ڈاکٹر پاکستان کے، مستقبل بیرونِ ملک؟

تحریر: کلب عابد خان

پاکستان میں ہر سال ہزاروں نوجوان میڈیکل کالجز میں داخلہ لیتے ہیں، برسوں محنت کرتے ہیں، اپنے والدین کی جمع پونجی خرچ کرتے ہیں، ریاست ان کی تعلیم اور تربیت پر وسائل صرف کرتی ہے اور پھر جب یہ نوجوان ڈاکٹر بن کر ملک کی خدمت کے قابل ہوتے ہیں تو بڑی تعداد میں بیرونِ ملک جانے کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہم ڈاکٹر پیدا کر رہے ہیں یا بیرونِ ملک کے لیے ڈاکٹر تیار کر رہے ہیں؟
2025 میں پاکستان سے تقریباً چار ہزار ڈاکٹرز کے ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک منتقل ہونے کی بات سامنے آتی ہے۔ یہ کوئی معمولی تعداد نہیں۔ 2010 کے بعد اس رجحان میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک وقت تھا جب تقریباً پندرہ سو سے دو ہزار ڈاکٹرز ہر سال پاکستان چھوڑ کر بیرونِ ملک جاتے تھے، مگر اب یہ تعداد چار ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں یہ مسئلہ صرف ڈاکٹروں کے ملک چھوڑنے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پاکستان کے پورے صحت کے نظام کے لیے ایک سنجیدہ بحران بن جائے گا۔

صرف پنجاب کی مثال لیجیے۔ صوبے میں 17 میڈیکل کالجز ہیں جہاں ایم بی بی ایس کی تقریباً 4,951 نشستیں ہیں۔ دوسری طرف اگر تقریباً چار ہزار ڈاکٹرز ہر سال ملک سے باہر جا رہے ہیں تو سوال انتہائی سادہ مگر تشویشناک ہے کہ ہم جو ڈاکٹر پیدا کر رہے ہیں، ان میں سے کتنے واقعی پاکستان کے نظام صحت کا حصہ بن رہے ہیں؟

یہاں ایک اور پہلو بھی انتہائی اہم ہے۔ ایک ڈاکٹر صرف اپنی ڈگری لے کر تیار نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے پانچ سالہ ایم بی بی ایس کی تعلیم، اس کے بعد ہاؤس جاب، اسپیشلائزیشن کی جدوجہد، تربیت اور سالہا سال کی محنت شامل ہوتی ہے۔ ایک نوجوان ڈاکٹر کو اس مقام تک پہنچانے میں ریاست بھی کروڑوں روپے کے اجتماعی وسائل استعمال کرتی ہے اور والدین بھی لاکھوں روپے اپنی اولاد کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔

یہ نوجوان عام طالب علم بھی نہیں ہوتے۔ میڈیکل کالج میں داخلہ لینے والے اکثر طلبہ ایف ایس سی پری میڈیکل میں 95 فیصد یا اس سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کے باوجود سخت مقابلے سے گزر کر داخلہ حاصل کرتے ہیں۔ پانچ سال تک مشکل ترین مضامین، طویل امتحانات، کلینیکل تربیت، ہسپتالوں کی مصروفیات اور مسلسل ذہنی دباؤ کا سامنا کرتے ہیں۔ پھر جب وہ ڈاکٹر بن جاتے ہیں تو اگر انہیں بہتر تنخواہ، بہتر ماحول، جدید سہولیات، محفوظ کام کی جگہ، میرٹ پر ترقی اور پیشہ ورانہ عزت پاکستان میں نہیں ملتی تو وہ بیرون ملک مواقع تلاش کرنے پر مجبور کیوں نہ ہوں؟

یہاں اصل سوال ڈاکٹرز سے نہیں، ریاست سے ہے۔
کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے سوچا کہ ایک ڈاکٹر پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کرتا ہے؟ کیا صرف زیادہ تنخواہ اس کی وجہ ہے؟ یقیناً نہیں۔ تنخواہ ایک بڑا عنصر ہے، لیکن اس کے ساتھ کام کا ماحول، ڈیوٹی کے اوقات، سکیورٹی، ادارہ جاتی رویہ، سیاسی مداخلت، ترقی کے مواقع، پوسٹ گریجویٹ تربیت، جدید طبی سہولیات اور پیشہ ورانہ عزت بھی اہم عوامل ہیں۔

ایک ڈاکٹر اگر ہسپتال میں کئی کئی گھنٹے کام کرے، مریضوں کا دباؤ برداشت کرے، وسائل کی کمی کا سامنا کرے، انتظامی مسائل جھیلے، اپنی جان اور عزت کے تحفظ کے بارے میں فکر مند رہے اور اس کے مقابلے میں بیرون ملک اسے بہتر ماحول، واضح کیریئر پاتھ اور بہتر معاوضہ مل رہا ہو تو اسے روکنے کے لیے محض جذباتی اپیلیں کافی نہیں ہوں گی۔

ہم اکثر کہتے ہیں کہ ملک کے نوجوان بیرون ملک جا رہے ہیں، برین ڈرین ہو رہا ہے اور ملک کا قیمتی سرمایہ ضائع ہو رہا ہے۔ مگر ہم یہ سوال کم کرتے ہیں کہ آخر برین ڈرین ہو کیوں رہا ہے؟
اگر پاکستان ایک ذہین طالب علم کو برسوں تعلیم دیتا ہے، اس کے خاندان کو مالی مشکلات سے گزار کر اسے ڈاکٹر بناتا ہے اور پھر وہی ڈاکٹر کسی دوسرے ملک کے نظام صحت کو اپنی خدمات فراہم کرنے لگتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری پالیسی میں کہیں بنیادی خرابی موجود ہے۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک پاکستان جیسے ممالک سے تربیت یافتہ ڈاکٹرز کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ایک قابل ڈاکٹر تیار کرنے میں وقت اور پیسہ لگتا ہے۔ انہیں پہلے سے تیار، تربیت یافتہ اور تجربہ کار انسانی وسائل مل جاتے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان اپنی بہترین افرادی قوت کو روکنے میں ناکام رہتا ہے۔یہ صورتحال صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ میڈیکل ایجوکیشن کے پورے نظام کے لیے سوال ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ میڈیکل کالجز میں نشستیں بڑھانا ہی کافی ہے یا ان ڈاکٹرز کے لیے مستقبل بھی بنانا ضروری ہے۔

ہمیں ڈاکٹرز کی تعداد بڑھانے سے زیادہ ڈاکٹرز کو پاکستان میں رکھنے کی پالیسی چاہیے۔

حکومت اگر واقعی اس مسئلے کو حل کرنا چاہتی ہے تو سب سے پہلے ایک جامع National Medical Workforce Policy بنائی جائے۔ اس میں سرکاری و نجی میڈیکل کالجز سے فارغ التحصیل ہونے والے ڈاکٹرز کا ڈیٹا، ان کی ہاؤس جاب، پوسٹ گریجویٹ تربیت، ملازمت، بیرون ملک منتقلی اور ملک میں واپسی کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے۔ یہ بھی معلوم کیا جائے کہ ڈاکٹرز کن وجوہات کی بنیاد پر ملک چھوڑ رہے ہیں۔صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ڈاکٹر ملک کی خدمت کریں۔ ملک کو بھی اپنے ڈاکٹرز کے لیے ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں خدمت کرنا ان کے لیے سزا نہیں بلکہ عزت اور مستقبل کا راستہ ہو۔سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی خالی آسامیاں ختم کی جائیں، تنخواہوں اور الاؤنسز کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے، ڈیوٹی کے اوقات کو انسانی بنیادوں پر منظم کیا جائے، ڈاکٹروں اور طبی عملے کی سکیورٹی یقینی بنائی جائے، میرٹ پر ترقی کا نظام مضبوط کیا جائے اور پوسٹ گریجویٹ تربیت کے مواقع بڑھائے جائیں۔سب سے بڑھ کر ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ڈاکٹر محض ایک ملازم نہیں، قومی سرمایہ ہے۔

پاکستان میں وسائل محدود ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہر سال اپنے بہترین دماغ دوسرے ملکوں کے حوالے کرتے رہیں۔ اگر ایک ڈاکٹر کو تیار کرنے میں برسوں لگتے ہیں تو اسے ملک میں روکنے کے لیے پالیسی بنانے میں اتنی دیر کیوں؟آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اعداد و شمار دیکھ کر صرف پریس ریلیز جاری نہ کرے بلکہ اس مسئلے کو قومی ترجیح بنائے۔ کیونکہ معاملہ صرف چار ہزار ڈاکٹرز کا نہیں۔ معاملہ ان چار ہزار کے پیچھے کھڑے لاکھوں خاندانوں، اربوں روپے کے تعلیمی وسائل اور پاکستان کے مستقبل کے صحت کے نظام کا ہے۔

ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ پاکستان کا میڈیکل کالج صرف ڈگری دینے کی فیکٹری ہوگا یا ایسا ادارہ جہاں سے نکلنے والا ڈاکٹر پاکستان کے ہسپتال، پاکستان کے مریض اور پاکستان کا مستقبل سنوارے گا۔
اگر آج بھی ہم نے اس سوال کا جواب نہ دیا تو کل شاید ہمارے پاس میڈیکل کالجز تو بہت ہوں گے، لیکن ان میں سے نکلنے والے ڈاکٹرز پاکستان کے ہسپتالوں میں نہیں بلکہ دنیا کے دوسرے ملکوں کے ہسپتالوں میں مریضوں کا علاج کر رہے ہوں گے۔

ڈاکٹر ہم بنائیں، خرچ ہم کریں، تربیت ہم دیں اور فائدہ کوئی اور ملک اٹھائے—آخر یہ قومی منصوبہ بندی ہے یا قومی نقصان؟

اپنا تبصرہ بھیجیں