ملتان چیمبر آف کامرس میں اہم اجلاس: سیکیورٹی مزید بہتر بنانے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر زور

ملتان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تاجر برادری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) ملتان عثمان اکرم گوندل نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ چیمبر کی تزئین و آرائش کے بعد ہونے والے اس اجلاس کی صدارت صدر میاں بختاور تنویر شیخ نے کی، جس میں سابق صدور، نائب صدور اور ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین کی بڑی تعداد موجود تھی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں بختاور تنویر شیخ نے آر پی او ملتان کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ملتان جنوبی پنجاب اور پورے پاکستان کا دل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں بین الاقوامی ایئرپورٹ اور ڈی ایچ اے جیسے منصوبوں کی وجہ سے شہر کی آبادی اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اور دبئی کی مثال دیتے ہوئے صدر چیمبر نے کہا کہ سرمایہ کاروں کے لیے سیکیورٹی سب سے اہم جزو ہے اور خوش آئند بات یہ ہے کہ ملتان کا شمار اس وقت محفوظ ترین شہروں میں ہوتا ہے جس کا سہرا آر پی او ملتان اور ان کی مستعد ٹیم کے سر ہے۔ انہوں نے ڈی ایچ اے سمیت شہر میں قائم کیے گئے اسٹیٹ آف دی آرٹ تھانوں، جدید ترین سیف سٹی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور ٹریفک کنٹرول کرنے پر پولیس کی کارکردگی کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔

تاجر برادری کے مسائل اور سیکیورٹی چیلنجز پر بات کرتے ہوئے صدر چیمبر نے مطالبہ کیا کہ ملتان انڈسٹریل اسٹیٹ اور دیگر صنعتی زونز کے متعدد راستوں کی وجہ سے وارداتوں کا خطرہ رہتا ہے، لہٰذا وہاں رات کے اوقات میں پولیس پیٹرولنگ مزید بڑھائی جائے اور بینکوں کے اطراف سیکیورٹی کو سخت کیا جائے۔ انہوں نے تجویز دی کہ چیمبر اور پولیس کے درمیان فوری رابطے کے لیے فوکل پرسنز مقرر کیے جائیں تاکہ تاجروں کے مسائل بلا تاخیر حل ہو سکیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایف آئی آر کو کاروباری افراد کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے، تاہم جائز کاروباری تنازعات (جیسے چیک ڈس آنر) میں مقدمات کا اندراج بغیر کسی سفارش کے یقینی بنایا جائے تاکہ تاجروں کا سرمایہ محفوظ رہے۔

شہر میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل، بالخصوص بوسن روڈ، ماڈل ٹاؤن اور کینٹ میں بننے والے باٹل نیکس کو جدید مینجمنٹ سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ، سیف سٹی کیمروں کا دائرہ کار شہر کے تمام “بلائنڈ کارنرز” تک پھیلانے کی بھی استدعا کی گئی۔ میاں بختاور تنویر شیخ نے غیر ملکی، بالخصوص چینی سرمایہ کاروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے تجویز دی کہ ایئرپورٹ اور کینٹ کے راستوں پر غیر ضروری چیکنگ کے بجائے چیمبر کے فوکل پرسن کے ذریعے ایک پیشگی اطلاعی میکانزم بنایا جائے تاکہ انہیں بلا تعطل سیکیورٹی فراہم کی جا سکے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کام کی جگہوں اور کمرشل ایریاز میں خواتین، بچوں اور عام شہریوں کے تحفظ کو کلیدی قرار دیتے ہوئے آر پی او ملتان کو تاجر برادری اور چیمبر آف کامرس کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی مکمل یقین دہانی کروائی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں