ملتان میں بڑھتا جرائم کا گراف: جدید ٹیکنالوجی کہاں، شہریوں کا تحفظ کہاں؟

تحریر: کلب عابد خان

ملتان شہر ایک بار پھر ایک ایسے سوال کے سامنے کھڑا ہے جس کا جواب صرف پریس ریلیز، اعدادوشمار یا جدید ٹیکنالوجی کے دعووں سے نہیں دیا جا سکتا: کیا عام شہری واقعی محفوظ ہے؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ ایک طرف پولیس جدید ٹیکنالوجی، سیف سٹی کیمروں، نگرانی کے نظام، ناکہ بندی، گشت اور کرائم کنٹرول کے اقدامات کا ذکر کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف شہریوں اور تاجروں کی شکایات یہ ہیں کہ وارداتوں کا خوف ختم نہیں ہو رہا۔فروری 2026 میں ملتان پولیس نے پہلے 45 دنوں میں مجموعی جرائم میں نمایاں کمی کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ ڈکیتی، موٹر سائیکل چھیننے اور چوری کے واقعات میں بھی کمی کے اعدادوشمار پیش کیے گئے تھے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سرکاری اعدادوشمار میں کمی اور شہری کے روزمرہ احساسِ تحفظ کے درمیان یہ فاصلہ کیوں ہے؟

ملتان جیسے بڑے شہر میں صرف یہ کافی نہیں کہ جدید کیمرے نصب کر دیے جائیں۔ کیمرہ جرم کو ریکارڈ کرسکتا ہے، مجرم کی شناخت میں مدد دے سکتا ہے، لیکن جرم روکنے کے لیے موقع پر موجود پولیس، فوری رسپانس، مؤثر تفتیش اور ذمہ دار افسران بھی ضروری ہیں۔آج شہری یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر کسی بازار، بینک، سڑک یا رہائشی علاقے میں واردات ہو جائے تو پولیس کتنی دیر میں موقع پر پہنچتی ہے؟ کیا تھانے کا افسر خود جائے وقوعہ پر پہنچتا ہے؟ کیا متاثرہ شہری کی درخواست فوری درج ہوتی ہے؟ کیا تفتیشی افسر متاثرہ شخص کو بار بار تھانے کے چکر لگانے سے بچاتا ہے؟یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ تھانوں میں کام کرنے والے افسران اور اہلکاروں پر بیک وقت بے شمار ذمہ داریاں عائد ہیں۔ عدالتوں میں پیشیاں، تفتیشی مقدمات، امن و امان، وی آئی پی ڈیوٹیاں، احتجاج، جلوس، ناکہ بندی اور دیگر سرکاری ذمہ داریاں پولیس کی عملی استعداد کو متاثر کرتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جس پولیس افسر کو شہری کے دروازے پر ہونا چاہیے، وہ کبھی عدالت میں، کبھی کسی سرکاری ڈیوٹی میں اور کبھی دفتری امور میں مصروف نظر آتا ہے۔

یہاں ایک بنیادی اصلاح کی ضرورت ہے: افسران کو دفاتر سے نکل کر تھانوں اور جائے وقوعہ تک پہنچنا ہوگا۔اعلیٰ پولیس افسر اگر باقاعدگی سے تھانوں کا اچانک معائنہ کریں، زیرِ التوا درخواستوں کا ریکارڈ دیکھیں، متاثرہ شہریوں سے براہِ راست بات کریں اور تفتیشی افسران سے مقدمات کی پیش رفت پوچھیں تو پولیس اور شہری کے درمیان اعتماد کی وہ دیوار ٹوٹ سکتی ہے جو آج کئی جگہ محسوس ہوتی ہے۔صرف یہ کافی نہیں کہ شہری افسر کے دفتر پہنچے اور گھنٹوں انتظار کرے۔ افسر کو بھی کبھی شہری کے تھانے تک جانا ہوگا۔خاص طور پر تاجروں کے لیے صورتحال مزید تشویشناک ہے۔ ایک تاجر پہلے ہی بجلی، گیس، ٹیکس، کرایوں، مہنگائی اور کاروباری اخراجات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ اگر دکان بند کرنے کے بعد گھر جاتے ہوئے اسے یہ خوف ہو کہ راستے میں موٹر سائیکل سوار مسلح افراد روک سکتے ہیں، اگر بینک سے رقم لے جاتے ہوئے اسے اپنی جان و مال کا خطرہ محسوس ہو، اگر مارکیٹ میں واردات ہو اور اسے فوری پولیس رسپانس پر اعتماد نہ ہو تو کاروباری سرگرمی بھی متاثر ہوتی ہے۔

حال ہی میں ملتان میں چونگی نمبر 9 کے قریب میزان بینک سے متعلق ڈکیتی کا واقعہ بھی شہری حلقوں میں شدید تشویش کا باعث بنا۔ دستیاب مقامی رپورٹنگ کے مطابق اس واردات میں ملوث ملزمان کے خلاف بعد ازاں کارروائی اور مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی۔ یہاں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ ملزمان پکڑے گئے یا مارے گئے۔ اصل سوال یہ ہے کہ واردات ہوئی کیوں؟اگر پولیس جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے، سیف سٹی کیمرے موجود ہیں، کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ موجود ہے اور مختلف سطحوں پر نگرانی کا نظام قائم ہے تو پھر شہری یہ جاننا چاہتے ہیں کہ جرم ہونے سے پہلے اسے روکنے کے لیے عملی حکمتِ عملی کیا ہے؟
کسی واردات کے بعد ملزم گرفتار ہو جائے تو یہ پولیس کی ذمہ داری کا ایک حصہ ضرور ہے، لیکن شہری کے لیے اصل کامیابی یہ ہوگی کہ واردات ہونے ہی نہ دی جائے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ پولیس مقابلوں اور ملزمان کی ہلاکت کے معاملات میں مکمل قانونی اور شفاف طریقہ کار اختیار کیا جائے۔ ہر واقعے کی غیر جانب دار تفتیش، شواہد کی حفاظت اور قانون کے مطابق کارروائی ہی پولیس پر عوامی اعتماد کو مضبوط کرسکتی ہے۔ کسی بھی واقعے کی اصل حقیقت کو صرف ایک سرکاری بیان تک محدود رکھنے کے بجائے شواہد اور قانونی کارروائی کے ذریعے واضح کیا جانا چاہیے۔دوسری طرف وی آئی پی موومنٹ اور اعلیٰ شخصیات کے دوروں کے دوران پولیس کی غیر معمولی تعیناتی بھی ایک مستقل سوال ہے۔ اگر شہر کے بڑے حصے کی نفری ایک مخصوص دورے کی سکیورٹی پر مرکوز ہو جائے تو عام شہریوں کی حفاظت کے لیے دستیاب وسائل پر لازماً اثر پڑتا ہے۔ وزیراعلیٰ یا کسی بھی اعلیٰ شخصیت کی سکیورٹی اپنی جگہ اہم ہے، مگر عام شہری کی جان و مال بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

افسران کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کسی اہم دورے کے وقت صرف شہر کو چند گھنٹوں کے لیے صاف ستھرا اور پرسکون دکھانا کافی نہیں۔ اصل کارکردگی وہ ہے جو وزیراعلیٰ کے قافلے کے گزرنے کے بعد بھی قائم رہے۔
ملتان کے شہریوں کو ایسی پولیسنگ چاہیے جو صرف دفتر میں بیٹھ کر رپورٹ نہ بنائے بلکہ گلی، بازار، چوک، تھانے اور جائے وقوعہ پر نظر آئے۔اگر کسی شہری کی متعدد درخواستیں زیرِ التوا ہیں تو اس کی شکایت کا جائزہ لیا جائے۔ اگر کسی تھانے میں ایف آئی آر کے باوجود تفتیش آگے نہیں بڑھ رہی تو اعلیٰ افسر اس کا ریکارڈ طلب کرے۔ اگر کسی علاقے میں مسلسل موٹر سائیکل چوری، موبائل چھیننے یا ڈکیتی کی وارداتیں ہو رہی ہیں تو وہاں خصوصی گشت اور انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کی جائے۔ملتان پولیس نے پہلے بھی جرائم میں کمی کے اعدادوشمار پیش کیے ہیں اور مختلف گینگز کے خلاف کارروائیوں اور گرفتاریوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اعدادوشمار کے ساتھ شہری کا اعتماد بھی بحال کیا جائے۔

کیونکہ ریاست کی کامیابی صرف یہ نہیں کہ پولیس کتنے ملزمان گرفتار کرتی ہے؛ ریاست کی اصل کامیابی یہ ہے کہ ایک عام شہری رات کو اپنے گھر سے نکلتے ہوئے خود کو محفوظ سمجھے۔آج ضرورت ہے کہ تھانوں میں افسران کی موجودگی بڑھائی جائے، فیلڈ افسران کو ضروری گاڑیاں اور نفری فراہم کی جائے، شکایات کے فوری ازالے کا مؤثر نظام بنایا جائے، سیف سٹی کیمروں کو صرف ریکارڈنگ نہیں بلکہ فوری رسپانس کے نظام سے جوڑا جائے اور ہر حساس مقام پر پولیس گشت کو نتیجہ خیز بنایا جائے۔چور اور ڈاکو اگر قانون کی کمزوری محسوس کریں گے تو ان کا حوصلہ بڑھے گا، لیکن اگر ریاستی ادارے بروقت، مؤثر اور قانون کے مطابق حرکت کریں گے تو جرائم پیشہ عناصر کے لیے شہر میں آزادانہ نقل و حرکت مشکل ہو جائے گی۔

ملتان کے شہری پہلے ہی مہنگائی کی مار برداشت کر رہے ہیں۔ ان سے ان کا سکون اور تحفظ بھی نہ چھینا جائے۔
شہر کو صرف کیمروں کی نہیں، کیمروں کے پیچھے متحرک پولیسنگ کی ضرورت ہے۔
ملتان کو صرف جدید دفاتر نہیں، شہریوں کے درمیان موجود افسران چاہییں۔
اور سب سے بڑھ کر، شہری کو یہ یقین چاہیے کہ مشکل وقت میں ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
کیونکہ جب شہری پولیس کو دیکھ کر مطمئن ہونے کے بجائے یہ سوچنے لگے کہ شکایت کہاں اور کس کے پاس لے کر جاؤں، تو مسئلہ صرف جرائم کا نہیں رہتا—مسئلہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا بن جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں