جب بھی کسی حکومت کی طرف سے اربوں روپے کے ترقیاتی فراجیکٹس اور نئی پبلک ٹرانسپورٹ کا اعلان ہوتا ہے، تو سرکاری پریس ریلیزز میں اسے ایک ‘انقلابی قدم’ قرار دے دیا جاتا ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے لاہور سمیت صوبہ بھر کی اکانوے تحصیلوں تک الیکٹروبسوں کا دائرہ کار پھیلانے اور جون دو ہزار ستائیس تک مجموعی طور پر تین ہزار الیکٹروبسیں سڑکوں پر لانے کا منصوبہ بلاشبہ کاغذی طور پر ایک بہت بڑا فیصلہ ہے۔ لیکن تعریفوں کے اس روایتی ڈھنڈھورچی پن سے آگے بڑھ کر ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیمسٹری، فزکس اور ماحولیاتی سائنس (Environmental Science) کے اصولوں کے تحت پورے پنجاب کے زمینی اور فضائی ماحول پر اس کے کیا حقیقی اثرات مرتب ہوں گے۔ کیا یہ پراجیکٹ اٹک سے لے کر رحیم یار خان اور راولپنڈی سے لے کر ملتان تک ہمارے دم توڑتے ہوئے شہروں کی ہوا کو پاکیزہ کر پائے گا، یا اس کے پیچھے کچھ ایسی تکنیکی پیچیدگیاں بھی ہیں جن پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتا؟
آئیے پہلے اس کے مثبت تکنیکی پہلو پر بات کرتے ہیں۔ انٹرنل کمبشن انجن (ICE)، یعنی پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی پرانی بسیں اور ویگنیں تھرموڈینامکس کے اصول کے تحت فوسل فیول کو جلا کر حرارت اور پھر مکینیکل انرجی بناتی ہیں۔ اس عمل میں کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO_2)، کاربن مونو آکسائیڈ (CO)، نائٹروجن آکسائڈز (NO_x)، اور خطرناک ذرات جنہیں پارٹیکولیٹ میٹر (PM_{2.5} اور PM_{10}) کہا جاتا ہے، بڑی مقدار میں خارج ہوتے ہیں۔ یہ وہی زہریلے ذرات ہیں جو لاہور سے لے کر فیصل آباد، ملتان اور گوجرانوالہ تک سردیوں کے دوران سموگ کی موٹی چادر تان دیتے ہیں اور پورے صوبے کو گیس چیمبر بنا دیتے ہیں۔ اس کے برعکس، الیکٹرک بسیں (EVs) ‘زیرو ٹیل پائپ ایمیشن’ (Zero Tailpipe Emission) کے اصول پر کام کرتی ہیں۔ ان میں کوئی انجن یا ایگزاسٹ پائپ نہیں ہوتا، لہٰذا سڑک پر چلتے ہوئے یہ فضا میں ایک گرام بھی کاربن یا زہریلا دھواں خارج نہیں کرتی ہیں۔ جب یہ بسیں پورے پنجاب کے اضلاع اور تحصیلوں میں ڈیزل کی پرانی گاڑیوں کی جگہ لیں گی، تو اس سے سڑکوں کے قریب زہریلے اخراج میں فوری طور پر کمی آئے گی، جو کہ ایک بڑی سائنسی حقیقت ہے۔
تاہم، ایک وسیع ماحولیاتی تجزیہ کے طور پر ہمیں سکے کا دوسرا رخ بھی دیکھنا ہوگا جسے ‘ویل ٹو ویل’ (Well-to-Wheel) انالیسس کہا جاتا ہے۔ الیکٹرک گاڑی کے حقیقی معنوں میں ماحولیاتی ہونے کا دارومدار اس بات پر ہے کہ پورے صوبے میں ان بسوں کو چلانے کے لیے جو بجلی استعمال ہو رہی ہے، وہ کہاں سے آ رہی ہے؟ پاکستان میں آج بھی بجلی کا ایک بڑا حصہ کوئلے، فرنس آئل اور درآمدی گیس سے چلنے والے تھرمل پاور پلانٹس سے پیدا ہوتا ہے۔ جب آپ کوئلے یا تیل سے بجلی بنا کر پنجاب بھر کے ڈپوز میں ان الیکٹروبسوں کی بیٹریاں چارج کریں گے، تو آلودگی سڑک سے شفٹ ہو کر پاور پلانٹ کی چمنی پر منتقل ہو جائے گی۔ یعنی مجموعی کاربن فوٹ پرنٹ (Carbon Footprint) میں اس وقت تک نمایاں کمی نہیں آ سکتی جب تک ہمارے قومی گرڈ کا انرجی مکس (Energy Mix) ہائیڈل، سولر اور ونڈ جیسے قابلِ تجدید (Renewable) ذرائع پر منتقل نہیں ہوتا۔ اگر گرڈ کی بجلی آلودہ ہے، تو یہ الیکٹرک بسیں ماحول کو زیرو آلودگی تو نہیں دے رہیں، البتہ آلودگی کا مرکز شہر کے بیچ سے ہٹ کر کسی اور مقام یا صوبے کے پاور پلانٹس پر چلا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ، بیٹری مینوفیکچرنگ اور اس کی ری سائیکلنگ پورے ملک کے لیے ایک بہت بڑا ماحولیاتی بم ہے۔ ان پندرہ سو سے تین ہزار بڑی الیکٹروبسوں میں لگنے والی لیتھیم آئن (Lithium-ion) بیٹریوں کی تیاری کے لیے لیتھیم، کوبالٹ اور نِکل جیسی دھاتیں زمین سے نکالی جاتی ہیں، جن کی مائننگ خود ایک انتہائی ماحول دشمن عمل ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب چند سالوں بعد یہ بیٹریاں اپنی کارکردگی کھو بیٹھیں گی، تو کیا پورے پنجاب میں ان کی سائنسی بنیادوں پر ری سائیکلنگ کا کوئی فعال انفراسٹرکچر موجود ہے؟ اگر یہ پرانی بیٹریاں پنجاب کے مختلف شہروں میں کھلے عام یا غیر محفوظ مقامات پر پھینک دی گئیں، تو ان میں موجود زہریلے کیمیکل اور ہیوی میٹلز زیر زمین پانی کو ہمیشہ کے لیے آلودہ کر دیں گے، جو کہ سموگ سے بھی بڑا اور گہرا انسانی المیہ بن سکتا ہے۔
پھر ٹریفک فزکس اور روڈ ڈائنامکس کا مسئلہ بھی اپنی جگہ ہے۔ ڈیزل بسوں کے مقابلے میں الیکٹرک بسیں وزن میں بہت زیادہ بھاری ہوتی ہیں کیونکہ ان میں دسیوں من وزنی بیٹریاں لگی ہوتی ہیں۔ جب اتنی بھاری بھرکم بسیں راولپنڈی کے پہاڑی راستوں، ملتان کی گنجان سڑکوں، یا گوجرانوالہ اور فیصل آباد کے صنعتی روٹس پر دوڑیں گی، تو اس سے روڈ اسفالٹ پر رگڑ (Friction) بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔ ٹائروں کے گھسنے سے جو مائیکرو پلاسٹک ذرات پیدا ہوں گے، وہ ہوا میں شامل ہو کر انسانی صحت کے لیے نئے خطرات پیدا کریں گے۔ اگر سڑکوں کا بنیادی ڈھانچہ ان وزنی گاڑیوں کے وزن کو برداشت کرنے کے قابل نہ ہو، تو سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں گی اور بار بار بریکنگ اور اسٹاپنگ سے توانائی کا ضیاع بھی ہوگا۔
حکومت کا یہ اقدام نیت کی حد تک اور ٹیل پائپ ایمیشن کے لحاظ سے پورے پنجاب کے لیے یقیناً ایک خوش آئند پیش رفت ہے، لیکن ماحولیاتی بہتری صرف نعروں یا بسوں کی درآمد سے نہیں آتی۔ جب تک ہم قومی گرڈ کو سولر اور گرین انرجی پر منتقل نہیں کرتے، بیٹریوں کی ری سائیکلنگ کا پائیدار نظام نہیں بناتے، اور پورے صوبے میں ٹریفک کے بہاؤ کو سائنسی بنیادوں پر منظم نہیں کرتے، اس طرح کے پراجیکٹس آدھے ادھورے ہی رہیں گے۔ پنجاب کے ماحول کو بچانے کے لیے محض بسوں کا رنگ سبز کرنے سے کام نہیں بنے گا، بلکہ پوری صنعتی، توانائی اور ٹرانسپورٹ پالیسی کو سبز بنانا ہوگا۔





