تحریر: خالد بیگ
سفارت کاری اور عسکری حکمتِ عملی کی دنیا میں بعض اوقات ایک خاموش مصافحہ اور ایک بروقت دورہ ہزاروں گولیوں اور میزائلوں سے زیادہ طاقتور ثابت ہوتا ہے۔ جب کوئی فوجی سپہ سالار کسی انتہائی حساس اور کشیدہ صورتحال میں کسی اہم دارالحکومت میں قدم رکھتا ہے، تو اس کے قدموں کی چاپ صرف اس شہر میں نہیں، بلکہ ہزاروں میل دور بیٹھے حریفوں اور اتحادیوں کے ایوانوں میں بھی واضح سنی جاتی ہے۔ آج کی نشست میں ہم عالمی بساط کے اس انتہائی پیچیدہ اور فیصلہ کن مہرے کا جائزہ لیں گے جسے “عسکری سفارت کاری” (Military Diplomacy) کہا جاتا ہے۔ اس کی سب سے شاندار اور حالیہ مثال اکتوبر 2026 کے اواخر میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا دورہِ تہران ہے، جس نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک تباہ کن علاقائی جنگ سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
اس دورے اور خطے کی موجودہ حساسیت کو سمجھنے کے لیے ہمیں پہلے ان حقائق پر نظر ڈالنی ہوگی جو اس وقت بین الاقوامی میڈیا کی شہ سرخیوں میں ہیں۔ ‘الجزیرہ’ اور ‘عرب نیوز’ کی حالیہ ترین اور مستند رپورٹس کے مطابق، اکتوبر 2026 کے آخری ہفتے میں تہران میں ایک انتہائی غیر معمولی چار فریقی (Quadrilateral) عسکری و سیکیورٹی اجلاس منعقد ہوا ہے۔ اس اجلاس میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر، سعودی عرب کے وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام نے ایرانی قیادت سے براہ راست اور طویل ملاقاتیں کیں۔
ذرا اس پس منظر پر غور کریں: یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں طلب کیا گیا جب یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ایئرپورٹ اور تیل کی تنصیبات پر میزائل حملے کیے گئے، اور جواب میں سعودی اتحاد نے حوثیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ دوسری جانب واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایک دوسرے کو دی جانے والی دھمکیوں نے پورے مڈل ایسٹ کو بارود کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا تھا۔ ایسے کڑے وقت میں ‘مکہ ڈیفنس پیکٹ’ (Makkah Pact) کے رکن ممالک کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا فیصلہ کرنا ایک بہت بڑی سفارتی پیش رفت تھی۔
یہاں عالمی بساط پر پاکستان کے کردار کو سمجھنا انتہائی دلچسپ ہے۔ خبر رساں اداروں ‘رائٹرز’ (Reuters) اور ترکیہ کی نیوز ایجنسی ‘اناطولو’ (Anadolu) کے مطابق، پاکستان محض اس اجلاس کا حصہ نہیں تھا، بلکہ جنرل عاصم منیر ایک عرصے سے امریکہ اور ایران کے درمیان برف پگھلانے اور ایک عارضی امن معاہدہ (Temporary Pact) کروانے کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ پاکستان کی جانب سے تہران اور واشنگٹن دونوں کو ایک متوازن تجاویز پر مبنی ڈرافٹ پیش کیا گیا، جس میں دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ (Strait of Hormuz) کو بحری ٹریفک کے لیے کھلا رکھنے، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے، اور کشیدگی کو کم کرنے جیسے انتہائی اہم نکات شامل تھے۔
اس کامیاب عسکری سفارت کاری کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران اجلاس میں واضح طور پر اعلان کیا کہ ایران علاقائی تعاون کو مزید گہرا کرنے اور مسلم ممالک کے درمیان اختلافات کو باہمی بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ چاروں ممالک (پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران) نے خطے کے امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اپنے ڈائیلاگ کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
اس عالمی بساط پر ایک اور پہلو بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ خارجہ پالیسی کی دنیا میں توازن قائم رکھنا کتنا مشکل اور ضروری ہے، اس کا اندازہ امریکہ کے سابق وزیرِ خارجہ اور شہرہ آفاق سٹریٹجسٹ ہنری کسنجر کی مشہورِ زمانہ کتاب “ڈپلومیسی” (Diplomacy) کے مطالعے سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ کسنجر نے اس کتاب میں لکھا ہے کہ عالمی سیاست میں سب سے بڑی مہارت یہ نہیں کہ آپ اپنے دوستوں کے ساتھ کیسے چلتے ہیں، بلکہ اصل مہارت یہ ہے کہ آپ متضاد مفادات رکھنے والی طاقتوں کے درمیان اپنا توازن اور بقا کیسے برقرار رکھتے ہیں۔
جنرل عاصم منیر کا یہ دورہِ تہران اور مشرقِ وسطیٰ میں ادا کیا جانے والا ثالثی کا یہ کردار ہنری کسنجر کے اسی نظریے کی ایک عملی اور شاندار مثال ہے۔ ذرا غور کریں! ایک طرف پاکستان کے برادر اسلامی ملک سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ انتہائی گہرے اور تزویراتی نوعیت کے دفاعی تعلقات ہیں، دوسری طرف امریکہ کی جانب سے ایران پر کڑی معاشی پابندیاں عائد ہیں، اور ان سب کے درمیان پاکستان کو اپنے پڑوسی ملک ایران کے ساتھ بھی پرامن اور مستحکم تعلقات برقرار رکھنے ہیں۔ یہ وہ باریک رسی ہے جس پر چلنا کسی بھی عام قیادت کے بس کی بات نہیں، لیکن ہماری عسکری قیادت نے اس حالیہ دورے کے ذریعے دنیا کو یہ واضح پیغام دیا کہ پاکستان کسی بھی عالمی بلاک کی پراکسی بننے کے بجائے صرف اور صرف علاقائی امن اور اپنے قومی مفادات کے تحت فیصلے کرے گا۔
دشمن کا اصل ہدف پاکستان کی مغربی سرحدوں اور بلوچستان کو غیر مستحکم رکھنا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ پاکستان پڑوسی ممالک کے ساتھ الجھا رہے تاکہ ملکی معیشت اور سی پیک جیسے عظیم منصوبے کبھی پروان نہ چڑھ سکیں۔ لیکن تہران کے صدارتی محل میں ہونے والی انالیٹیکل اور سٹریٹجک ملاقاتوں نے نئی دہلی اور دیگر مخالف دارالحکومتوں میں بیٹھے ان ماسٹر مائنڈز کی نیندیں اڑا دی ہیں جو پاک ایران کشیدگی سے فائدہ اٹھانے کے لیے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کر چکے تھے۔
یہ تازہ ترین دورہ اس بات کا بھی واضح ثبوت ہے کہ آج کے پاکستان کی سیکیورٹی پالیسی محض خندقوں اور مورچوں تک محدود نہیں رہی۔ آج ہماری افواج کی قیادت ایک طرف اگر سرحدوں پر کھڑے جوانوں کا مورال بڑھا رہی ہے، تو دوسری طرف عالمی دارالحکومتوں میں بیٹھ کر ایسی عسکری سفارت کاری کر رہی ہے جو ملکی معیشت کو سنبھالا دینے، عالمی منڈی میں تیل کی ترسیل کو محفوظ بنانے، اور خطے کو تیسری عالمی جنگ کے خطرے سے نکالنے کے لیے ناگزیر ہے۔ عالمی بساط پر پاکستان اب محض ایک پیادہ نہیں، بلکہ ایک ایسا اہم مہرہ بن کر ابھرا ہے جس کی چالیں خطے کے امن و جنگ کے فیصلے کر رہی ہیں۔





