تحریر:فضہ مریم
کیا آپ نے کبھی صبح اٹھ کر گھر سے باہر نکلتے ہی گہری سانس لینے کی کوشش کی ہے؟ اگر آپ کا تعلق لاہور سے ہے، تو یقیناً آپ کے پھیپھڑوں کو ہوا کا جھونکا نہیں بلکہ کیمیکلز کا ایک ایسا آمیزہ محسوس ہوا ہوگا جو زندگی بخشنے کے بجائے آہستہ آہستہ جسم کو گھن کی طرح چاٹ رہا ہے۔ عالمی فضائی انڈیکس (AQI) کی تازہ ترین رپورٹس بتاتی ہیں کہ پاکستان کا تاریخی اور دل کہلانے والا شہر لاہور ایک بار پھر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں سولہویں نمبر پر آ چکا ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ سال کا وہ موذی موسم جسے ہم ‘سموگ سیزن’ کہتے ہیں، یعنی نومبر، ابھی کئی ہفتے دور ہے لیکن زہریلی فضا نے ابھی سے اپنے پنجے گاڑھنا شروع کر دیے ہیں۔
اس سنگین صورتحال کے پیش نظر حکومتِ پنجاب اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی طرف سے پیشگی انتظامات اور ہدایات کا سلسلہ تو جاری ہے۔ گزشتہ برس کی نسبتاً کامیاب حکمت عملی کو اس بار مزید سخت کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے تاکہ فضائی آلودگی کے پھیلاؤ کے تمام ذرائع کو بروقت روکا جا سکے۔ ہدایات کے مطابق اینٹی سموگ ایس او پیز پر عمل درآمد سخت کر دیا گیا ہے، فصلوں کی باقیات کو جدید مشینری سے ٹھکانے لگانے پر زور دیا جا رہا ہے، پلاسٹک جلانے پر پابندی ہے، زگ زیگ ٹیکنالوجی سے محروم بھٹوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، اور لاہور کے داخلی راستوں پر گاڑیوں کے سموک ٹیسٹ لیے جا رہے ہیں۔ سیف سٹی کیمروں، تھرمل امیجنگ اور جدید آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) سسٹمز کے ذریعے مانیٹرنگ کا دائرہ بھی وسیع کر دیا گیا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا محض سرکاری احکامات، کاغذی ایس او پیز اور انتظامی چھاپوں سے اس ناسور سے جان چھڑائی جا سکتی ہے؟
زمینی حقائق اس دعوے کی مکمل تائید نہیں کرتے۔ موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران کی جڑیں صرف انتظامی کوتاہیوں تک محدود نہیں بلکہ موسمیاتی عوامل بھی اس میں برابر کے شریک ہیں۔ بھارت کی طرف سے چلنے والی تیز رفتار ہواؤں کے رخ میں تبدیلی، فضا میں نمی کا تناسب اور ہوا کی کم رفتار وہ طبعی عناصر ہیں جو آلودہ ذرات کو زمین کے قریب معلق رکھنے کا سبب بنتے ہیں۔ اگرچہ اگلے چند دنوں میں لاہور میں ہلکی بارش کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جس سے فضائی آلودگی میں عارضی کمی آسکتی ہے، مگر بارش کوئی مستقل حل نہیں ہے۔ اصل مسئلہ ہماری پیداواری اور صنعتی سرگرمیوں کا وہ فرسودہ ڈھانچہ ہے جس میں ماحول کی حفاظت کو ہمیشہ ثانوی حیثیت دی گئی۔
مثال کے طور پر، فصلوں کی باقیات کو جلانے کا معاملہ ہی لے لیں۔ کسانوں کو منع کرنا اور ان پر جرمانے عائد کرنا آسان ہے، لیکن کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ وہ بیچارے مجبوری میں یہ قدم کیوں اٹھاتے ہیں؟ فصل کاٹنے کے بعد اگلی فصل کی تیاری کے لیے بہت کم وقت ہوتا ہے اور جدید ہارویسٹنگ یا مینجمنٹ مشینری ہر کسان کی مالی پہنچ سے باہر ہے۔ جب تک حکومت کسانوں کو سبسڈی پر جدید آلات فراہم نہیں کرتی، محض احکامات بے سود ثابت ہوں گے۔ یہی حال ہمارے صنعتی شعبے کا ہے۔ زگ زیگ ٹیکنالوجی اپنانے کے لیے بھٹہ مالکان کو بڑی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے، اور جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں میں کرپشن یا کمزور عملداری موجود ہو، وہاں جرمانوں سے زیادہ ‘مک مکا’ کا کلچر پروان چڑھتا ہے۔ اس کے علاوہ، سڑکوں پر دوڑتی ہوئی خستہ حال بسیں، ٹرک، اور دھواں چھوڑتی موٹر سائیکلیں ہمارے ٹرانسپورٹ سسٹم کی زبوں حالی کی منہ بولتی تصویر ہیں۔
دوسری طرف، شہری آبادی کا رویہ بھی کچھ کم مجرمانہ نہیں۔ جگہ جگہ کوڑا کرکٹ، پلاسٹک اور شاپر جلانا ہمارے روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ کمرشل کچنز اور باربی کیو آؤٹ لیٹس بغیر کسی فلٹر سسٹم کے زہریلا دھواں فضا میں اگل رہے ہیں۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے؛ ہر سال نومبر سے جنوری کے دوران لاہور کے اسپتالوں میں دمہ، نزلہ، زکام، آنکھوں کی جلن اور پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کا ہجوم امڈ آتا ہے۔ معصوم بچے اور ضعیف بزرگ اس زہریلی دھند کے سب سے آسان شکار بنتے ہیں۔
سموگ کا یہ عذاب محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک خاموش انسانی المیہ ہے جو ہماری اجتماعی غفلت کا نتیجہ ہے۔ انتظامیہ اپنی جگہ جتنے بھی اقدامات کر لے، جب تک بطور قوم ہم اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں کریں گے، صورتحال نہیں بدلے گی۔ ٹریفک کے دھوئیں کو کم کرنے کے لیے اپنی گاڑیوں کی ٹیوننگ خود کرانا، کوڑا جلانے سے گریز کرنا، اور ماحولیاتی قوانین کا احترام کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ سموگ کے یہ آنے والے مہینے حکومت کے نہیں، ہم سب کے کردار کا امتحان ہیں۔ اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے، تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔





