تحریر: کلب عابد خان
پاکستان کی معیشت کے حوالے سے ہر چند روز بعد کوئی نہ کوئی ایسی خبر سامنے آتی ہے جو عام آدمی کو حیران کرنے کے بجائے اب پریشان کرنے لگی ہے۔ کبھی پٹرول مہنگا، کبھی بجلی کے بل میں اضافہ، کبھی نئے ٹیکس، کبھی نئے سرچارج اور کبھی کسی نئے قرضے کی خبر۔ لیکن حالیہ خبر نے تو معاشی نظام کے پورے ڈھانچے پر ایک ایسا سوال کھڑا کر دیا ہے جس کا جواب حکومت کو ضرور دینا چاہیے۔ خبر یہ ہے کہ پاکستان اپنے ٹیکس وصول کرنے والے ادارے، یعنی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی اصلاحات کے لیے ایشین ڈویلپمنٹ بینک سے 200 ملین ڈالر کا قرض لینے جا رہا ہے۔ذرا رک کر اس خبر کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ جس ادارے کا بنیادی کام ریاست کے لیے ٹیکس اکٹھا کرنا ہے، اس ادارے کو بہتر بنانے کے لیے بھی ہم قرض لے رہے ہیں۔ یعنی ٹیکس وصول کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں، اس لیے قرض لیا جائے گا، قرض سے ٹیکس وصول کرنے والا ادارہ بہتر بنایا جائے گا، پھر اس ادارے کے ذریعے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا جائے گا اور آخرکار اس قرض کی واپسی بھی پاکستانی عوام ہی کریں گے۔
یہ صورتحال اپنے اندر ایک عجیب معاشی المیہ رکھتی ہے۔
ٹیکس چوروں کے ملک میں ٹیکس وصولی کے لیے بھی قرض!
یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ ہمارے پورے ٹیکس نظام کی تصویر ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ رقم ایف بی آر کی اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی، ٹیکس نظام کی بہتری، ٹیکس بیس بڑھانے اور ریونیو وصولی میں اضافے کے لیے استعمال ہوگی۔ بلاشبہ پاکستان کو ایک جدید، شفاف اور مؤثر ایف بی آر کی ضرورت ہے۔ ایسا ادارہ جو ٹیکس چوری روک سکے، معیشت کو دستاویزی بنا سکے اور ان لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لا سکے جو اپنی اصل آمدنی کے مقابلے میں انتہائی کم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کام اب کیوں؟گزشتہ کئی دہائیوں سے ایف بی آر کے بجٹ میں اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ ہزاروں افسران و اہلکار موجود ہیں۔ دفاتر موجود ہیں، ٹیکنالوجی موجود ہے، ڈیٹا موجود ہے اور ریاست کے پاس ہر شہری اور کاروبار کی بہت سی معلومات بھی موجود ہیں۔ اس کے باوجود اگر آج ہمیں ایف بی آر کو ٹھیک کرنے کے لیے 200 ملین ڈالر کا قرض لینا پڑ رہا ہے تو پھر گزشتہ برسوں میں ہونے والی اصلاحات کا حساب کون دے گا؟ یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان میں ٹیکس وصولی کا سب سے آسان ہدف کون ہے؟ جو شخص پہلے ہی ٹیکس دے رہا ہے۔ ایک تنخواہ دار شخص کی آمدنی سے ٹیکس پہلے ہی کاٹ لیا جاتا ہے۔ بجلی کے بل پر ٹیکس، موبائل فون کے استعمال پر ٹیکس، خریداری پر ٹیکس، پٹرول پر ٹیکس اور لیوی، مختلف خدمات پر ٹیکس—عام پاکستانی جس طرف دیکھتا ہے، اسے ٹیکس ہی ٹیکس نظر آتا ہے۔
لیکن دوسری طرف سوال یہ ہے کہ کیا ملک کی تمام بڑی آمدنی، بڑے کاروبار، بڑے اثاثے اور بڑے منافع بھی اسی تناسب سے ٹیکس نیٹ میں ہیں؟
اگر نہیں، تو پھر مسئلہ عوام سے مزید ٹیکس لینے کا نہیں بلکہ ٹیکس چوری روکنے کا ہے۔اور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے حکومت کو سمجھنا ہوگا۔پاکستان میں جب حکومت کو ریونیو کی ضرورت پڑتی ہے تو عموماً آسان راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ پٹرول پر لیوی بڑھا دی جاتی ہے، بجلی کے بلوں میں مزید ٹیکس شامل کر دیے جاتے ہیں، مختلف اشیاء پر بالواسطہ ٹیکس بڑھا دیے جاتے ہیں اور پھر عوام کو بتایا جاتا ہے کہ ملکی معیشت کو بچانے کے لیے یہ سب ضروری ہے۔لیکن عام آدمی پوچھتا ہے کہ آخر ہر مرتبہ قربانی وہی کیوں دے؟پٹرولیم لیوی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ پٹرول کی قیمت میں صرف عالمی منڈی کا اتار چڑھاؤ ہی شامل نہیں ہوتا بلکہ ٹیکسز اور لیوی بھی عام صارف کی جیب پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو صرف موٹر سائیکل یا گاڑی چلانے والے کا خرچ نہیں بڑھتا۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، سبزی اور پھل مہنگے ہوتے ہیں، دودھ اور روزمرہ کی اشیاء مہنگی ہوتی ہیں اور کاروبار کی لاگت بڑھتی ہے۔یعنی پٹرول کی قیمت بڑھنے کا اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہے۔
اس صورتحال میں اگر ایک طرف حکومت عوام سے بھاری ٹیکس اور پٹرولیم لیوی وصول کر رہی ہو اور دوسری طرف ایف بی آر کو بہتر بنانے کے لیے غیر ملکی قرض لے رہی ہو تو عوام کا سوال بالکل جائز ہے۔
آخر ٹیکس کا نظام مضبوط کرنے کی قیمت بھی عوام ہی کیوں ادا کرے؟ 200 ملین ڈالر معمولی رقم نہیں۔ یہ رقم اگر واقعی ایف بی آر کی اصلاحات پر خرچ ہونی ہے تو قوم کو اس کا نتیجہ بھی نظر آنا چاہیے۔ حکومت کو واضح طور پر بتانا چاہیے کہ اس قرض سے کیا خریدا جائے گا، کون سا نظام بنایا جائے گا، کتنے ٹیکس دہندگان نئے شامل ہوں گے، ٹیکس چوری میں کتنی کمی آئے گی اور قومی خزانے کی آمدنی میں کتنے ارب روپے کا اضافہ ہوگا۔
صرف کمپیوٹر خریدنے، سافٹ ویئر بنانے اور نئے منصوبے شروع کرنے کو اصلاحات نہیں کہا جا سکتا۔ اصلاحات کا اصل مطلب یہ ہے کہ جس شخص کی آمدنی کروڑوں میں ہے، وہ قانون کے مطابق ٹیکس دے؛ جس کے پاس اربوں کے اثاثے ہیں، اس کا ریکارڈ ریاست کے پاس ہو؛ اور جو ٹیکس چوری کرتا ہے، وہ قانون سے بچ نہ سکے۔دوسری طرف ایمانداری سے ٹیکس دینے والے شہری کو ہر سال نئے نوٹس، نئے فارمز اور نئی پیچیدگیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ پاکستان میں ٹیکس نظام کو خوف کا نظام نہیں بلکہ اعتماد کا نظام بنانا ہوگا۔
اگر ایک چھوٹا کاروباری شخص یہ دیکھے گا کہ وہ باقاعدگی سے ٹیکس دے رہا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ایک بڑا کاروبار اپنی اصل آمدنی چھپا کر کم ٹیکس دے رہا ہے تو اس کے اندر بھی ٹیکس دینے کا جذبہ کم ہوگا۔
ریاست کو یہ تاثر ختم کرنا ہوگا کہ ٹیکس صرف کمزور اور دستاویزی طبقہ دیتا ہے جبکہ طاقتور طبقہ راستہ نکال لیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ 200 ملین ڈالر کا یہ قرض صرف ایف بی آر کی اصلاحات کا منصوبہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے پاکستان کے ٹیکس کلچر کی اصلاح کا منصوبہ بنانا چاہیے۔ہمیں ایسا ایف بی آر چاہیے جو عام شہری کو خوفزدہ نہ کرے بلکہ ٹیکس چوری کرنے والے بڑے مگرمچھوں تک پہنچے۔ہمیں ایسا ایف بی آر چاہیے جو جدید ڈیٹا اور ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے یہ معلوم کر سکے کہ کون شخص کتنی آمدنی رکھتا ہے، کتنی جائیدادیں رکھتا ہے، کتنی گاڑیاں استعمال کرتا ہے، کتنے کاروبار چلا رہا ہے اور اس کے مقابلے میں کتنا ٹیکس ادا کر رہا ہے۔اگر ریاست کے پاس یہ معلومات موجود ہیں تو پھر سوال صرف ایک ہے:عملدرآمد کیوں نہیں؟
حکومت کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ قرض لے کر ایف بی آر کو بہتر بنانے کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ چند سال بعد پھر نیا قرض لے کر اسی ادارے کی دوسری اصلاحات کی جائیں۔یہ قرض آخری راستہ ہونا چاہیے، مستقل سہارا نہیں۔پاکستان کو ایسی معیشت بنانا ہوگی جو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے بار بار عالمی مالیاتی اداروں کی طرف نہ دیکھے۔ ہمیں قرضوں کے بجائے اپنے ٹیکس نظام کو مضبوط کرنا ہوگا، برآمدات بڑھانا ہوں گی، غیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی بنانا ہوگا اور سب سے بڑھ کر ٹیکس چوری کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرنا ہوگی۔حکومت اگر واقعی 200 ملین ڈالر کے اس قرض کو کامیاب بنانا چاہتی ہے تو ایک اصول طے کر دے:
آئندہ پاکستان میں ریونیو بڑھانے کا آسان راستہ پٹرول مہنگا کرنا نہیں، ٹیکس چوری پکڑنا ہوگا۔عوام مزید بوجھ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں۔ عام آدمی مہنگے پٹرول، مہنگی بجلی، مہنگی خوراک، مہنگی تعلیم اور مہنگے علاج کے درمیان پہلے ہی پس چکا ہے۔
اب اسے یہ بتانا کافی نہیں کہ قومی معیشت مشکل میں ہے۔
اسے یہ بھی بتانا ہوگا کہ مشکل کا بوجھ کون اٹھائے گا؟
اگر ہر بار جواب غریب اور متوسط طبقہ ہے تو پھر ٹیکس اصلاحات کا دعویٰ ادھورا ہے۔
200 ملین ڈالر کا قرض لیا جائے، ایف بی آر کو جدید بنایا جائے، ٹیکس چوری روکی جائے، ٹیکس بیس وسیع کیا جائے—یہ سب اچھی باتیں ہیں۔ مگر قوم کو نتیجہ چاہیے۔
کیونکہ یہ قرض حکومت اپنی جیب سے واپس نہیں کرے گی۔
یہ قرض بھی عوام نے واپس کرنا ہے۔
اور اگر قرض بھی عوام نے واپس کرنا ہے، پٹرول پر لیوی بھی عوام نے دینی ہے، بجلی پر ٹیکس بھی عوام نے دینا ہے اور روزمرہ کی اشیاء پر بالواسطہ ٹیکس بھی عوام نے ادا کرنا ہے تو پھر حکومت کو کم از کم اتنا ضرور یقینی بنانا چاہیے کہ ٹیکس چوروں سے ٹیکس وصول کرنے کی ذمہ داری بھی پوری کی جائے۔ورنہ آنے والی نسلیں ہم سے یہی سوال کریں گی:ٹیکس وصول کرنے والے ادارے کو ٹھیک کرنے کے لیے قرض لیا گیا، قرض عوام نے واپس کیا، ٹیکس بھی عوام نے دیا، پٹرول بھی عوام نے مہنگا خریدا—تو پھر ٹیکس چور کون تھا؟پاکستان کو نئے ٹیکسوں سے زیادہ نئے ٹیکس کلچر کی ضرورت ہے۔اور ایف بی آر کو صرف مزید پیسوں کی نہیں، مزید کارکردگی، شفافیت، جدید ٹیکنالوجی اور بلاامتیاز احتساب کی ضرورت ہے۔تب ہی 200 ملین ڈالر کا قرض ایک اور قرض نہیں بلکہ پاکستان کے معاشی مستقبل میں حقیقی سرمایہ کاری ثابت ہوگا۔





