تحریر: کلب عابد خان
پاکستان میں جب بھی نجکاری کا ذکر ہوتا ہے تو حکومت کی طرف سے ایک خوبصورت دلیل سامنے آتی ہے کہ قومی ادارے خسارے میں تھے، خزانے پر بوجھ بن چکے تھے، اس لیے انہیں نجی شعبے کے حوالے کرنا ضروری تھا۔ بظاہر یہ دلیل معاشی منطق رکھتی ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اگر کوئی قومی ادارہ واقعی خسارے کا شکار تھا تو اسے بیچنے کا طریقہ کیا تھا؟ اس کی اصل قدر کیا مقرر کی گئی؟ خریدار کون تھا؟ بولی کا عمل کتنا شفاف تھا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ قومی ملکیت کو فروخت کرنے کے بعد اس سے پیدا ہونے والی دولت کا فائدہ عوام کو کتنا ملا؟
یہ سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔
پاکستان کی نجکاری کی تاریخ اٹھائیں تو کئی ایسے سودے سامنے آتے ہیں جو آج بھی عوام کے لیے حیرت کا باعث بنتے ہیں۔ مثال کے طور پر مسلم کمرشل بینک یعنی ایم سی بی کو 1974 میں قومیایا گیا اور 1991 میں دوبارہ نجی شعبے کے حوالے کیا گیا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق 75 فیصد حصص کی فروخت اپریل 1991 میں 2.42 ارب روپے میں نیشنل گروپ کو ہوئی۔
آج اسی ادارے کو دیکھیں تو تصویر بالکل مختلف ہے۔ ایم سی بی ایک بڑا اور منافع بخش بینک بن چکا ہے۔ 2023 میں بینک نے 125.2 ارب روپے کا ریکارڈ قبل از ٹیکس منافع رپورٹ کیا تھا، جبکہ 2026 میں بھی اس کی مالی کارکردگی مضبوط رہی ہے۔یہاں ایک بنیادی سوال ضرور بنتا ہے: کیا 1991 میں فروخت کے وقت کسی نے یہ سوچا تھا کہ ایک قومی بینک، جس کے پاس برانچ نیٹ ورک، صارفین، ڈپازٹس، مارکیٹ پوزیشن اور ایک مکمل مالیاتی نظام موجود ہے، مستقبل میں کتنی بڑی معاشی قدر پیدا کرسکتا ہے؟یہ سوال کسی خریدار کے خلاف الزام نہیں بلکہ ریاست کی معاشی پالیسی کے احتساب کا سوال ہے۔
اسی طرح ڈی جی خان سیمنٹ کی نجکاری بھی ہماری معاشی تاریخ کا اہم باب ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق ڈی جی خان سیمنٹ کے حصص مئی 1992 میں طارق سیگل اینڈ ایسوسی ایٹس کو تقریباً 1.961 ارب روپے میں منتقل کیے گئے۔ بعد کے تحقیقی ریکارڈ میں بھی اس سودے کی قیمت تقریباً 1.8 سے 2 ارب روپے کے درمیان بیان ہوئی ہے۔یہاں بھی سوال صرف یہ نہیں کہ ادارہ کتنے میں فروخت ہوا۔ اصل سوال یہ ہے کہ فروخت کے وقت اس کی زمین، مشینری، پیداواری صلاحیت، مارکیٹ شیئر، معدنی وسائل تک رسائی اور مستقبل کی آمدنی کی صلاحیت کو کس بنیاد پر قیمت میں شامل کیا گیا؟.قومی اثاثہ صرف اس وقت کی بیلنس شیٹ کا نام نہیں ہوتا۔ اس میں مستقبل کی صلاحیت بھی شامل ہوتی ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں نجکاری کے مباحث میں ہم اکثر ایک بنیادی غلطی کرتے رہے ہیں۔ ہم ادارے کی موجودہ حالت دیکھتے ہیں، لیکن اس کے مستقبل کی قدر کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ پھر چند برس بعد جب وہی ادارہ نجی انتظام کے تحت اربوں روپے کمانا شروع کرتا ہے تو عوام حیران ہو کر پوچھتے ہیں کہ اگر یہ ادارہ اتنی دولت پیدا کرسکتا تھا تو اسے ریاست نے کیوں فروخت کیا؟
لیکن یہاں بھی انصاف کا تقاضا ہے کہ پوری تصویر دیکھی جائے۔ ہر نجکاری کو چوری کہنا بھی درست نہیں اور ہر نجکاری کو کامیابی قرار دینا بھی درست نہیں۔ نجکاری اس وقت قابلِ قبول ہوسکتی ہے جب عمل شفاف ہو، قیمت مارکیٹ کے مطابق ہو، مسابقتی بولی ہو، مفادات کا ٹکراؤ نہ ہو، اور ریاست یہ ثابت کرسکے کہ عوام کو طویل مدت میں زیادہ فائدہ حاصل ہوگا۔اصل مسئلہ یہی ہے: قومی اثاثہ بیچنا جرم نہیں، قومی اثاثہ کم قیمت پر بیچنا اور اس عمل کو شفاف نہ رکھنا عوام کے اعتماد کے ساتھ ناانصافی ہے۔
ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ نجکاری کے بعد عام آدمی کو کیا ملا۔ کیا بجلی سستی ہوئی؟ کیا روزگار بڑھا؟ کیا مصنوعات سستی ہوئیں؟ کیا قومی خزانے پر بوجھ کم ہوا؟ کیا حکومت نے حاصل ہونے والی رقم کو پیداواری شعبوں، تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور روزگار پر لگایا؟ یا ایک وقتی رقم حاصل کرکے مستقل آمدنی کا ذریعہ ہمیشہ کے لیے ختم کردیا گیا؟
یہ سوال آج بھی زندہ ہے۔
اور پھر ہوٹلوں اور قیمتی شہری املاک کی نجکاری کا معاملہ بھی ہے۔ یہاں بھی اعداد و شمار کو سیاسی نعروں کے بجائے سرکاری ریکارڈ سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر لاہور کے فلیٹی ہوٹل کی فروخت سرکاری ریکارڈ میں جولائی 2004 میں 1.211 ارب روپے درج ہے، جبکہ کامیاب بولی 1,211.1 ملین روپے تھی۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قومی اثاثوں کی فروخت کے اعداد و شمار بیان کرتے وقت جذبات کے بجائے مستند ریکارڈ کو سامنے رکھنا چاہیے۔
لیکن سوال پھر بھی وہی ہے: کسی تاریخی عمارت یا قیمتی شہری زمین کی قیمت لگاتے وقت صرف عمارت کی موجودہ حالت دیکھی گئی یا اس زمین کی مستقبل کی مارکیٹ ویلیو بھی دیکھی گئی؟
پاکستان میں آج پھر نجکاری کا ایک نیا دور شروع ہے۔ حکومت کے پاس خسارے میں چلنے والے اداروں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ریاست کا کام کاروبار کرنا نہیں۔ اصولی طور پر یہ بات قابلِ بحث نہیں کہ حکومت کو ہر کاروبار خود نہیں چلانا چاہیے۔ لیکن ریاست کا کام یہ ضرور ہے کہ عوام کے اثاثوں کا محافظ بن کر انہیں شفاف ترین طریقے سے منتقل کرے۔
اگر کوئی ادارہ نجی شعبے کو دینا ہے تو پہلے اس کی آزادانہ ویلیوایشن ہونی چاہیے۔ زمین، عمارت، مشینری، برانڈ، لائسنس، مارکیٹ شیئر، مستقبل کی آمدنی اور دیگر اثاثوں کی الگ الگ قیمت سامنے آنی چاہیے۔ بولی کا مکمل عمل عوام کے سامنے ہونا چاہیے۔ کامیاب بولی دہندہ اور اس سے متعلقہ کاروباری مفادات بھی ظاہر ہونے چاہئیں۔
اور سب سے اہم بات: اگر ایک قومی اثاثہ فروخت ہونے کے بعد چند سال میں کئی گنا زیادہ دولت پیدا کرتا ہے تو حکومت کو عوام کے سامنے جواب دینا چاہیے کہ فروخت کے وقت اس کی قیمت کیسے مقرر ہوئی تھی؟
یہ سوال کسی مخصوص خاندان، کاروباری گروپ یا سیاسی جماعت کے خلاف نہیں۔ یہ پاکستان کے ہر شہری کا سوال ہے۔
ہم نے برسوں سے عوام کو یہ بتایا کہ ملک غریب ہے، خزانہ خالی ہے، قرض بہت زیادہ ہے، ادارے خسارے میں ہیں۔ دوسری طرف یہی ملک اپنی قیمتی زمینیں، بینک، کارخانے، ہوٹل اور دوسرے اثاثے نجی شعبے کو منتقل کرتا رہا۔ اگر ان اثاثوں سے نجی شعبہ دولت پیدا کرسکتا ہے تو ریاست کیوں نہیں کرسکتی تھی؟ اور اگر ریاست نہیں کرسکتی تھی تو کیا بہتر انتظام، پیشہ ورانہ بورڈ اور سیاسی مداخلت سے پاک مینجمنٹ کے ذریعے انہیں بچایا جاسکتا تھا؟
یہی وہ مقام ہے جہاں قومی بحث کی ضرورت ہے۔
ہمیں ’’علی بابا چالیس چور‘‘ جیسے سیاسی نعروں سے آگے بڑھنا ہوگا۔ اگر واقعی کہیں قومی خزانے کو نقصان پہنچا ہے تو نام، تاریخ، قیمت، ویلیوایشن، بولی اور معاہدہ سامنے لایا جائے۔ اگر کسی سودے میں بے ضابطگی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے۔ لیکن اگر سودا قانون اور شفاف مسابقت کے مطابق ہوا تھا تو محض آج کے منافع کو بنیاد بنا کر ماضی کے ہر فیصلے کو چوری قرار دینا بھی درست نہیں۔
اصل ظلم یہ ہوگا کہ ہم تاریخ سے سبق نہ سیکھیں۔
آج بھی جو قومی ادارے فروخت کیے جانے جا رہے ہیں، ان کے بارے میں قوم کو صرف یہ نہ بتایا جائے کہ وہ خسارے میں ہیں۔ قوم کو یہ بھی بتایا جائے کہ ان کے پاس کتنے اثاثے ہیں، کتنی زمین ہے، کتنی عمارتیں ہیں، مستقبل کی آمدنی کتنی ہے، ان کی مارکیٹ ویلیو کیا ہے اور انہیں فروخت کرنے کے بعد ملک کو طویل مدت میں کیا حاصل ہوگا۔
قومی اثاثے کسی حکومت، وزیر یا افسر کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتے۔ یہ عوام کی امانت ہوتے ہیں۔
حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، وزراء بدلتے رہتے ہیں، افسر ریٹائر ہوجاتے ہیں، لیکن قومی اثاثے نسلوں کی ملکیت ہوتے ہیں۔
اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں نجکاری کا ایک نیا اصول بنایا جائے:
نہ اندھی سرکاری ملکیت، نہ اندھی نجکاری—صرف شفافیت، میرٹ، مکمل ویلیوایشن اور عوامی مفاد۔
اگر کوئی قومی ادارہ واقعی ریاست کے لیے بوجھ ہے تو اسے بہتر انتظام کے بعد فروخت کیا جائے، مگر اگر وہ قومی دولت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو اسے صرف چند سال کے خسارے کی بنیاد پر مستقل طور پر فروخت کرنے سے پہلے سو بار سوچا جائے۔
کیونکہ قومی خزانہ آج کا بجٹ نہیں، آنے والی نسلوں کی امانت بھی ہے۔
اور امانت کا سودا ہمیشہ کھلی کتاب کے ساتھ ہونا چاہیے۔





