ملتان چیمبر آف کامرس: نائب صدر محمد اظہر بلوچ کا آر پی او ملتان سے ٹریفک مسائل اور ناجائز چالان پر نوٹس لینے کا مطالبہ

ملتان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اجلاس میں نائب صدر محمد اظہر بلوچ نے ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) عثمان اکرم گوندل کو شہر میں ٹریفک کے گمبھیر مسائل اور فارماسیوٹیکل انڈسٹری کی ترسیلی گاڑیوں کو بلاجواز ہراساں کیے جانے کی شکایات سے آگاہ کرتے ہوئے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

آر پی او ملتان سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے نشاندہی کی کہ 9 نمبر چنگی سے بہاءالدین زکریا یونیورسٹی تک پروٹیکٹڈ یوٹرن کا فاصلہ انتہائی طویل ہے، جبکہ ایم پی ایس روڈ پر ایک حادثے کے بعد بند کیے گئے یوٹرن کے باعث شہریوں کا قیمتی وقت اور ایندھن ضائع ہو رہا ہے۔ اس طویل فاصلے سے بچنے کے لیے موٹر سائیکل سواروں سے لے کر بڑی گاڑیوں تک سب دھڑلے سے ون وے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں جس پر کوئی چیک اینڈ بیلنس موجود نہیں۔ انہوں نے ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے اور عوام کی سہولت کے لیے بند یوٹرن فوری کھولنے کی اپیل کی۔

فارماسیوٹیکل انڈسٹری کو درپیش مسائل پر بات کرتے ہوئے محمد اظہر بلوچ نے انکشاف کیا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) کے قوانین کے تحت ٹمپریچر کنٹرولڈ ادویات کی فراہمی کے لیے سپلائی وینز پر اے سی اور ہڈ لگانا لازمی ہے، لیکن ٹریفک پولیس اہلکار کاغذات مکمل ہونے کے باوجود ان گاڑیوں کو جلال پور، شجاع آباد اور سدا والے چوک پر بلاجواز روک کر تنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اہلکار جان بوجھ کر کسی موٹر سائیکل کا نمبر ڈال کر 2000 روپے کا ناجائز چالان کاٹ دیتے ہیں، جبکہ متعلقہ محکموں (آر ٹی اے اور ایکسائز) میں جانے پر کوئی دادرسی نہیں ہوتی۔ انہوں نے آر پی او سے پرزور مطالبہ کیا کہ ادویات سپلائی کرنے والی گاڑیوں کے لیے خصوصی ایگزمپشن سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے تاکہ اس بلیک میلنگ کا مستقل سدباب ہو سکے۔

اجلاس کے دوران شہر کے روڈ انفراسٹرکچر پر بات کرتے ہوئے نائب صدر چیمبر نے تجویز دی کہ بوسن روڈ پر سروس روڈز کے لیے بنائے گئے ڈیوائیڈرز ٹریفک کی روانی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں۔ سروس روڈز پر ڈبل پارکنگ اور فروٹ کی ریڑھیوں کے قبضے کی وجہ سے سڑکیں سکڑ گئی ہیں۔ انہوں نے آر پی او کو ان ڈیوائیڈرز کو مکمل طور پر ہٹانے کی تجویز دی تاکہ سڑکیں چوڑی ہو سکیں اور ٹریفک کا بہاؤ ہموار اور رکاوٹ سے پاک ہو سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں