ہاؤسنگ سکیمیں یا کاغذی کھیل؟ ایم ڈی اے کی نگرانی پر سنگین سوالات

تحریر: کلب عابد خان

ملتان میں ہاؤسنگ سکیموں کا کاروبار تیزی سے پھیل رہا ہے۔ شہر کے اطراف میں نئی نئی سکیموں کے اشتہارات، بڑے بڑے داخلی دروازے، کشادہ سڑکیں، بجلی کے کھمبے، پارکس، کمرشل مارکیٹیں اور جدید سہولیات کے دعوے نظر آتے ہیں۔ پراپرٹی ڈیلرز مستقبل کے روشن خواب دکھاتے ہیں، مارکیٹنگ کمپنیاں خوبصورت نقشے اور رنگین بروشر پیش کرتی ہیں اور عام شہری اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لگا کر ایک پلاٹ خرید لیتا ہے۔ لیکن اس سارے منظرنامے کے پیچھے ایک بنیادی سوال مسلسل اپنی جگہ موجود ہے: کیا ہر وہ ہاؤسنگ سکیم جو زمین پر آباد اور ڈویلپ ہوتی دکھائی دیتی ہے، قانونی طور پر بھی مکمل منظور شدہ ہے؟

یہ سوال اس وقت مزید سنگین ہو جاتا ہے جب کسی ہاؤسنگ سکیم کے پہلے فیز کی حتمی منظوری ہی واضح نہ ہو۔ اگر کسی سکیم کو فائنل منظوری کا لیٹر حاصل نہیں تو پھر وہاں ڈویلپمنٹ کا کام کیسے جاری رہ سکتا ہے؟ بڑے پیمانے پر تشہیر کیسے ہوتی رہ سکتی ہے؟ پلاٹوں کی خرید و فروخت کس بنیاد پر جاری رہتی ہے؟ اور شہریوں کو یہ یقین دہانی کون کراتا ہے کہ ان کی سرمایہ کاری محفوظ ہے؟

یہاں سب سے بڑا سوال ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی یعنی ایم ڈی اے کی نگرانی اور اجازت کے نظام پر اٹھتا ہے۔

عام شہری کے لیے ہاؤسنگ سکیم کی قانونی حیثیت سمجھنا آسان نہیں۔ اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ابتدائی منظوری کیا ہے، حتمی منظوری کیا ہے، این او سی کس مرحلے پر ضروری ہے، لے آؤٹ پلان کس حد تک منظور شدہ ہے اور کون سا فیز قانونی طور پر ڈویلپمنٹ اور فروخت کے لیے مجاز ہے۔ وہ تو موقع پر جاتا ہے، سڑکیں دیکھتا ہے، بجلی کے کھمبے دیکھتا ہے، خوبصورت گیٹ دیکھتا ہے، تعمیرات دیکھتا ہے اور اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اگر اتنا کام ہو چکا ہے تو یقیناً تمام قانونی تقاضے بھی مکمل ہوں گے۔

لیکن ڈویلپمنٹ نظر آنا اور قانونی منظوری ہونا دو الگ چیزیں ہیں۔
یہی وہ بنیادی فرق ہے جسے شہریوں تک پہنچانا ضروری ہے۔

اگر کسی ہاؤسنگ سکیم کی حتمی منظوری ابھی باقی ہے تو شہریوں کو اس حقیقت سے آگاہ ہونا چاہیے۔ اگر صرف ایک فیز منظور شدہ ہے اور دوسرے فیز کی منظوری زیرِ عمل ہے تو دونوں کو ایک ہی حیثیت سے پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی سکیم کے رقبے، لے آؤٹ یا ڈویلپمنٹ کے حوالے سے شرائط موجود ہیں تو ان کی بھی وضاحت ضروری ہے۔

کیونکہ جب کوئی شہری لاکھوں یا کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کرتا ہے تو اسے صرف خوبصورت بروشر نہیں چاہیے، اسے قانونی تحفظ چاہیے۔

سمارٹ سٹی ملتان کا معاملہ بھی اسی تناظر میں شہریوں کے لیے سوالات پیدا کر رہا ہے۔ شہریوں کے مطابق یہ سکیم کئی سال قبل بڑی تعداد میں فروخت کی جا چکی ہے۔ موقع پر ڈویلپمنٹ کا کام، سڑکیں، بجلی کا نظام اور کمرشل سرگرمیاں بھی دکھائی دیتی ہیں، لیکن شہریوں کے مطابق سکیم کی حتمی منظوری کے حوالے سے اب بھی سوالات موجود ہیں۔

یہاں کسی سکیم کو غیر قانونی قرار دینا مقصود نہیں۔ اگر تمام قانونی تقاضے مکمل ہیں تو اس سے بہتر بات کیا ہو سکتی ہے؟ متعلقہ ادارہ صرف سرکاری ریکارڈ سامنے رکھ کر یہ سوال ختم کر سکتا ہے۔ لیکن اگر شہریوں کے ذہن میں سوال موجود ہے تو اس کا جواب خاموشی نہیں بلکہ شفاف معلومات ہونی چاہیے۔ایم ڈی اے کو چاہیے کہ ہاؤسنگ سکیموں کے حوالے سے ایسا عوامی نظام بنائے جہاں شہری صرف سکیم کا نام درج کرکے اس کی قانونی حیثیت معلوم کر سکیں۔ انہیں بتایا جائے کہ سکیم کب منظور ہوئی، کون سا فیز منظور شدہ ہے، حتمی منظوری کی کیا حیثیت ہے، منظور شدہ رقبہ کتنا ہے اور پلاٹوں کی فروخت اور ڈویلپمنٹ کے حوالے سے کیا اجازت موجود ہے۔

یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔

دنیا بھر میں ریگولیٹری ادارے عوام کو معلومات تک آسان رسائی فراہم کرتے ہیں۔ اگر ملتان میں بھی ایسا نظام قائم ہو جائے تو شہری پراپرٹی ڈیلر کے دعوے یا مارکیٹنگ کمپنی کے اشتہار پر اندھا اعتماد کرنے کے بجائے سرکاری ریکارڈ سے تصدیق کر سکیں گے۔

اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ہاؤسنگ سکیم منظور ہے یا نہیں۔ اصل مسئلہ نگرانی کے نظام کا ہے۔

اگر ایک سکیم برسوں تک مارکیٹ میں موجود رہے، اس کے اشتہارات مسلسل سامنے آتے رہیں، پلاٹ فروخت ہوتے رہیں، ڈویلپمنٹ جاری رہے اور شہری سرمایہ کاری کرتے رہیں تو متعلقہ ادارے کو بھی یہ بتانا چاہیے کہ اس سارے عمل کی نگرانی کیسے کی گئی۔

اگر کوئی خلاف ورزی نہیں تو بہت اچھی بات ہے۔ اگر کوئی قانونی مرحلہ باقی ہے تو شہریوں کو بتایا جائے۔ اگر کوئی اعتراض موجود ہے تو اسے بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔ لیکن ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ شہری پہلے سرمایہ کاری کرے اور پھر کئی سال بعد اسے معلوم ہو کہ جس چیز کو وہ مکمل سمجھ رہا تھا، اس کی قانونی حیثیت ابھی کسی دوسرے مرحلے میں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ملتان میں موجود ہاؤسنگ سکیموں کا جامع جائزہ وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

ہر سکیم کے بارے میں واضح معلومات عوام کے سامنے ہونی چاہئیں۔ کون سی سکیم مکمل منظور شدہ ہے؟ کون سی ابتدائی یا مشروط منظوری رکھتی ہے؟ کون سا فیز منظور ہے؟ کہاں ڈویلپمنٹ کی اجازت ہے؟ کہاں پلاٹوں کی فروخت کی اجازت ہے؟ اور کن معاملات میں قانونی کارروائی یا اعتراض زیرِ التوا ہے؟

یہ سوالات کسی ایک ڈویلپر کے خلاف نہیں۔ یہ سوالات پورے نظام کے بارے میں ہیں
۔
پراپرٹی کا کاروبار اپنی جگہ ایک اہم معاشی سرگرمی ہے۔ ہزاروں لوگ اس شعبے سے روزگار حاصل کرتے ہیں، شہری اپنے گھر بناتے ہیں، سرمایہ کاری کرتے ہیں اور شہر پھیلتا ہے۔ لیکن ترقی اس وقت ہی پائیدار ہوتی ہے جب اس کے ساتھ قانون، شفافیت اور جواب دہی بھی موجود ہو۔

ایک عام شہری کو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آپ نے پلاٹ خریدنے سے پہلے تمام قانونی ریکارڈ خود کیوں نہیں دیکھا۔ اگر ریاست نے ریگولیٹری ادارہ قائم کر رکھا ہے تو اس ادارے کی ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ مارکیٹ میں واضح کرے کہ کیا قانونی ہے اور کیا نہیں۔

سڑکیں بن جانا منظوری کا ثبوت نہیں، بجلی کے کھمبے لگ جانا قانونی حیثیت کی ضمانت نہیں اور خوبصورت گیٹ شہری کی سرمایہ کاری کا تحفظ نہیں۔
اصل تحفظ سرکاری ریکارڈ، واضح منظوری اور قانون کے مطابق ڈویلپمنٹ سے ملتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ایم ڈی اے محض کاغذی کارروائی تک محدود نہ رہے بلکہ فیلڈ میں موجود ہاؤسنگ سکیموں اور منظور شدہ نقشوں کا بھی موازنہ کرے۔ جہاں منظوری کے مطابق کام ہو رہا ہے وہاں ڈویلپرز کو سہولت دی جائے، جہاں کمی ہے وہاں بروقت نشاندہی کی جائے اور جہاں خلاف ورزی ثابت ہو وہاں بلاامتیاز قانون حرکت میں آئے۔
سب سے بڑھ کر شہریوں کو اعتماد دیا جائے۔

کیونکہ ایک شہری جب پلاٹ خریدتا ہے تو وہ صرف زمین کا ٹکڑا نہیں خریدتا، وہ اپنے بچوں کا مستقبل خریدنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کی جمع پونجی، اس کے خواب اور اس کی برسوں کی محنت اس ایک فیصلے سے جڑی ہوتی ہے۔

لہٰذا ہاؤسنگ سکیموں کی منظوری کو ایک معمولی دفتری معاملہ سمجھنا خطرناک ہے۔

آج ضرورت ہے کہ ملتان میں ہاؤسنگ سکیموں کے بارے میں کاغذی دعووں کے بجائے کھلی اور قابلِ تصدیق معلومات سامنے آئیں۔ شہریوں کو معلوم ہو کہ کس سکیم کا کون سا فیز منظور ہے اور کون سا نہیں۔ انہیں یہ حق حاصل ہو کہ وہ پلاٹ خریدنے سے پہلے چند منٹ میں سرکاری ریکارڈ سے تصدیق کر سکیں۔

اور ایم ڈی اے کو بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کا نگرانی کا نظام صرف فائلوں تک محدود نہیں بلکہ زمین پر بھی فعال ہے۔
آخر میں سوال بہت سادہ ہے:

اگر ہاؤسنگ سکیم مکمل قانونی منظوری رکھتی ہے تو اس کا ریکارڈ عوام کے سامنے لانے میں ہچکچاہٹ کیوں؟ اور اگر حتمی منظوری ابھی باقی ہے تو پلاٹوں کی خرید و فروخت اور ڈویلپمنٹ کے بارے میں شہریوں کو مکمل سچ کیوں نہ بتایا جائے؟

یہ سوال کسی ایک سکیم کا نہیں، ملتان کے ہزاروں پلاٹ خریداروں کے مستقبل کا سوال ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہاؤسنگ سکیموں کی چمک دمک کے ساتھ ان کے کاغذات بھی عوام کے سامنے رکھے جائیں۔
کیونکہ شہری کو صرف خوابوں کا شہر نہیں چاہیے، اسے اپنی زمین کی قانونی ضمانت بھی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں