تھی؟ وہ اردو اور انگریزی کتنی روانی سے پڑھ سکتا تھا؟ کیا اس کے استاد باقاعدگی سے کلاس میں موجود تھے؟ کیا اسکول میں ضروری سہولتیں تھیں؟ کیا والدین کو وقت پر بتایا گیا کہ بچہ اپنی تعلیمی بنیاد میں پیچھے رہ گیا ہے؟

ایک طالب علم نویں جماعت میں اچانک پیدا نہیں ہوتا۔ وہ تقریباً نو سال ہمارے تعلیمی نظام کے اندر رہ کر اس مرحلے تک پہنچتا ہے۔ اگر وہ نویں جماعت میں ناکام ہوجاتا ہے تو سوال صرف اس بچے سے نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس پورے نظام سے ہونا چاہیے جس نے اسے نو سال تک پڑھایا۔ اگر ایک بچہ بنیادی تصورات کے بغیر نویں جماعت تک پہنچ گیا تو اس ناکامی کی ذمہ داری صرف طالب علم پر ڈال دینا آسان ضرور ہے، لیکن انصاف کا تقاضا ہے کہ نظام کی کارکردگی بھی جانچی جائے۔

یہی صورتحال اساتذہ کے معاملے میں بھی ہے۔ سندھ میں بڑی تعداد میں اساتذہ کی بھرتیوں کے دعوے اور سرکاری اقدامات سامنے آئے ہیں، جو اصولی طور پر ایک مثبت قدم ہیں کیونکہ استاد کے بغیر اسکول محض ایک عمارت رہ جاتا ہے۔ تاہم بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ سندھ میں بڑی تعداد میں ایسے افراد کو تدریسی ذمہ داریاں دی گئیں جن کی تعلیمی قابلیت مطلوبہ معیار سے کم تھی۔ اس مخصوص دعوے کو سرکاری ریکارڈ کے بغیر قطعی حقیقت کہنا مناسب نہیں، لیکن اگر کہیں واقعی ایسا ہوا ہے تو اس پر سنجیدہ سوال اٹھنا چاہیے کہ کیا ہم اپنے بچوں کے مستقبل کے ساتھ ایسا سمجھوتا برداشت کرسکتے ہیں؟

استاد قوم کا معمار ہوتا ہے۔ اگر ڈاکٹر کی تعلیمی قابلیت پر سمجھوتا نہیں ہوسکتا، انجینئر کے لیے معیار مقرر ہے، پائلٹ کے لیے تربیت لازمی ہے تو پھر استاد کے معاملے میں معیار کم کیوں کیا جائے؟ ایک استاد روزانہ درجنوں بچوں کے ذہن تشکیل دیتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں صرف کتاب نہیں بلکہ آنے والی نسل کا مستقبل ہوتا ہے۔ہماری سیاسی قیادت کے بچوں نے بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کی، اس میں کوئی برائی نہیں۔ محترمہ بینظیر بھٹو آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ تھیں، بلاول بھٹو زرداری اور ان کی بہنوں نے بھی بیرونِ ملک تعلیم حاصل کی۔ کسی پاکستانی کا دنیا کی بہترین یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنا قابلِ فخر بات ہے۔ مسئلہ بیرونِ ملک تعلیم نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں عام آدمی کے بچے کے لیے معیاری تعلیم کو بھی اتنی ہی اہمیت کیوں نہیں دی جاتی۔اگر ایک حکمران اپنے بچے کو بہترین تعلیم دلانے کے لیے لندن بھیجتا ہے تو اسے یہ حق حاصل ہے، لیکن اسی حکمران کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ پاکستان کے غریب بچے کو ایسا اسکول فراہم کرے جہاں اسے لندن جانے کی ضرورت محسوس نہ ہو، بلکہ وہ اپنے ملک میں رہ کر بھی دنیا کے مقابلے میں کھڑا ہوسکے۔
آج پاکستان میں اصل مقابلہ سیاسی جماعتوں کے درمیان نہیں ہونا چاہیے کہ کس نے کتنے منصوبوں کا افتتاح کیا، کتنی سڑکیں بنائیں یا کتنے اشتہارات شائع کیے۔ اصل مقابلہ یہ ہونا چاہیے کہ کس صوبے نے اسکول سے باہر بچوں کی تعداد کتنی کم کی، کس حکومت نے بنیادی تعلیم کا معیار کتنا بہتر کیا، کس ضلع میں اساتذہ کی حاضری بہتر ہوئی اور کہاں طلبہ کے نتائج واقعی بہتر ہوئے۔

ہمیں اسکولوں کی تعداد نہیں، اسکولوں کا معیار دیکھنا ہوگا۔ ہمیں اساتذہ کی تعداد نہیں، ان کی تدریسی کارکردگی دیکھنی ہوگی۔ ہمیں امتحان میں بیٹھنے والے بچوں کی تعداد نہیں، یہ دیکھنا ہوگا کہ کتنے بچے حقیقت میں پڑھنا، لکھنا، حساب کرنا اور سوچنا سیکھ گئے۔یہ بھی ضروری ہے کہ امتحانی نتائج کو سیاسی الزام تراشی کے بجائے اصلاح کا ذریعہ بنایا جائے۔ اگر کسی ضلع یا اسکول کا نتیجہ خراب ہے تو اس کے ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی دیکھا جائے کہ مسئلہ استاد کی کمی ہے، تربیت کا فقدان ہے، طلبہ کی حاضری ہے، نصاب ہے، امتحانی نظام ہے یا گھر کے معاشی حالات۔ صرف فیل ہونے والے بچے کو قصوروار قرار دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ہمیں ایک ایسا پاکستان بنانا ہے جہاں وزیراعلیٰ کی بیٹی لندن سے گریجویشن کرے تو پوری قوم اس کی کامیابی پر خوش ہو، لیکن اسی قوم کا غریب بچہ بھی یہ یقین رکھے کہ اگر وہ محنت کرے گا تو اسے اپنے ملک میں معیاری تعلیم، اچھا استاد اور آگے بڑھنے کا برابر موقع ملے گا۔اصل کامیابی یہ نہیں کہ ہمارے حکمرانوں کے بچے دنیا کی بڑی یونیورسٹیوں سے ڈگریاں حاصل کریں۔ اصل کامیابی اس دن ہوگی جب پاکستان کا عام بچہ بھی دنیا کی کسی بھی یونیورسٹی کے طالب علم کا مقابلہ علم، قابلیت اور اعتماد کے ساتھ کرسکے۔

ہم کب تک اپنے بچوں کو یہ بتاتے رہیں گے کہ تمہارے لیے سرکاری اسکول کافی ہے اور ہمارے بچوں کے لیے دنیا کی بہترین یونیورسٹی ضروری ہے؟
یہ فرق ختم کرنا ہوگا۔کیونکہ قومیں صرف بڑے منصوبوں، سڑکوں، پلوں اور بلند عمارتوں سے نہیں بنتیں۔ قومیں کلاس روم میں بنتی ہیں، استاد کے ہاتھ سے بنتی ہیں، کتاب سے بنتی ہیں اور اس بچے کے خواب سے بنتی ہیں جو اپنے اسکول کی چار دیواری میں بیٹھ کر ایک بہتر پاکستان کا تصور کرتا ہے۔اور اگر ہم نے آج اس بچے کے خواب کی حفاظت نہ کی تو کل تاریخ ہم سے ضرور پوچھے گی کہ جب آپ کے پاس وسائل بھی تھے، اختیار بھی تھا اور فیصلہ کرنے کی طاقت بھی، تو آپ نے اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے کیا کیا؟ لندن کی گریجویشن چند گھنٹوں کی خوشی ہے، مگر پاکستان کے بچے کی تعلیم پوری قوم کے مستقبل کا سوال ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں