تحریر: کلب عابد خان
ملتان میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا دورہ مکمل ہو گیا۔ شہر میں کئی دنوں سے ایک عجیب سی گہماگہمی تھی۔ شاہراہوں پر بینرز کی بھرمار، جگہ جگہ خیرمقدمی کیمپ، پھولوں کی پتیاں، استقبالی نعروں کی گونج، کارکنوں کے بڑے بڑے قافلے، پارلیمنٹرینز اور ٹکٹ ہولڈرز کی بھاگ دوڑ اور انتظامیہ کی غیر معمولی سرگرمیاں دیکھ کر یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ملتان میں کوئی ایسا تاریخی واقعہ ہونے جا رہا ہے جس کے بعد شہر کی قسمت ہمیشہ کے لیے بدل جائے گی۔
وزیراعلیٰ کی آمد سے چند گھنٹے پہلے تو انتظامی مشینری نے بھی ایسی رفتار پکڑی کہ ملتان کے کئی راستوں کی شکل ہی بدل گئی۔ جہاں سڑکوں پر گڑھے تھے وہاں فوری مرمت شروع ہو گئی، کہیں لک ڈال دی گئی، کہیں سڑک کے کنارے رنگ و روغن کر دیا گیا، کہیں ٹف ٹائلز بچھا دی گئیں، کہیں صفائی ستھرائی پر خصوصی توجہ دی گئی اور جن راستوں سے وزیراعلیٰ کا گزر ہونا تھا وہ چند ہی گھنٹوں میں چمکنے لگے۔
یہ سب دیکھ کر ایک عام شہری کے ذہن میں ایک سیدھا سا سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت کی انتظامی مشینری چند گھنٹوں میں اتنا کچھ کر سکتی ہے تو عام دنوں میں یہ رفتار کیوں نظر نہیں آتی؟
اگر وزیراعلیٰ کے آنے سے پہلے گڑھے بھر سکتے ہیں تو شہریوں کے مسلسل مطالبات کے باوجود مہینوں اور برسوں سے موجود گڑھے کیوں نہیں بھرے جاتے؟ اگر چند گھنٹوں میں ٹف ٹائلز لگ سکتی ہیں تو عام شہری کے محلے میں یہ کام برسوں فائلوں میں کیوں گھومتے رہتے ہیں؟ اگر چند گھنٹوں میں شہر کے مخصوص راستے صاف ستھرے اور خوبصورت بن سکتے ہیں تو پورے شہر کو مستقل بنیادوں پر صاف رکھنے کے لیے وہی جذبہ کیوں نظر نہیں آتا؟
یہ سوال کسی سیاسی مخالفت کے لیے نہیں بلکہ ملتان کے عام شہری کے دل کی آواز ہے۔
دورے کے دوران سیاسی ماحول بھی دیدنی تھا۔ مسلم لیگ ن کے کارکن، پارلیمنٹرینز اور ٹکٹ ہولڈرز پوری طرح متحرک نظر آئے۔ استقبال کے لیے قافلے نکلے، نعرے لگے، پھول نچھاور ہوئے، بھنگڑے ڈالے گئے اور ایسا ماحول بنا جیسے پورے ملتان کی تقدیر کا فیصلہ اسی ایک دورے کے دوران ہونے جا رہا ہو۔
لیکن اب جب وزیراعلیٰ واپس جا چکی ہیں، قافلے واپس لوٹ چکے ہیں، بینرز کچھ دن بعد اتر جائیں گے، استقبالی کیمپ ختم ہو جائیں گے اور سڑکوں پر معمول کی ٹریفک دوبارہ رواں دواں ہو گی تو اصل سوال سامنے آئے گا کہ ملتان کے عام شہری کو اس دورے سے ملا کیا؟
یہاں انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ جو منصوبے شروع ہوئے یا جن سہولتوں کا افتتاح ہوا، ان کی اہمیت کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ صحت کے شعبے میں کینسر کے علاج سے متعلق جدید سہولیات اور الیکٹرک بس سروس جیسے منصوبے اپنی جگہ اہم ہیں۔ اگر یہ منصوبے واقعی مستقل بنیادوں پر چلتے ہیں، عام آدمی کو ان سے فائدہ ملتا ہے اور ان کا معیار برقرار رہتا ہے تو یقیناً یہ ملتان کے لیے مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے۔مگر کسی بھی منصوبے کی اصل کامیابی ربن کاٹنے کے دن نہیں بلکہ اس وقت سامنے آتی ہے جب چند ماہ اور چند سال گزر جائیں۔
بسیں سڑک پر چل رہی ہوں، مریض کو علاج مل رہا ہو، سڑک اپنی جگہ قائم ہو، سیوریج کام کر رہا ہو، بارش کا پانی سڑکوں پر کھڑا نہ ہو، صفائی کا نظام مسلسل بہتر ہو اور عام شہری اپنی روزمرہ زندگی میں فرق محسوس کرے، تب کہا جائے گا کہ منصوبہ کامیاب ہوا۔ملتان کو صرف مرکزی شاہراہوں کی خوبصورتی نہیں چاہیے۔ ملتان کے ان علاقوں کو بھی ترقی چاہیے جہاں بارش آتے ہی سڑکیں تالاب بن جاتی ہیں۔ ان علاقوں کو بھی توجہ چاہیے جہاں سیوریج ایک مستقل مسئلہ ہے۔ ان سڑکوں کو بھی تعمیر ہونا چاہیے جہاں شہری روزانہ ٹریفک کے عذاب سے گزرتے ہیں۔ ان آبادیوں کو بھی ترقی کے دائرے میں لانا ہوگا جہاں بنیادی سہولیات آج بھی ایک خواب محسوس ہوتی ہیں۔
اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ترقی صرف اس راستے کا نام نہیں جہاں سے وزیراعلیٰ کا قافلہ گزرے۔ترقی وہ ہے جو وزیراعلیٰ کے جانے کے بعد بھی نظر آئے۔اگر ایک وزیراعلیٰ کے دورے سے پہلے پورا انتظامی نظام متحرک ہو سکتا ہے تو یہی نظام عام دنوں میں بھی متحرک رہنا چاہیے۔ اگر چند گھنٹوں میں سڑک سنواری جا سکتی ہے تو اس سڑک کی مستقل تعمیر اور معیار کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔ اگر شہر کو ایک دورے کے لیے سجایا جا سکتا ہے تو اسے بارہ مہینے شہریوں کے لیے بہتر کیوں نہیں رکھا جا سکتا؟
یہ سوال حکومت سے بھی ہے اور ملتان کے منتخب نمائندوں سے بھی۔جو سیاسی کارکن وزیراعلیٰ کے استقبال کے لیے سڑکوں پر نظر آئے، اگر یہی جوش اپنے اپنے علاقوں کے مسائل حل کروانے کے لیے بھی دکھائیں تو ملتان کے عوام شاید زیادہ خوش ہوں۔ پارلیمنٹرینز کا اصل امتحان صرف یہ نہیں کہ وہ اپنے قائد کا استقبال کتنے بڑے قافلے کے ساتھ کرتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے حلقے کے شہریوں کی آواز کتنی مضبوطی سے حکومت تک پہنچاتے ہیں۔
ملتان کو پھولوں کی پتیاں ضرور اچھی لگتی ہیں، مگر اسے اچھی سڑک اس سے کہیں زیادہ اچھی لگتی ہے۔
ملتان کو بینرز سے زیادہ صاف شہر چاہیے۔
ملتان کو نعروں سے زیادہ بہتر سیوریج چاہیے۔
ملتان کو چند گھنٹوں کی صفائی سے زیادہ مستقل صفائی چاہیے۔
ملتان کو افتتاحی تقریبات سے زیادہ ایسے منصوبے چاہئیں جو عام آدمی کی زندگی آسان کریں۔
آج جب وزیراعلیٰ پنجاب کا دورہ مکمل ہو چکا ہے تو ہمیں جشن سے آگے بڑھ کر نتائج کی طرف دیکھنا ہوگا۔ اب بینرز نہیں، کام بولنا چاہیے۔ اب نعرے نہیں، منصوبوں کی رفتار بولنی چاہیے۔ اب استقبال نہیں، عوامی سہولت بولنی چاہیے۔
کیونکہ ملتان کی اصل قسمت اس دن نہیں جاگے گی جب وزیراعلیٰ کا قافلہ شہر میں داخل ہوگا۔
ملتان کی اصل قسمت اس دن جاگے گی جب وزیراعلیٰ کے جانے کے بعد بھی شہری کہیں گے کہ ہاں، واقعی ہمارا شہر بدل رہا ہے۔
یہی اصل امتحان ہے۔
ملتان سج گیا، پھول بھی برس گئے، بھنگڑے بھی پڑ گئے… اب ذرا یہ بھی دیکھ لیتے ہیں کہ ملتان بدلا کتنا؟





